اشعار و غزل

غزل! باہر حصارِ یاس سے آئے تو کچھ لکھوں۔ سعدہ سلیم شمسی آگرہ

غزل

سعدیہ سلیم شمسی آگرہ

باہر حصارِ یاس سے آئے تو کچھ لکھوں
پل بھر سکون دل مرا پائے تو کچھ لکھوں,

صحرا میں کوئی پھول کھلائے تو کچھ لکھوں
یہ معجزہ بہار دکھائے تو کچھ لکھوں.

مٹ جائے اس جہاں سے تعصب کی تیرگی
ایسا کوئی چراغ جلائے تو کlچھ لکھوں .

گھیرے ہوئے ہیں صبح سے مجھکو اداسیاں
سازِ طرب اگر تو اُٹھائے تو کچھ لکھوں.

مقتل میں پابہ جولاں کسی بیگناہ کو
لایا ہے کس لئے وہ بتائے تو کچھ لکھوں

خوشبو میں لپٹا چاند دریچے سے جھانک کر
اپنا رخِ حسین دکھائے تو کچھ لکھوں .

تنہا نہ مجھکو چھوڑ کر جائےگا تو کبھی.
دل کو مرے یقین دلائے تو کچھ لکھوں.

مرجھا رہی ہیں آس کے پھولوں پتّیاں,
ابرِ بہار بن کے تو آئے تو کچھ لکھوں .

اک بار تو وہ چاکِ گریباں لئے ہوئے
دیوانہ وار سامنے آئے تو کچھ لکھوں

انسان اپنے نفس کی گردن مروڑ کر
اپنے دلوں سے بغض مٹاے تو کچھ لکھوں.

اپنی انا کی آئے وہ سرحد کو توڑ کر
راہِ ِ وفا میں پھول بچھائے تو کچھ لکھوں

کب سے کھڑی ہوں سعدیہ گم سم دیار میں
خاموشی کوئی شور مچائے تو کچھ لکھواں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close