دیوبند

کورونا کے وقت سے بند پڑی ٹرینیں چلائی جائیں: حاجی فضل الرحمان

ایم پی حاجی فضل الرحمن ریلوے میٹنگ میں شمالی ریلوے کے جنرل منیجر کو سہارنپور کے مسائل سے آگاہ کیا

دیوبند،18؍ نومبر (رضوان سلمانی) سہارنپور سے ممبر آف پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے چندی گڑھ میں انبالہ ڈویژن کی ریلوے میٹنگ میں شرکت کی اور حکام کو سہارنپور کے اہم مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے حل کا مطالبہ کیا۔ حاجی فضل الرحمان نے کہا کہ سہارنپور گھنٹہ گھر سے کچہری جانے والے کچہری پل کو چوڑا کیا جائے۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 4, ,5, 6 کے اوپر گرودوارہ روڈ سے ریزرویشن کاؤنٹر، خالصی لائن، ایس ایس ٹی آر ڈی آفس تک اوور برج بنایا جائے۔ سہارنپور سے انبالہ پسنجر ٹرین صبح 6.30 بجے بہت جلد روانہ ہوتی ہے اور اس کے بعد روزانہ ایک اور ٹرین صبح نو بجے ہے جوتاخیر سے جاتی ہے۔ مذکورہ دونوں ٹرینیں صبح 6.30 بجے کے بعد اور صبح 9 بجے سے پہلے چلائی جائیں۔ طلباء،تاجروں،مریضوں اور عام مسافرین کی سہولت کے لئے سہارنپور-انبالہ کے درمیان چلنے والی ایکسپریس ٹرین میں جنرل کوچز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ خواتین کی حفاظت کے پیش نظر ٹرین کے آخری حصے میں خواتین کوچ کو شامل نہ کریں بلکہ خواتین کے کوچ کو ٹرین کے درمیان میں شامل کریں۔ سہارنپور ریلوے پلیٹ فارم پر کوچ پوزیشن ڈسپلے بورڈ نصب کیا جائے۔ ضلع سہارنپور ڈویژنل ہیڈکوارٹر کا ضلع ہے اور پی جی آئی چنڈی گڑھ جانے والے مریضوں کے لئے صبح ٹرین کی سہولت دی جائے۔حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ چلکانہ روڈ سے شمالی یمنا کینال تک جو ٹریک لنک روڈ انبالہ ہائی وے کو گاؤں بھاؤپور ریلوے کراسنگ سے ملاتا ہے، بھاؤپور ریلوے کراسنگ پر انڈر پاس بنایا جائے۔ چلکانہ روڈ پر مذکورہ ریلوے کراسنگ پر انڈر پاس تعمیر کیا جائے جو کہ انبالہ روڈ کو کلپنا سینما اوور برج کے بعد، ڈبنی والے قبرستان کے قریب ہے، حلال پور ہائی وے ٹریک ، گھنٹہ گھر سے کچہری پل ، ہیڈ پوسٹ آفس کے سامنے ریلوے کالونی سے براست ایکسس بینک، وشال میگا مارٹ تک ریلوے کراسنگ پر ایک انڈر پاس بنایا جائے۔ سہارنپور سے انبالہ جانے والی ٹرینیں جو کورونا وبا کے دوران روکی گئی تھیں، ان ٹرینوں کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ دہرادون-سہارنپور اور چندی گڑھ کے درمیان ایک ٹرین چلائی جائے، جس سے میرے لوک سبھا حلقے کے مسافروں کو ہریانہ، پنجاب اور اتراکھنڈ جانے میں سہولت ہو گی۔ میرٹھ اور امبالہ کے درمیان چلنے والی ٹرین جو صبح پونے نو بجے سہارنپور پہنچتی تھی جو کافی دنوں سے بند ہے، اس ٹرین کو جلد از جلد شروع کیا جانا چاہیے۔ انبالہ-دہلی اور امبالہ-میرٹھ اسپیشل ٹرین جو سہارنپور کے راستے جاتی تھی، مذکورہ ٹرین کورونا وبا کے وقت سے بند ہے، جس کی وجہ سے ضلع کے لوگوں کو کافی پریشانی کاسامناہے۔اس لیے مذکورہ ٹرین کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔سہارنپور ریلوے،جو رعایت پہلے بزرگ شہریوں،خواتین اور معذور افراد کو کرایہ میں دستیاب تھی اسے بحال کیا جائے۔ سہارنپور ووڈ کرافٹ انڈسٹری کے لیے ملک اور بیرون ملک میں مشہور ہے، جہاں آنے والے مسافروں کو مدنظر رکھتے ہوئے سہارنپور اسٹیشن پر لاج کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ سہارنپور سے حیدرآباد کے راستے بنگلور یا گوا تک کوئی ٹرین نہیں ہے۔ ووڈ گارڈن سٹی ہونے کی وجہ سے لکڑی کا سامان ملک اور بیرون ملک جاتا ہے۔ لکڑی کا کاروبار کرنے والے صنعت کاروں اور کاریگروں کے لیے یہاں سے حیدرآباد اور بنگلور اور ناسک تک کوئی گاڑی نہیں ہے۔ اس لیے جو ٹرین چندی گڑھ سے بنگلور اور گوا کے لیے چلتی ہے، وہ ٹرین سہارنپور کے راستے چلائی جائے۔ سہارنپور سے لکھنؤ جانے والی ٹرین نمبر 12231/12232 میں اضافی بوگیاں لگائی جائیں۔ نوچندی ایکسپریس میں کوچ کا اضافہ کیاجائے،ا سٹار پیپر مل، سہارنپور کے قریب خان لمپورہ کے قریب انڈر پاس بنایا جانا چاہیے۔ کورونا کے دوران بند ہونے والی ٹرینوں کو دوبارہ چلایا جائے۔ ٹرین نمبر 04600، 14332 اور 14462 کا اسٹاپ گاؤں تلہیڑی بزرگ اسٹیشن پر کیا جائے۔ سہارنپور،ٹپری ناگل، میں ہسپتال روڈ کے سامنے، جو کپل وہار،اسٹار پیپر مل روڈ کو جوڑتا ہے، اس پریک انڈر پاس بنایا جانا چاہیے۔ ریلوے حکام نے رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمان کو مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button