اہم خبریں

کرناٹک میں کانگریس کے مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کے حقوق کی اٹھائی آواز

لوک سبھا انتخابات کے پیش نظربنگلورو میں کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آنے والے لوک سبھا انتخابات میں 4 نشستوں پر مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا کانگریس ہائی کمان سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کے سبھی مسلم لیڈرایک پلیٹ فارم پر نظر آئے۔ مقصد تھا لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر پارٹی اعلی کمان پردباؤ ڈالنا۔

تمام مسلم لیڈروں نےایک آوازمیں یہ بات کہی کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کوہلکے طورپرنہ لے۔ گزشتہ انتخابات میں مسلمانوں نے ایک ہوکرکانگریس کی تائید کی تھی۔ کانگریس کی بھی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کوہرسطح پرمناسب نمائندگی دے۔ ریاست کےکل 28 پارلیمانی حلقوں میں 4 حلقوں میں مسلم امیدواروں کوٹکٹ دینےکا پُرزورمطالبہ کیا گیا۔ بنگلورو سینٹرل، بیدر، ہاویری اورمیسورسے مسلم امیدواروں کوٹکٹ دینے کی کانگریس سے مانگ کی گئی ہے۔

اس موقع پرسابق مرکزی وزرا کے رحمن خان، سی ایم ابراہیم، وزیراقلیتی بہبود اوراوقاف ضمیراحمد خان، راجیہ کے رکن ڈاکٹرناصرحسین، سابق ریاستی وزرا آرروشن بیگ، تنویرسیٹھ، نصیراحمد، سلیم احمد، پردیش کانگریس کمیٹی کےاقلیتی شعبہ کے صدر وائی سعید احمد اوردیگر مسلم لیڈروں نے اجلاس میں شرکت کی۔


کرناٹک میں کانگریس کے مسلم لیڈروں کا اجلاس بنگلورو میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں کئی لیڈروں نے کھل کراپنی ناراضگی بھی ظاہرکی۔ خاص طورپربورڈ اور کارپوریشن میں اقلیتوں کو نظرانداز کرنے، پارٹی کی کمیٹیوں میں مناسب نمائندگی نہ دینے کی شکایت کی گئی۔ اس ناراضگی کے باوجود تمام لیڈروں نے اتفاق رائے سے آنے والے انتخابات میں کانگریس کومضبوط کرنے، کانگریس امیدواروں کی بھرپور تائید کرنےاور مسلمانوں کے ووٹنگ فیصد میں اضافہ کرنے کی بات کہی۔

ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بورڈ اورکارپوریشن، قانون سازکونسل میں مناسب نمائندگی دی جائے۔ راجیہ سبھا کیلئے مزید ایک مسلم رکن کونامزد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔  ساتھ ہی آنے والے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کوشکست دینے کیلئے کانگریس اورجے ڈی ایس اتحاد کو ضروری قراردیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کو مل کرالیکشن لڑنے کا مشورہ بھی دیا گیا


Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close