کالمز

ایک بار پھر مسلمانوں نے صبروتحمل کا ثبوت پیش کیا۔۔۔از قلم ڈاکٹر محمد صلاح الدین چھپرہ سارن بہار

اس وبائ مرض کی وجہ کر پورا عالم اسلام خصوصا مسلمانان ہند نے بہت بڑی قربانی پیش کی ہے۔ اپنے رہنما ؤں اور قائدوں کی صلاح ومشورہ پر شب براۃ؛ شب معراج ؛اور رمضان شریف کا متبرک مہینہ اور خاص طور پر عید الفطر کی نماز بھی عید گاہ اور مسجدوں میں نہیں ادا کرکے پورے ملک کے لیے ایک مثال پیش کیا ہے؟اور ہمارے مسلمان بھائیوں نے بلاامتیاز کسی بھی عقیدے ومسلک سے کیوں نہ ہوں اپنی اجتماعی اتحاد واتفاق کا ثبوت پیش کیا ہے۔
اور ملک میں مہلک وبائ مرض سے پریشان لوگوں کو بھی دل کھول کر مدد کرنے میں مسلمان پیش پیش نظر آئے۔ ان کو یہ بھی پرواہ نہیں تھی کہ انکا اپنا بھی پریوار ھے۔ خود اپنے گھروں میں کپڑا نہ لاکر غریب و نادار ؛ بے بس و لاچار مزدوروں کی خوب مدد کی ۔ جنکے لیےاپنے تو اپنے غیر بھی تعریف کرتے نظر آئے ۔۔۔۔ مسلمانوں کا یہی جذبہ تھا کہ اپنے ہندوستانی بھائیوں کی پہلے مدد کی جائے نئے کپڑے بعد میں بھی بن جائیں گے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب جب مادر وطن پر وقت آیا ہے تو مسلمانوں نے اپنا تن من دھن سارا کا سارا قربان کردیا ہے اور اپنے ملک اور اپنے بھائیوں کو بچا لیا ہے۔؟۔
اس سال سادے عیدالفطر ہونے کا جتنا غم نہیں اس سے زیادہ اپنے بھائیوں کی مدد کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیےکہ یہ قوم اللہ تعالی سے ڈرنے والی قوم ہے۔ دنیا کی کسی اور طاقت سے نہیں ڈرا کرتی ہاں صرف اور صرف تکلیف تو اس وقت ہوتی ہے جب ہمیں غدار کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔” جب وقت پڑا گلشن پے تو خون ہم نے دیا ؛؛ اور بہار آئی تو کہتے ہو تمہارا کام نہیں۔۔۔
دعاء ھے رب تعالی ھم سب کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ اچھے برے کی پہچان کے ساتھ ساتھ آپسی بھائی چارے کو بحال فرمادے۔آمین ثم آمین؟

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close