کالم

ہم آپ سے نہیں ڈرتے، اس کو غداری کا اعلان نہ سمجھا جائے :ڈاکٹر عبد اللہ فیصل

بنگال اسمبلی انتخاب میں بی. جے. پی.نےایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا.کی بنگا ل کو فتح کرلیں .فاتح بنگال بن کر پورے ملک میں بی.جے.پی.کی دھاک جم جائے اور لوگ سہم جائیں. بی.جے.ہی.کے سنیئر لیڈر پس منظر میں چلے گئے ہیں اور منظر میں آر.ایس.ایس.کے ممبران میدان میں آگئے ییں. جنکا کام ہی ہے ڈرانا دھمکانا اور مارنا ہیٹنا خوف ودہشت والی سیاست کرنا.جو تنظیم( آر.ایس.ایس) انگریزی اقتدار سےملک کو آزادی دلانے والے راشتریہ پتا مہاتماگاندھی کے قتل میں ملوث ہو وہ کن حدو ں کو پار کرسکتی ہے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں. بنگال کے انتخابات میں مودی کی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو ترنمول کانگریس سے ذلت آمیز شکست ہوگئی۔اس شکست سے بھاجپا والےمنہ لٹکاءے شرمندگی سے چھپے ہوئے ہیں نتائج کے مطابق ممتا بنرجی کی پارٹی نے نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور پارٹی کے کئی سینیئر رہنماؤں نے مغربی بنگال میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا تھا اور بی جے پی کی فتح کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے.بی.جے.پی نے انتخابی مہم کے دوران کورونا پابندیوں کو ہوا میں اڑا دیا تھا اور سماجی فاصلے کے بغیر بنا ماسک کے سڑکوں پر نکل آتے تھے اور رقص کرتے تھے بھاجپا نے قانونی حدیں پار کردی تھیں.ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں میں بی.جے.پی.نے عوام کو زبردستی لالچ اور پیسے سے ہانک کر لاتی تھی اس کے باوجود ریلیوں میں کرسیاں خالی رہتی تھی.
فلم اسٹار متھن چکر ورتی کو میدان میں اتارا گیاتھا لیکن متھن دادا کا بھی جادو نہیں چل پایا متھن نے بھاجپا سے پیسے اور عہدے کی ڈیل کر لی تھی. جبکہ ممتا دیدی نے متھن کو پہلے ہی ممبر پارلیمنٹ بنا دیا تھا متھن نے.ممتا بنرجی سے حرام خوری اور غداری کی. متھن نے اشتعال انگیز بیان دینے عوام کی توجہ اپنی جانب مبزول کرانے میں انتھک محنت جدو جہد کی لیکن بنگالی عوام نے متھن دادا اور بی جے پی.کی چنڈال چوکڑی کے منہ پر شکست کی کالک پوت دی.
ممتا بنرجی کو مودی نے ہر موقع پر ستایا پریشان کیا اور نظر انداز کیا اگر ممتا گھوٹالے کرپشن رشوت یا کسی جرم میں پائ جاتیں تو اقتدار سے نھی ہاتھ دھونا پڑتا اور جیل کی سلاخوں میں ڈال دی جاتیں. ممتا ایک غریب پرور وزیراعلیٰ صاف ستھری امیج ہے. غبن گھوٹالے گھپلے سے دور ہیں. ان کی ہمت وجرءت کو داد دینی ہوگی کی وہ مرکزی حکومت کے ظالمانہ کاروایئیوں کے سامنے ڈٹی رہیں.
میں بھی دنیا کی طرح جینے کا حق مانگتی ہوں.
اس کو غداری کا اعلان نہ سمجھا جائے.
ممتا نے بنگالی عوام کو مودی شاطر امیت کے ناپاک منصوبے سے آگاہ کیاکہ.
نئے کردار آتے جارہے ہیں.
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے.
بی. جے.پی.نے راہ میں کانٹے بچھائے ممتا دیدی نے یہ کام کیا کہ کانٹو سے گزر جاتی ہوں دامن کو بچا کر …
دوسری جانب ایک اور ریاست تامل ناڈو میں بھی بی جے پی کی اتحادی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے بی جے پی کے ناپاک عزائم وارادوں کو دھچکا پہنچایا ہے.

بنگال کی ریاست بڑی ریاستوں میں سے مانی جاتی ہے.اسمبلی ممبران کی تعداد تین سو ہے اور کمیونسٹ حکومت تیس پینتس سال تک حکومت کی لیکن اس نے عوام کو پریشان کیا اور راحت پہنچانے میں ناکام رہی.جیتو بسو طویل عرصے تک وزیر اعلیٰ رہے عوامی مقبولیت ضرور تھی ترقیاتی کاموں میں بہت پیچھے رہے.
بی.جے.پی نے کون سا حربہ ہے جو اس نے استعمال نہ کیا ہو لیکن وہاں کی عوام انتہائ بیدار اور ہوشیارہے کی مودی امیت کے جھانسے میں نہیں آئے.
عوام کو پتہ ہے کی مودی امیت شاہ جھوٹ کے پلندہ ہیں.جھوٹ اور مکر وفریب کے ذریعہ مرکز میں اور کئ ریاستوں میں برسر اقتدار ہیں. جبکہ بھاجپا کے پاس کوئ تعمیری وترقیاتی منشور نہیں ہے صرف فرقہ پرستی اور خوشگوار ماحول کو خراب کرنے عوام کو لڑانے ہندو مسلم میں دوریاں پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے.
آج ملک کی حا لت اتنی خراب ہے کی کبھی تھی ہی نہیں.
ملک کی چیزیں فروخت ہو رہی ہیں ائیر پورٹ ریلوے لال قلعہ کو گروی رکھ دیا گیا اور کئ ادارے بک چکے ہیں.لیکن اندھ بھگت ابھی بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہے ہیں.ممتا بینرجی انڈیا کی ایسی پہلی خاتون وزیر اعلی ہیں جو مسلسل تیسری بار وزیر اعلی کے عہدے پر منتخب ہوئی ہیں۔ انھوں نے ملک کی سب سے طاقتور حکمراں جماعت بی جے پی کو شکست دی ہے۔بنگال میں ان کے خلاف وزیر اعطم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک طویل انتخابی مہم چلائی تھی۔ بی جے پی کی غیر معمولی مہم کے زیر اثر انتخابات کے آخری مراحل آتے آتے میڈیا اور تجزیہ کار بھی ممتا بینرجی کی شکست کی پیش گوئیاں کرنے لگے تھے۔یہ انتخابات مجموعی طور پر 294 سیٹوں کی اسمبلی میں سے 292 سیٹوں کے لیے منعقد ہوئے۔ ان میں سے ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس نے دوسو دس سیٹیں حاصل کیں.مودی تو ہندوؤں کے دیوتا ہیں، انھیں کیسے ہرا یا جاسکتا ہے. اس طرح کے جملے انتخابی سرگرمیوں میں استعمال کئیے گئے.
شکست کے باوجود بی جے پی ریاست میں اپوزیسن پارٹی بن گئی ہے، اسے کل 77 سیٹیں ملی ہیں۔ بنگال سے کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سنہ 2016 کے انتخابات میں بی جے پی کو محض دس فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس بار اسے 38 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ممتا بنرجی نے بی جے پی سے زبردست ٹکر لی ہے ان کی کوہ شکن ہمت نے مودی وامیت شاہ کے عزائم کو خاک میں ملادیا ہے.
بی جے پی نے اپنے لیے ایک بڑا ہدف مقرر کیا تھا۔ یہ ایک لمبی چھلانگ لگانے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن عوام نے ان کے مزموم عزائم پر پانی پھیر دیا. بھاجپا جہموریت وعوام کے لئیے بڑا خطرہ ہے.
ممتا بینر جی نے اپنی غیر معمولی جیت کو عوام اور جمہوریت کی جیت قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘ریاست کے عوام نے ملک کی جمہوریت اور ملک کو بچا لیا ہے۔ بنگال کی جیت کا ملک کی سیاست پر گہرا اثر پڑے گا۔ ‘بنگال کے عوام بیدار ہیں، انھوں نے یہ بتا دیا ہے کہ ملک میں نفرت اور پھوٹ ڈالنے کی سیاست نہیں چلے گی۔ آج جو بنگال نے کیا ہے، کل وہ پورا ملک کریگا۔’انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو بی جے پی آسام میں تو دوبارہ اقتدار میں آ گئی ہے لیکن وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کیرالہ اور تمل ناڈو کی جنوبی ریاستوں میں شکست سے دو چار ہوئ.
بنگال میں بی.جے. پی نے جتنی ریلیاں کیں جلسے کئیے وہ سب فلاف رہے.شاطر سیاست داں امیت شاہ نے نفرت وتشدد پیھلانے والی تقریریں کی عوام کو جذبات میں لانے کا کام کیا ہر ریلی میں جلسے میں "جے شری رام” کے نعرے لگوائے گئے اور کہاگیا کی جے شری رام یہاں نہیں لگیں گے تو کیا پاکستان میں.لگیں گے؟ پاکستان کا نام لیکر ہندو ووٹرو ں کو بانٹنے کا کام کیا جبکہ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا غیر قانونی ہے لیکن مودی امیت قانو ن کو روندتے آرہے ہیں.ہر چھوٹے بڑے انتخابات میں مذہب کے نام پر ریلیاں وجلسے کرتے ہیں جلوس نکالتے ہیں نفرت وتشدد پھیلانے والے پوسٹر ہینڈ بل شائع کرکے ہندو مسلم میں پھوٹ ڈالنے ولڑانے کا کام کرتے ہیں. لیکن بنگال کے بیدار عوام نے بی جے.بی. کو مسترد کردیا.

الیکشن سے قبل ممتا بنرجی کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالنے کا پلان بھی کیا گیا ان پر پر حملے کراءےگئے.عرصہء حیات تنگ کرنے کی بھر پور کوشش کی گئ .حکومت بننے کے بعد بنگال کے کئ اہم ترین لیڈروں ووزراء کی بے جا گرفتاری ہوئ اور حکومت بنگال کو دھمکانے ڈرانے پریشان کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا لیکن ممتا بنرجی چٹان بنی ہوئ ہیں اور اپنے موقف پر اٹل ہیں اور کہا کی ہم ان سے نہیں ڈرتے ہیں!
سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر.
یہی ہے موقع اظہار آؤسچ بولیں.
لیکن مجھے ڈر ہے کی مودی امیت شاہ پورے دیش کو برباد کر رہے ہیں کوئ تعمیری وترقیاتی کام ہے ہی نہیں. صرف ہندو مسلم میں نفرت وتشدد پھیلانے کا کام ہے کی ہندو خطرے میں ہے..جب کی بھاجپا کے کردار سے سب پریشان ہیں.
ہندو بھی سکوں سے ہے مسلمان بھی سکوں سے.
انسان پریشان ہے یہاں بھی ہے وہاں بھی.

مضمون نگار: المصباح کے ایڈیٹر ہیں. 9892375177
almisbah98@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close