Uncategorizedکالم

کچھ خطائیں گر ہوں تو معاف کردینا اچھا ہے !

ہمارے درمیان آئے دن اموات کا بڑھتا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے کئی علماء اکرام و قائدین سے ہم محروم ہوئے تو کئی علمی و ادبی شخصیات کو ہم نے کھویا، وہیں اب معاملہ یہ ہے کہ فیس بک یا واہٹس ایپ کھولنے سے پہلے ذہنی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے کہ نہ جانے کیا خبر آجائے۔ مانو کہ سوشل میڈیا پر ایک طرف کوویڈ 19 سے متعلق آکسیجن، بیڈ اور دیگر ادویات کی کمی کی دل کو دہلا دینے والی خبریں ہیں تو دوسری طرف محض دعائے مغفرت کی درخواستوں کی لمبی فہرست ہے۔ ہمارے کئی قریبی رشتہ دار خاندان کے کئی افراد بھی اچانک ہمیں چھوڑ جا رہے ہیں، لیکن ایسے میں ہمارے لئے بہت سے سوالات قابلِ غور ہیں، کیا ہم موت کے لئے تیار ہیں ؟ اگر ہم اللہ کے پاس پہنچ گئے تو کیا منہ دِکھائیں گے ؟ ہماری عبادات، ہماری نمازیں، ہماری دعائیں، دینِ حق کے لئے ہماری جدوجہد یہ سب تو شاید اس قابل نہیں ہیں کہ ہماری بخشش ہوجائے لیکن اللہ تو غفور الرحیم ہے، ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، رحمان ہے، ایک دفعہ کے لئے شاید حقوق اللہ معاف کر بھی دے لیکن حقوق العباد کا کیا ؟ یعنی ہمارے اللہ کے بندوں کے ساتھ معاملہ کیا ہے ؟ کیا ہم نے کسی کا حق مارا ہے ؟ یا ہماری وجہ سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوئی ؟ پھر چاہے وہ ہمارے عزیز و اقارب ہوں، ہمارے پڑوسی ہوں، ہمارے والدین بھائی بہن ہوں وغیرہ وغیرہ۔ کیا ہمارا دل صاف ہے ؟ نہیں !!!! آج بھی ہمارے معاشرے میں اس طرح کے معاملات درست نہیں ہیں، اگر کبھی کسی رشتہ دار یا بھائی بہن سے ہماری کوئی بات ہوگئی ہو یا کوئی غلط فہمی کے سبب رشتوں میں دراڑ پیدا ہوگئی ہو تو کیا ہم نے ان دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ؟ یہ تمام باتیں ہمارے معاشرے کے لئے، قوم و ملت کے لئے، خاندانی نظام کے لئے نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اپنا دل صاف رکھنا چاہئے، کیا پتا کب کون کہاں کیسے اس جہاں سے چلا جائے۔ چاہے کوئی بھی بات ہو یا کسی کے ساتھ آپکا کوئی بھی معاملہ کیوں نہ ہو یا آپ نے کسی کو طیش میں آکر بہت برا بھلا کیوں نہ کہہ دیا ہو اور اگر اس نے آپ سے معافی تلافی نہ کی ہو تو آپ اس سے از خود معذرت کر لیں۔ لیکن آج کے سوشل میڈیائی دور میں اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے پیاروں سے دور سوشل میڈیا کی ایک منفرد دنیا میں مگن ہوتے ہیں، فیس بک پر خوب لمبی لمبی فلسفیانہ باتوں کی پوسٹ شیئر کر رہے ہوتے ہیں، دیگر اچھی اچھی تحریریں پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں لیکن اصلاً ہمارے ذاتی معاملات اسکے بر عکس ہوتے ہیں، گھر والوں کے ساتھ ہمارا رویا جدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ ہر گز اچھا فعل نہیں ہے، سوشل میڈیا پر اچھی باتیں شیئر کرنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس کے بالمقابل آپ کم از کم ان باتوں پر اپنے اہل خانہ کی حد تک تو عمل کریں، ان سے اپنے معاملات سدھاریں پھر دیکھیں آپ خود کو کتنا مطئمن محسوس کریں گے۔

تحریر کے پیش نظر اور موضوع کی مناسبت سے ایک شعر یاد آ رہا ہے؂

جانا ہمیں بھی تو ہے دنیائے فانی سے ایک دن
کچھ خطائیں گر ہوں تو معاف کردینا اچھا ہے

یاد رکھیں معافی مانگنے سے کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوجاتا، بلکہ اللہ تو خود اپنے بندوں کو معاف کرتا رہتا ہے اور سخاوت کو پسند کرتا ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ سے بھی ہمیں مثالیں ملتی ہیں کس طرح اللہ کے رسول ﷺ شدید تکالیف کے بعد بھی دشمنوں کو یہ سوچ کر معاف کیا کرتے تھے کہ ہوسکتا ہے انکی آنے والی نسل اسلام قبول کرلے اور ہدایت پاجائے، ہمارے یہاں دشمن تو دور ہمارے اپنے اہل و عیال کا ہی معاملہ خراب ہے۔ بہرحال ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم اپنے کردار سے لوگوں کو کیا دے رہے ہیں ؟ اذیت یا محبت ؟ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جانے انجانے میں ہماری کوئی بات کسی کے دل کو چھو جاتی ہے تو ایسے میں بھی ہمیں اپنے رفقاء سے معافی تلافی کر لینی چاہئے۔ معافی مانگنے سے آپکے دل کی کیفیت بہت حد تک تبدیل ہوجاتی ہے، جذبات و احساسات میں ٹھہراؤ آجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کتنا بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ ہمارے معاشرے میں معافی کا یہ کلچر بہت معیوب سمجھا جانے لگا ہے، پتا نہیں کیوں۔ لیکن سوچیں اگر ہر اگلا فرد اپنی اپنی غلطی پر معذرت کر لے تو کیسا معاشرہ تشکیل پائے گا، کیسی آئیڈیل سوسائٹی کی تعمیر ہوگی، ہمارا خاندانی نظام بھی بہتر نظر آئے گا، لوگوں کے معاملات صلہ رحمی سے حل ہونگے جسے دیکھ کر برادران وطن بھی متاثر ہونگے جس سے دعوتِ دین کی راہیں بھی ہموار ہونگی۔ خیر ہم سب کو معاف کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ ہمیں وقتاً فوقتاً اللہ سے بھی اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہنا چاہیئے۔

نوٹ : عزیز رفقاء اس تحریر کے حوالے سے ہی ایک بات یہ ہے کہ اگر میری بھی کسی پوسٹ سے یا کسی بات سے جانے انجانے میں کبھی آپکی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔ سب کو خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

✍صدیقی محمد اویس، نالاسوپارہ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close