اہم خبریں

کسان تحریک کے8ماہ مکمل : خواتین کسانوں نے جنتر منتر پر’کسان پارلیمنٹ‘ کا انعقادکیا

نئی دہلی،26جولائی(ہندوستان اردو ٹائمز) مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج کو تیز کرنے کی غرض سے پیرکو پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کی 200 کے قریب خواتین کسان قومی دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوکر’ کسان سنسد‘کا اہتمام کیا ۔کسانوں نے نعرے لگائے اور گذشتہ سال مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔پیر کے روز’کسان سنسد‘ میں ضروری اشیاء (ترمیم) ایکٹ پر توجہ مرکوزکی گئی۔ کسانوں نے ایک ایسا قانون مانگا جو کم سے کم قیمت کی ضمانت دیتا ہو۔خواتین کے’کسان سنسد‘ کی نظامت سیاستداں اور اسپیکر سبھاشنی علی نے کی ۔ اس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا۔ اس کے بعد گذشتہ 8ماہ سے جاری احتجاج میں شہیدکسانوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی رکھی گئی۔آج کی ’کساان پارلیمنٹ‘ میں خواتین کی طاقت نظر آئی کہ خواتین زراعت بھی کرسکتی ہیں اور ملک بھی چلا سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسان تینوں کالے قوانین کے خلاف احتجاج اور کم سے کم سپورٹ قیمت کا مطالبہ جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت مختلف ناموں سے ہمیں دہشت گرد اور خالصتانی کہتی رہی ہے لیکن اگر ان کے پاس طاقت ہے تو وہ ان دہشت گردوں اور خالصتانیوں کے ذریعہ تیار کردہ کھانا نہیں کھاناچاہئے۔کسان لیڈر نیتو کھنہ نے کہا کہ یہ شرمناک بات ہے کہ حکومت کسانوں کے ساتھ غلط سلوک کررہی ہے جبکہ وہی ملک کو زندہ رکھتے ہیں۔اس پارلیمنٹ میں آنے والی دیگر خواتین کاشتکاروں نے ایک آواز میں زرعی قوانین کے خاتمے کے مطالبے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close