کھیل

ٹیم انڈیاکے کھانے کابیف والا بل وائرل،سوشل میڈیاصارفین نے گھیرا

ملبورن3جنوری(آئی این ایس انڈیا) ہندوستانی کرکٹ ٹیم اس وقت آسٹریلیائی دورے پر ہے ، جہاں چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلی جارہی ہے۔ ملبورن کے ایک ریستوراں میں ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کے کھانے پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔بھارت میں بیف پرہنگامہ ہوتارہاہے اوربی جے پی لیڈران مسلسل ہنگامہ کرتے رہے ہیں،کئی ریاستوں میں گائے کے گوشت پرپابندی بھی ہے۔اس کے نام پرلنچنگ بھی ہوتی رہی ہے لیکن بعض بی جے پی لیڈران کاکہناہے کہ گائے صرف بھارت میں ماتاہے۔اب بیف کاریستوراں بل وائرل ہورہاہے۔اوراتفاق سے ان میں کوئی مسلمان نہیں ہے ورنہ ٹھیکراان پرپھوڑاجاتا۔آسٹریلیائی میڈیا رپورٹس کے مطابق روہت شرما ، شبمان گل ، نویدیپ سینی ، رشبھ پانت اور پرتھوی شانئے سال کے دن میلبورن کے ایک ریستوراں میں کھاتے ہوئے دکھائے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ ریستوراں کے اندر جانا سی اے کے بائیو سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ ایک بل سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ، جس کے بارے میں ٹیم انڈیا کے کرکٹرز پر برہمی کا اظہار کیا جارہاہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اسے ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کا بل قراردیتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ بیف کے علاوہ روہت شرما، شببان گل ، رشبھ پنت ، نویدیپ سینی اور پرتھوی شا پر بائیو سیفٹی پروٹوکول توڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ، ان کھلاڑیوں کوآئسولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ، ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ اور بی سی سی آئی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے آسٹریلیائی میڈیا کی رپورٹ کو کوڑا کرکٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹرز نے کسی پروٹوکول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا تیسرا ٹیسٹ میچ 7 جنوری سے سڈنی میں کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ سیریز میں ، دونوں ٹیمیں فی الحال 1-1 سے برابر ہیں۔ اگرچہ بل درست ہے یا نہیں ، اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔سوشل میڈیا پر کچھ صارفین ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کو ٹرول کررہے ہیں ، لیکن کچھ لوگوں نے ٹیم انڈیا اور اس کے کھلاڑیوں کادفاع بھی کیا ہے۔ نیز بھارتی کھلاڑیوں کے ریستوراں کے اندر کھانا کھاتے ہوئے ویڈیو وائرل کرنے والے ٹویٹرصارفین نے بھی معذرت کرلی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close