فقہ و فتاوی

کیا عورت طلاق کے بعد اپنی سسرال میں رہ سکتی ہے؟ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
ایک لڑکی کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی _ اس کا ایک لڑکا دس برس کا اور ایک لڑکی چھ برس کی ہے _ لڑکے کے والدین نے ناراض ہوکر لڑکے کو گھر سے نکال دیا _ لڑکی کے سابق سسر اور ساس چاہتے ہیں کہ لڑکی واپس آکر بچوں کے ساتھ اسی گھر میں رہے _ سابق سسر اپنے پوتے اور پوتی کو اپنی جائیداد میں سے کچھ ہبہ بھی کرنا چاہتے ہیں _
سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب بچوں سمیت سسرال جاکر سابق ساس سسر کے ساتھ رہ سکتی ہے ؟ کیا عورت کی طلاق کے بعد اس کا سسر اس کے لیے غیر محرم ہوجاتا ہے ؟

جواب :
لڑکی طلاق مغلّظ کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی _ البتہ اگر ساس سسر اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ رہ سکتی ہے _ عورت کا سسر اس کے لیے ہمیشہ محرم رہتا ہے ، چاہے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہو _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَحَلَاۤئِلُ اَبۡنَآئِكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡۙ (النساء :23)
"تم پر حرام کی گئیں….. تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صُلب سے ہوں۔ ”
سسر سے نکاح کی حرمت شوہر سے نکاح ہوتے ہی ثابت ہوجاتی ہے ، چاہے وہ نکاح بعد میں باقی نہ رہے _

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button