مضامین

ہم "آہ” بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بد نام : شیخ نشاط اختر

شیخ نشاط اختر
کٹیہار (بہار)

مکرمی! کہنے کو تو ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں جسے کسی زمانے میں امن و محبت کا گہوارہ مانا جاتا تھا، جہاں بسنے والے مختلف مذاہب کے افراد کی مثالی تہذیب و ثقافت کو "گنگا جمنی” تہذیب سے موسوم کیا جاتا تھا، جہاں انسانی حقوق کی پامالی کو جرم سمجھا جاتا تھا۔
مگر یہ حالات اب تاریخ کے اوراق میں ہی ملاحظہ کۓ جاسکتے ہیں کیونکہ وہ قدیم "ہندوستان” تھا
جی ہاں! اب ہندوستان "نیا” ہوچکا ہے اور اس جدت کو پہنچنے کے بعد موجودہ ہندوستان "قبرستان” کا استعارہ بن چکا ہے جہاں "انسانیت” کا سر عام قتل کیا جارہا ہے، جہاں امن و محبت کا گلا گھونٹا جارہا ہے، "گنگا جمنی” تہذیب کو درگور کیا جارہا ہے :

یہ کیسی تصویر بنادی تم نے ہندوستان کی

اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ملک میں قانون کی کوئی حکمرانی ہی نہیں ہے۔ شدت پسند ہندو تنظیم کے غنڈے دندناتے پھر رہے ہیں پھر بھی ان کے خلاف ہر آواز کو ملک و ملت کی دشمنی اور غداری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
وہیں اسلام اور مسلمانوں پر کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔ اسلامی مراکز پہ حملے کۓ جارہے ہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرکے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے- واضح رہے کہ کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم عین ایمان ہے چنانچہ ایک صاحب ایمان اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا اگر مسلمان اس سے سمجھوتہ کر لے تو پھر خود کو مسلمان کہلانے کے لۓ اور کیابچ جاتا ہے؟
اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یہ پوری انسانیت کی توہین ہے۔
یہی پیغمبر اسلام ہیں جنہوں نے تاریکیوں کے سمندر میں غرق درندہ صفت انسانوں کو "انسانیت” کی دہلیز پہ کھڑا کیا- اپنی شمع ہدایت سے ظلم و بربریت کی تاریکیوں کو دور کیا اور امن و محبت، عدل و انصاف، کے روشنی کو عالم میں پھیلایا۔ اس وقت جبکہ لوگ خواتین کو فقط اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کا سامان تصور کرتے تھے اس نبئ برحق نے حقوق نسواں پہ زور دیا اور ان کی عظمت سے لوگوں کو روشناس کرایا۔ بیٹیاں جب درگور کی جارہی تھیں تو پیغمبر امن وامان نے ہی بیٹیوں کو جینے کا حق دلایا اور ان کو "رحمت” سے تعبیر کرکے دنیا کو ان کا مقام بتایا۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جنھیں دنیا انکار نہیں کر سکتی۔ ان پہ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں اپنے تو اپنے اغیار محققین نے بھی اپنی تحقیق کی کسوٹی پر اس نبی آخر الزماں کو کو محسن انسانیت مانا ہے۔ مگر افسوس کہ آج اس نبئ برحق سے متعلق بیہودہ بات کہی جارہی ہے۔ مختلف تہمتیں لگائی جارہی ہیں -حق و انصاف کی کوئی صدا بلند کرے تو وہ مجرم گرداناجاتا ہے۔ چنانچہ آج ہندوستانی حالات "مکی حالات” کا نقشہ اختیار کر چکے ہیں، اب یہاں قانون کو بربریت کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے، عدل و انصاف کے دو پیمانے ہو چکے ہیں اور اس کی بین دلیل حالیہ دنوں رانچی میں توہین رسالت کرنے والوں کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں جس میں مدثر اور ساحل کی شہادت ہوئی اور درجنوں مسلمان گھائل ہو گیے’ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا- ان کا جرم بس یہ تھا کہ وہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آواز بلند کررہے تھے، حق و انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اور دوسری جانب "اگنی پتھ اسکیم” کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے ملکی اموال کو بڑا نقصان پہنچایا مگر لیڈران،افسران نے ان پر دفاعی بیانات سے کام لۓ "کہ یہ تو ہمارے ہی بچے ہیں انہیں بس سمجھانے کی ضرورت ہے” اس سے مطلب بلکل صاف ہوجاتا ہے کہ بہر صورت نشانے پہ ہم ہیں یعنی ہم مظلوم ہوکر ظالم قرار دے دۓ جاتے ہیں:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اخیرمیں کہنا چاہوں گا کہ ملکی حالات کے پیش نظر مسلمان اجتماعی طور پر ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے فرقہ پرست عناصر گھٹنہ ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں۔اس کے لیے علماء، زعماء، رؤسا اور دانشوران قوم و ملت سر جوڑ کر بیٹھیں اور ایسا حل ڈھونڈ نکالیں جس سے پوری دنیا میں ملک و ملت کاکبھی بھی وقار مجروح نہ ہو سکے

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button