کالم

کیا سعودی عرب و ایران کے رشتوں پہ جمی برف پگھلے گی..؟ عباس دھالیوال

عباس دھالیوال ،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب
Abbasdhaliwal72@gmail.com

پچھلی قریب چار دہائیوں سے سعودی عرب و ایران کے مابین تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں. مبصرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب اور ایران گزشتہ کئی برسوں سے لبنان، عراق اور یمن میں ایک دوسرے کے خلاف درپردہ جنگ لڑ رہے ہیں۔جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں کے تعلقات میں کشیدگی اس وقت آگئی تھی جب سعودی عرب کی جانب سے 2016 میں ملک میں شیعہ اقلیت پر سب سے زیادہ رسوخ رکھنے والے عالم دین شیخ نمر النمر کو ’دہشت گردی‘ اور ’بغاوت‘ کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی لگا دیا تھا. جس کے نتیجے میں تہران میں ایک مشتعل ہجوم کی طرف سے سعودی سفارتخانے کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے بیچ سفارتی تعلقات خراب ہوگئے تھے.
اس کے علاوہ ایران کے اتحادی یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے تھے۔
ستمبر 2019 میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی ایک بڑی تنصیبات پر ڈرون حملے کے باعث ملک کو اپنی تیل کی پیداوار کا 50 فیصد کم کرنا پڑا تھا۔ سعودی عرب نے اس حملے کا ذمہ دار تہران کو ٹھہرایا تھا جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے والی جو خبریں سامنے آرہی ہیں وہ یقیناً خطے کے لیے اچھا شگون کہی جا سکتی ہیں.
گزشتہ دنوں سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے انٹرویو سے جو تاثرات ابھر کر سامنے آئے ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی دونوں ممالک کے رشتوں پہ جمی برف جلد پگھل سکتی ہے. پرنس محمد بن سلمان کا یہ کہنا کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ہم ایران کے ساتھ اچھے اور خاص تعلقات کے خواہاں ہیں. ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ کہنا رشتوں کو استوار کرنے کی جانب اپنے آپ میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہے.
پرنس کا مذکورہ بیان ایسے وقت میں آیا جبکہ عرب اور ایران کے افسران کے درمیان عراق میں ایک خفیہ ملاقات کی خبریں سامنے آنے کے چرچے زوروں پر ہیں .
بھلے ہی اس ضمن میں سعودی عرب نے اس طرح کی ملاقات والی خبروں سے انکار کیا ہو لیکن جہاں تک ایران کا سوال ہے تو اس نے نہ تو ایسی کسی ملاقات سے انکار کیا ہے اور نہ ہی اقرار. بلکہ ان کے وزیر خارجہ کا تو یہی کہنا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ بات چیت کا خیر مقدم کیا ہے.
جبکہ اس ملاقات کے ضمن میں سماچار ایجنسی اے ایف پی نے عراق کے ایک افسر کے حوالے سے یہاں تک کہا ہے کہ یہ ملاقات عراق کے وزیراعظم کے تعاون سے ہی ممکن ہو پائی ہے .
محمد بن سلمان کے زیر بحث انٹرویو کی بات کریں تو سعودی پرنس نے اپنے قومی ٹی وی چینل کو دیئے اس انٹرویو کے دوران شاید پہلی بار ایران، یمن اور امریکہ سے اپنے تعلقات کو لے کر کھل کر بات کی تھی . اس دوران پرنس کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کی حالت اور خراب ہو بلکہ ہم اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران خود ترقی کرے اور پورے علاقے کو اور دنیا کو خوشحالی کی طرف گامزن کرے. انھوں نے مذید کہا کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ایران مدھیہ پورو (وسط مغرب ) کی ترقی میں مدد گار بنے. جہاں تک ایران کے جوہری پروگرام کا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام اور پابندی عائد سنگٹھنوں کی حمایت کے ضمن میں ایران کا رویہ منفی ہے. انھوں نے کہا کہ مذکورہ مسائل کو لیکر سعودی عرب اپنے علاقائی اور عالمی ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے. پرنس نے امید جتائی کہ ہم ان مشکلات کا حل بھی تلاش کر لیں گے اور ایران کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کریں گے یقیناً اس سے سبھی کو فائدہ پہنچے گا.
جبکہ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اس سے قبل پرنس نے جب کبھی بھی انٹرویو دیا ہے تو وہ اکثر ایران پہ خطہ کی امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں . وہیں مذکورہ انٹرویو میں ان کے لہجے میں کافی زیادہ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے.
ایران کے علاوہ اس انٹرویو میں پرنس نے امریکہ کو لیکر بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے کہ بے شک امریکہ سعودی عرب کا جنگی ساتھی ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ سے کچھ معاملات میں سعودی عرب سے اختلافات ہیں جن کو وہ حت الامکان دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کے دباؤ یا دخل اندازی کو قطعاً قبول نہیں کریگا.
یہاں بتاتے چلیں کہ ماہرین کی نظر میں 2017 میں کراؤن پرنس بننے والے محمد بن سلمان ہی دراصل سعودی عرب کے اصل حکمران ہیں. پرنس بھارت روس اور چین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں.( بھارت سے سعودی عرب کی گہری دوستی کا اندازہ تو خیر اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں حالیہ غیر معمولی اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئےسعودی عرب نے 80 میٹرک ٹن مائع آکسیجن انڈیا بھیجی ہے۔)
یمن میں جاری جنگ کو لیکر بھی امریکہ و سعودی عرب میں اختلافات پائے جاتے ہیں جبکہ کچھ نیوز رپورٹس کے مطابق یمن میں باغی گروپ حوثی کی ایران حمایت کرتا ہے اور یمن سرکار کے ساتھ مل کر جو فوجی گٹھ بندھن ہے اس کی رہنمائی سعودی عرب کرتا ہے. یمن کے حوالے سے پرنس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سرکار اپنی حدود پہ ہتھیاروں سے لیس سنگٹھنوں کی موجودگی کو برداشت نہیں کر سکتی. سیاسی ماہرین دراصل یمن میں جاری جنگ کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک "پراکسی جنگ” کے طور پر دیکھتے ہیں.
گزشتہ کئی سالوں سے چل رہی یمن جنگ سے اب کہیں نہ کہیں سعودی عرب بھی تنگ آ چکا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ابھی گزشتہ ماہ سعودی عرب نے یمن میں جنگ بندی کی پیش کش کی تھی لیکن حوثی باغیوں نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے. اس حوالے سے پرنس کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حوتی باغیوں کے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات رہے ہیں لیکن حوثی یمنی ہیں اور عربی نسل کے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اپنے دیش کی ترجیحات کو سب سے زیادہ پہل دیں گے.
ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عراقی صدر برہم صالح نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہتر تعلقات نہ صرف بغداد بلکہ پورے خطے کے لئے ثمر آور ثابت ہوں گے۔صدر کا کہنا تھا کہ خطے کے ان دو بڑے ممالک کے درمیان مصالحت کیلئے عراق اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور عراقی مصالحت کار پس منظر میں رہ کر ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی مصالحت کیلئے کام جاری رکھے ہوئے ہیں.
ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بِن فرحان السعود کا کہنا ہے کہ دیگر باتوں کے علاوہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ایران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی سے سن 2015 میں طے کئے گئے جوہری معاہدے پر عمل کرے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔
وہیں ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان معمول کے تعلقات دیکھنے کے خواہاں ہیں.
کل ملا کر دیکھنا ہوگا کہ اب سعودی عرب آنے والے وقت میں امریکہ، ایران، یمن اور ترکی کو لیکر اپنی خارجہ پالیسی میں کیا کیا تبدیلیاں لاتا ہے…

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close