جموں کشمیر

کشمیر میں ہندوؤں اور سکھوں کے قتل کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا ، از خود نوٹس لینے کی اپیل

کشمیر ،09 ؍اکتوبر (ہندوستان اردو ٹائمز) کشمیر میں ہندوؤں اور سکھوں کے قتل کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ دہلی کے وکیل ونیت جندل نے ملک کے چیف جسٹس جسٹس این وی رمنا کو ایک خط لکھا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔اپنے خط میں وکیل ونیت جندل نے کشمیر میں رہنے والے سکھوں اور ہندوؤں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیز انہوں نے قومی تحقیقاتی ایجنسی سے ہندوؤں اور سکھوں کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے خط میں جندل نے مرنے والوں کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپئے بطورمعاوضہ اور خاندان کے ایک فرد کوسرکاری ملازمت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔جندل نے چیف جسٹس کو لکھے اپنے خط میں کہا کہ وادی کشمیر میں قتل کے حالیہ واقعات ، خاص طور پر ہدف بنائے گئے اقلیتی برادریوں کے افراد کی ہلاکت ایک بار پھر سال 2000 میں اننت ناگ کے چھتی سنگھ پورہ گاؤں میں 36 سکھوں کے قتل عام کی یاد دلا دی ہے۔

وادی کشمیر میں گزشتہ پانچ دنوں میں سات شہریوں کا قتل ہوا جن میں سے چھافراد کا قتل شہر میں ہوا ۔ مرنے والوں میں سے چار کا تعلق اقلیتی (ہندو اور سکھ) برادری سے تھا۔ جموں و کشمیر میں عام شہریوں پر حملوں کے درمیان دہشت گردوں نے جمعرات کو سرینگر کے عیدگاہ علاقے میں ایک خاتون ہیڈ ماسٹر سمیت دو سرکاری اسکول ٹیچروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close