عجیب و غریب

گجرات میں زہریلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد 24 ہو ئی، درجنوں بیمار

احمد آباد ، 26 جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) گجرات میں نقلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے۔ بوٹاد کے بروالا کے علاوہ احمد آباد کے 4 لوگ بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔ بوٹاد میں اتوار کی شب زہریلی شراب پینے کے بعد تقریباً 4 درجن افراد کی طبیعت بگڑ گئی، جنہیں پیر کی صبح اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ شام تک شراب سے لوگوں کے مرنے کی خبریں آنے لگیں۔ بھاو نگر رینج کے آئی جی اشوک یادو نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔اس کی سربراہی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کریں گے۔ اسمبلی کے سامنے اس زہریلی شراب سانحہ کی وجہ سے اپوزیشن نے برسراقتدار بی جے پی پر بدعنوانی کا براہ راست الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گجرات میں گاندھی جی کے منع کرنے کے باوجود ہر گاؤں میں غیر قانونی شراب کی دکانیں کھل گئی ہیں۔

سیاستدان اور پولیس افسران کی ملی بھگت سے غیر قانونی شراب کا کاروبار جاری ہے۔ بھاو نگر رینج کے آئی جی اشوک یادو نے تحقیقات کے لیے گاندھی نگر سے ایف ایس ایل ٹیم کو بھی بلایا ہے ایف ایس ایل کی ٹیم شراب کے نمونے لے گی اور اس میں ملے کیمیکل کی جانچ کرے گی۔واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی دیپین بھدرن بھی بروالا کے گاؤں روجد پہنچ گئے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیل جوشی جو بھاونگر سے بروالہ پہنچے، اپنے ساتھ دیگر پولس افسران کے ساتھ ساتھ ایمبولینس وغیرہ بھی لے گئے۔بروالا کے اسپتال میں داخل بیمار لوگوں کو رات کو ہی بھاو نگر کے سول اسپتال لے جایا گیا۔دھندھوکا کے ایم ایل اے راجیش گوہل نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد آباد ضلع کی ڈم ڈوبا تحصیل کے کئی گاؤں میں اب تک ایک درجن افراد کی موت ہو چکی ہے اور دو درجن لوگوں کی حالت خراب ہے۔دوسری جانب پولیس نے گاؤں میں دیسی شراب بنانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، کہاں جا رہا ہے کہ بوٹاد، نبوئی چوکی کے قریب ایک گھر میں غیر قانونی دیسی شراب کا کاروبار جاری ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال بھی گجرات کے دورے پر ہیں اور شراب کے اس واقعہ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ گجرات میں شراب پر پابندی ہے۔ اس کے باوجود ایسے واقعات افسوس ناک ہیں۔ پابندی کے باوجود سب جانتے ہیں کہ ریاست میں شراب غیر قانونی طور پر فروخت ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ناجائز شراب کا کاروبار کس کی حفاظت میں بے خوفی سے چلتا ہے۔کانگریس کے چیف ترجمان منیش دوشی اور ترجمان منہر پٹیل نے بی جے پی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی بدعنوان پالیسی کی وجہ سے ریاست کے گاؤں سے لے کر گاندھی نگر تک بدعنوانی پھیل گئی ہے۔ عام آدمی کا جینا محال ہوگیا، مافیا اور غیر قانونی شراب کا کاروبار کرنے والوں نے پولیس اہلکاروں کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

مہاتما گاندھی کے ذریعہ گجرات میں ریاست کے قیام کے ساتھ ہی شراب پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن بی جے پی کی بدعنوان پالیسی کی وجہ سے آج شراب کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ غیر قانونی شراب کی وجہ سے کروڑوں روپے سیاست دانوں اور عہدیداروں تک پہنچتے ہیں، اس لیے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button