قومیکشمیر

کشمیری پنڈتوں کی تنظیم نے پریس کانفرنس کرکےکہا ’کشمیر فائلز‘ کو ہندو مسلم کےنقطہ نظر سے نہ دیکھیں،حکومتی مشینری کی ناکامی بتایا

نئی دہلی21مارچ (ہندوستان اردو ٹائمز) ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کی مشہور ہندی فلم دی کشمیرفائلزپراپنی سیاسی روٹی سینکی جارہی ہے۔مسئلہ کشمیر پر بنائی گئی اس فلم کو حکمران جماعت بی جے پی اور خود وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی پذیرائی ملی ہے۔ اگرچہ کشمیری پنڈتوں کے حساس موضوع پر بنی اس فلم کو کچھ لوگ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم کی وجہ سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔

دریں اثناکشمیری پنڈتوں کی ایک تنظیم گلوبل کشمیری پنڈت ڈاسپورا (جی کے پی ڈی) نے فلم اور کشمیری پنڈتوں سے متعلق مسئلے پر بات کرنے کے لیے پیر کو ایک پریس کانفرنس کی ہے۔ جی کے پی ڈی کے مطابق ہماری 20 ممالک میں تنظیمیں ہیں اور ہم نے وویک اگنی ہوتری جی سے کشمیری پنڈتوں کے مسئلہ پر فلم بنانے کی درخواست کی تھی۔ ہم نے اسے تقریباً 750 متاثرین سے ملوایا۔ شریک بانی سریندرکول نے کہاہے کہ ہمیں اپنی آواز اٹھانے کی ضرورت تھی۔ ہمارے معاشرے نے اپنے پیاروں کا خون بہادیکھا، حکومتی مشینری سمیت سب کی خاموشی دیکھی۔ انہوں نے کہاہے کہ فلم سچائی پر مبنی ہے۔ لوگوں نے فلم میں جو دیکھا وہ صرف 5 یا 10فی صدتوڑ پھوڑ ہے۔ اتنے کم وقت میں ہر چیز کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کوئی پروپیگنڈا فلم نہیں ہے۔ نفرت پھیلانا کس کے ساتھ؟ اسے ہندو مسلم کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہندو مسلم کا کوئی پولرائزیشن نہیں ہے۔ ہم کسی برادری یا ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فلم نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے،

فلم پر تنقید کے حوالے سے جی کے پی ڈی کی جانب سے کہا گیا کہ تاریخ کی سچائی افسوسناک ہوسکتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخ پڑھانا بند کر دیا جائے، 32 سال سے اس موقع کی آرزوتھی۔کچھ ریاستوں کو ٹیکس سے چھوٹ ملی اور وزیر اعلیٰ سے ٹیکس چھوٹ دینے کی درخواست بھی کی۔ہمارا تعلق کسی ونگ، پارٹی سے نہیں ہے، بی جے پی، کانگریس کسی کی نہیں، ہمارے ساتھ جو ہوا ہم اسے نہیں بھول سکتے، عالمی دہشت گردی خطرناک ہے، اس فلم کو آگے لے کر جائیں گے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button