بنگلور

کرناٹک : ڈیڑھ ہزارگاؤں میں قبرستان بنانے کا ہائی کورٹ کا حکم

بنگلور، 25جون (ہندوستان اردو ٹائمز) ہائی کورٹ کے غصے سے بچنے کے لیے کرناٹک حکومت کے محکمہ محصولات نے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ریاست کے 1,428 گاؤں میں تدفین کے لیے زمین تلاش کریں۔

 

ہائی کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ زمین فراہم کرنے میں ناکامی پر محکمہ کے پرنسپل سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے گی۔اس سلسلے میں بنگلور کے رہنے والے محمد اقبال کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ جسٹس بی ویرپا کی قیادت والی بنچ نے اس معاملے پر سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

 

محکمہ محصولات کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 29,076 گاؤں ہیں۔ان میں سے 27,648 دیہات اور 299 قصبوں میں قبرستان کی زمین الاٹ کی گئی ہے۔ شیموگا ضلع کے 1,428 گاؤں اور ایک قصبے میں زمین دی جانی ہے۔ محکمہ کا دعویٰ ہے کہ سرکاری زمین دستیاب نہیں ہے اور پرائیویٹ مالکان اپنی زمین فروخت کرنے کے لیے آگے نہیں آرہے ہیں۔ہر گاؤں میں رسم و رواج ہیں، مقامی لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور تدفین کے لیے زمین تلاش کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے یہ تمام وجوہات بتا کر اور دو سال کا وقت مانگ کر عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے ان وجوہات میں سے کسی پر بھی توجہ نہیں دی۔

 

عدالت نے نوٹ کیا کہ سنگل جج بنچ نے تین سال پہلے حکم دیا تھا۔ بنچ نے 20 اگست 2019 کو یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر حکم کی تعمیل نہ کی گئی تو پرنسپل سیکرٹری کو توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کے بعد جیل بھیج دیا جائے گا۔ڈویژن بنچ نے 9 جون کو قبرستان کے لیے زمین الاٹ کرنے کی ہدایت کی تھی جس کی محکمہ نے خلاف ورزی کی تھی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button