بنگلور

کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی کے زیر اہتمام….بزم یوم اساتذہ کا انعقاد

اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے اندر اپنے وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کریں۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی

بنگلور (ہندوستان اردو ٹائمز) آج بروز اتوار ۵؍ستمبر۲۰۲۱ء؁ کو گلشن زبیدہ شکاری پور میں یوم اساتذہ کے موقع سے ایک مختصر مگر جامع مجلس منعقد کی گئی جس میں گلشن زبیدہ کے مختلف تعلیمی شعبوں کے اساتذہ اور چند بچوں نے شرکت کی۔ جبکہ انتظامیہ کے بہت سارے ذمہ داروں نے اپنی موجودگی سے اس مجلس کے وقار میں اضافہ کیا۔ اس مجلس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اداکیے۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ؛ اساتذہ ملک و ملّت کے معمار ہوتے ہیں۔ انہیں کی محنت سے قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ یعنی قوم کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت قابل فخر انداز میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے اندر اپنے وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کریں۔ ایک بار ان کے اندر اپنے ملک سے محبت کا سچا جذبہ پیدا ہوجائے گا تو وہ ساری زندگی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں راضی خوشی لگادیں گے۔ اس طرح قوم و ملّت نئی سربلندیاں حاصل کریں گی۔ اور ہمارا معاشرہ بھی اپنی مثال آپ بنے گا۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے ضلعی صحافتی کمیٹی کے صدر جناب ہچرایپّا نے شرکت کی ۔ انہوں نے کہا کہ دراصل اساتذہ کسی بھی سماج اور معاشرے کے بنیاد گذار ہوتے ہیں، وہ قوم کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کی جیسی بنیاد رکھتے ہیں۔ ہمارا سماج اور معاشرہ ویسا ہی بنتا ہے۔ اگر سماج میں بگاڑ نظر آنے لگے تو سمجھنا چاہیے کہ اب ہمیں تعلیم و تعلّم پر خصوصی توجہ دینی ہے۔ فاؤنڈیشن کو درست کرنا ہے۔ اور آپ یقین جانیے کہ اساتذہ ہی ہمارے سماج اور معاشرے کے فاؤنڈیشن ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری سب سے بڑھی ہوئی ہے۔
مولانا محبوب صاحب نے کہا کہ معلّم کا بڑا مرتبہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایاکہ میں معلّم ہوں۔ گویا معلمی سنتِ نبوی کی پیروی ہے۔ اس لیے معلموں کو اپنی ذمہ داری اور اپنے مرتبے کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
حافظ ناصر صاحب نے کہا کہ ہم نے زندگی میں بہت سارے اساتذہ دیکھے ہیں جو کتابیں پڑھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ مگر میں نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی شکل میںایک ایسا استاد دیکھا ہے جو چہرے پڑھنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی بات ہے۔ ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے اس موقع سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور شاگردوں میں افہام و تفہیم کا رشتہ بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بچہ سڑک پرگتے کی گاڑی چلارہا تھا ادھر سے ایک استاد کا گذر ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ بچے کی تربیت کرنی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ بیٹے تم ہاتھ سے اشارہ تو کرو کہ تمہیں بائیں مڑنا ہے، یا دائیں۔ بچے نے کہا کہ جناب یہ کار نہیں ہے۔ یہ اسپیس شپ ہے اگر میں کھڑکی کھولوں گا اور ہاتھ باہر نکالوں گا تو یہ شپ دھماکے سے اڑجائے گی۔ انہوں نے وضاحت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ بچہ اپنے خیال میں خلائی جہاز چلا رہا ہے۔ اور استاد اسے کار چلانے کی نزاکت بتا رہا ہے۔ یہ گیپ جب تک دور نہیں ہوگا استاد اور شاگرد کا رشتہ مضبوط نہیں ہوگا۔ اور نہ تعلیم کا مقصد پورا ہوگا۔ اس لیے اساتذہ کو بہت زیادہ ہوشیار اور حساس ہونا چاہیے۔
حاضرین مجلس اور مہمانان گرامی اور صدر جلسہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا استقبال امام و خطیب شاعر و ادیب مولانا مفتی محمداظہرالدّین ازہر ندوی مہتمم مدینۃ العلوم شکاری پور نے نہایت خوب صورتی سے کیا۔ اور سبھی لوگوں کا ضمنی طور پر تعارف بھی پیش کیا۔ اس مجلس میں جو چند بچے شریک تھے انہوں نے اپنے اساتذہ کو گلاب پیش کرکے اپنی محبت کا ثبوت پیش کیا۔
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی صاحب جو صدر مجلس تھے انہوں نے انکسار سے کام لیتے ہوئے خود ہی سبھی شرکاء مجلس کا شکریہ ادا کیا۔ جناب فیاض احمد صاحب صدر ایچ کے فاؤنڈیشن ،جناب انیس الرحمن نائب امیرادارہ ہٰذا۔ جناب انجینیر محمد شعیب صاحب سوپروائزر کے علاوہ مولانا محمدرضوان صاحب، ماسٹر سہیل صاحب اور دوسرے کئی اساتذہ نے شرکت کرکے اس جلسے کے وقار میں اضافہ کیا۔ اس مختصر اور جامع مجلس نے لوگوں کے دلوں پر اچھا تأثرقائم کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close