کالمز

کیوں بنی نوشین بیگم مریادا اگروالَ؟ محمد مصطفی علی سروری

شہر حیدرآباد کی رہنے والی نوشین بیگم کی عمر 32 برس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد کی شکل میں 5 بچوں سے نوازا تھا جن میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا لیکن نوشین کی زندگی میں اچانک ایک طوفان آگیا اور جو کسی نے نہیں سونچا تھا وہ ہوگیا۔ پانچ بچوں کی ماں نوشین بیگم کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی۔ اور نوشین بیگم پورے پانچ بچوں کے ساتھ اپنے مائیکے کو واپس آگئی تھی۔ اب نوشین کا کیا ہوگا اس کے پانچ بچوں کی پرورش کیسے ہوگی۔ نوشین بیگم سے اب دوسری شادی کون کرے گا؟ اور شادی ہو بھی گئی تو پانچ بچوں کا کیا ہوگا۔ کیا دوسرا شوہر ان پانچ بچوں کو قبول کرے گا؟ یا نوشین بیگم کو اپنی بقیہ زندگی مطلقہ کے طور پر ہی گذارنی ہوگی یہ اور ایسے ہی بہت سارے سوالات تھے۔

سال 2020ء دنیا بھر کی تاریخ میں کرونا لاک ڈائون کی وجہ سے بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دنیا بھر کے لوگ پریشان تھے اور نوشین بیگم کو بھی پریشانیوں نے گھیرے رکھا تھا۔ لیکن پھر ایک دن نوشین بیگم کی زندگی میں روشنی کی کرن نظر آئی جب ایک 38 سال کے نوجوان نے نوشین سے شادی کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس نوجوان کو پتہ تھا کہ یہ نوشین کی دوسری شادی ہوگی اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ نوشین کی اور نوجوان کی عمر میں بھی کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ اور اس سے بھی اہم بات کہ وہ نوجوان نوشین سے شادی کرنے ے بعد اس کے پانچ بچوں کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار تھا۔
اپنی زندگی میں ایک مرتبہ دکھ جھیلنے کے بعد کون اس طرح کے رشتے کو منع کرتا۔ نوشین نے اس رشتے کے لیے حامی بھردی۔ کرونا کا لاک ڈائون آہستہ آہستہ ختم کیا جارہا تھا۔ لڑکے کی جانب سے کوئی مطالبات بھی نہیں تھے۔ البتہ ایک ہی شرط تھی۔ قارئین وہ شرط کیا تھی وہ بھی جان لیجئے لڑکا چاہتا تھا کہ اگر نوشین شادی رمضان المبارک کے بعد کرنا چاہ رہی ہے تو اس کے لیے بھی تیار مگر اس کی شرط یہ تھی شادی مندر میں ہوگی۔ قارئین کیونکہ لڑکا ہندو تھا اور اس کا نام گگن دیپ اگروال ہے۔ اسی ہندو نوجوان نے نوشین بیگم سے دوسری شادی کرنے کے لیے حامی بھری تھی اور ساتھ ہی نوشین کے پانچ بچوں کو بھی قبول کرنے اور ان کی پرورش کرنے کی ذمہ داری قول کی تھی۔ یوں نوشین بیگم نے 9؍ شوال مکرم 1441ھ مطابق 2؍ جون 2020ء بروز جمعرات کو مذہب اسلام ترک کر کے ہندو مت اختیار کرلیا اور اپنا نیا نام مریادا اگروال رکھ کر گگن دیپ کے ساتھ ایک مندر میں شادی کرلی۔
شادی کے بعد مریادا اپنے پانچ بچوں کو لے کر اپنے شوہر کے مکان نمبر 3-9-132 رام سدن منصور آباد ولیج، پدماوتی کالونی روڈ نمبر 7 ونستھلی پورم (شہر حیدرآباد کا مضافاتی علاقہ) منتقل ہوگئی۔
قارئین نوشین بیگم مریادا اگروال بننے والی اس 32 سالہ خاتون جو کہ 5 بچوں کی ماں بھی ہے کو مرتد قرار دے کر جہنمی کہنے والے تو بہت سارے لوگ مل جائیں گے۔ کیا اس طرح کا فتویٰ صادر کردینے سے اس طرح کے واقعات کا اعادہ بند ہوجائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر غیرت مند مسلمان نوشین بیگم کی زندگی کے مسائل کا غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لے اور غور کرے؟
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ سوال تو اس پہلے شوہر سے بھی کیا جانا چاہیے جس نے دو ایک نہیں پانچ بچوں کو پیدائش کے بعد بھی اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ ضرور شوہر سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ لیکن سوال صرف شوہر سے نہیں بلکہ ان مائیکے والوں سے کیا جانا چاہیے جو لڑکیوں کو طلاق کے بعد اپنے والدین اور مائیکے میں آنے پر سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ طنزکے تیر برساتے ہیں۔ طعنوں سے ہر لمحہ لہو لہان کرتے ہیں۔
یہ تو مائیکے والوں کی بات ہوئی ہے اور ہمارا سماج کیا کرتا ہے جس کا ہم بھی ایک حصہ ہیں اس کے بارے میں بھی غور کیجئے۔ اخبارات ہو یا ویب پورٹل شادی اور دوسری شادی کے لیے ضرورت رشتہ کے اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں۔ ذرا وقت نکال کر ان کو پڑھ لیجئے گا۔
عقد ثانی کے اشتہارات میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے پہلی شادی سے ہونے والے بچوں کو قبول کرنے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ ان سارے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد بھی ہم کس منہ سے نوشین بیگم کے ارتداد کے لیے خود اس کو تنہا ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں۔ ہم مسلمان جس سماج کا حصہ ہیں وہاں پر عقد ثانی تو چھوڑئے پہلی شادی کو بھی ایک مسئلہ بنادیا گیا ہے۔
جب پہلی شادی کا انجام پانا ہی ایک بڑا چیالنج بن گیا ہے تو ایسے اندازہ لگایئے اور تصور کیجئے گا ایک 32 سالہ مطلقہ خاتون جو کہ پانچ بچوں کی ماں ہے اس سے دوسری شادی کے لیے کون تیار ہوگا اور ساتھ ہی پانچ بچوں کی ذمہ داری الگ سے۔
نوشین بیگم نے مذہب اسلام سے ارتداد کر کے کوئی اچھا کام نہیں کیا ہے لیکن ہم مسلمانوں کو اور عوام ہوں یا خواص اس بات کے لیے سونچناہوگا۔ غور کرنا ہوگا کہ آئندہ اس طرح کے واقعات کو کیسے روکا جاسکے۔
نوشین بیگم نے تو اپنی دوسری شادی کے لیے ہندو مت اختیار کرلیا لیکن قارئین دل تو خون کے آنسو رروتا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ مسلمان لڑکیاں اپنی پہلی شادی کے لیے بھی ہندو لڑکوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔
راجستھان کے ایک چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے والے سومت دوے فیس پر 11؍ مارچ 2021ء کو اپنی محبت کی کہانی لکھتے ہیں کہ سال 2013ء میں میری بانو نام کی مسلمان لڑکی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی وہ ابھی پڑھائی کر رہی تھی۔ اس کے گھر والوں نے اس کی شادی طئے کردی تھی۔ لیکن میری اس سے بات چیت ہوتی تھی۔ میں نے ایک موبائل فون اس کو تحفہ میں دیا۔ اب ہماری روز بات ہونے لگی میں ایک ہندو تھا اور بانو ایک سنی مسلمان لڑکی تھی سال 2014 میں بانو کے گھر والوں کو میری اور اس کی دوستی کا پتہ لگ گیا۔ بانو کے گھر والوں نے میرے والد سے شکایت کی اور اس کا فون چھین لیا گیا۔

کچھ دنوں بعد مجھے بانو کا فون آیا۔ اس نے بتلایا کہ اس کے گھر والے اس کی شادی کر رہے ہیں۔ میری عمر 21سال تھی اور بانو 17 برس کی ۔ ہم لوگ گھر سے بھاگ گئے۔ بانو کے گھر والوں نے پولیس میں شکایت کی۔ بانو اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ پولیس نے بانو کو جودھپور کے ایک شیلٹر ہوم میں رکھا۔ پھر ایک دن مجھے پتہ چلا کہ اس کے گھر والے دوبارہ اس کی شادی کرنے جارہے ہیں۔ میں اب کی بار میں ایس پی کے ہاں شکایت درج کروائی کہ بانو ابھی 18 سال کی نہیں ہوئی اور اس کے گھر والے اس کی شادی کر رہے ہیں۔
پولیس نے ایک مرتبہ پھر سے بانو کو جودھپور کے بالیکا گھر میں منتقل کردیا۔ جب بانو 18 سال کی عمر کو پہنچی تو ہم دونوں نے کورٹ میارج کرلی۔ ہم دونوں اب خوش ہیں۔ میرے گھروالے میری ہر قدم پر مدد کرتے رہے۔ بانو کے گھر والوں نے اس سے بات بند کردی۔
قارئین کرام یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا اور سوشیل میڈیا کے توسط سے ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ حقیقی تعداد اور اصل صورت حال اور بھی سنگین ہے۔ خدارا ہو ش کے ناخن لیں۔ اس بات کو سمجھ لیں کہ نکاح کرنا سنت ہے اور اپنے بچوں کی دینی تربیت کرنا فرض ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کی دینی تربیت کو نظر انداز کریں گے تو یہ فرائض سے پہلو تہی ہے اور اس غفلت کی ایک بڑی قیمت ہم لوگ ادا کر رہے ہیں۔
ذرا سونچئے گا ہمیں بچوں کی شادی کی جتنی فکر ہوتی ہے کیا ہم انہیں بحیثیت مسلمان ان کی ذمہ داریاں سکھلانے کی اتنی فکر کرتے ہیں۔ آیئے اب میں آپ حضرات کو واپس ونستھلی پورم کی نوشین بیگم عرف مریادا اگروال کی کہانی کی طرف لیے چلتا ہوں۔
اخبار انڈین ایکسپریس نے 11؍ مارچ 2021ء کو رپورٹ میں لکھا کہ گگن دیپ اگروال 9؍ فروری کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوگیا تو اس کے بڑے بھائی آکاش اگروال نے ونستھلی پورم پولیس کے ہاں شکایت درج کروائی اور پولیس نے تحقیقات کے ابتدائی مراحل میں گگن دیپ اگروال کے قتل کے الزام میں اس کی بیوی نوشین بیگم المعروف مریادا اگروال کو گرفتار کرلیا۔ ونستھلی پورم پولیس انسپکٹر کے مرلی موہن کے حوالے سے اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پولیس تحقیقات سے پتہ چلا کہ 8 اور 9؍ فروری کی رات گگن دیپ نے گھر پر اپنے دوست کے ساتھ شراب نوشی کی تھی جس کے بعد مریادا اگروال نے اس کا قتل کردیا اور اس کی نعش گھر میں ہی کھودے گئے ایک گڑھے میں دفن کردی۔ پولیس کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ نوشین بیگم عرف مریادا اگروال دراصل اپنی دو لڑکیوں کو گگن اگروال کی بری نظروں سے بچانا چاہتی تھی کیونکہ وہ ان پر بری نظر ڈال رہا تھا۔
قارئین اخبار نے اس حوالے سے لکھا کہ پولیس مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ مریادا اگروال 9؍ فروری کو ہی اپنے شوہر کو قتل کرنے کے بعد اس کو گھر کے ایک گڑھے میں ڈال کر چھپا دیا اور پھر اپنے پانچ بچوں کو لے کر واپس اپنے مائیکے چلی گئی۔ گگن اگروال کے اچانک غائب ہوجانے پر اس کے بھائی نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور جب پولیس نے اس ضمن میں مریادا سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا اور وہ وجہ بھی بتادی کہ اس نے یہ قتل کیوں کیا؟

اس سارے واقعہ میں کوئی بھی پہلو اور زاویہ ایسا نہیں کہ ہم مسلمان اطمینا ن کی سانس لیں۔ اب بھی وقت ہے کہ مسلم ماں باپ ہوش کے ناخن لیں۔ سماج کی رہبری کرنے والے آگے معاشرے کو صحیح راہ پر گامزن کریں کہ بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری صرف بچوں کی شادیاں کرنے تک محدود نہیں۔ اصل ذمہ داری تو بچوں کی تربیت کرنے کی ہے اور یہ فرائض میں شامل ہیں۔ نکاح کو بھی جتنی سادگی سے انجام دینے کی ہدایت تھی۔ ہم نے اس کو اتنا ہی بڑا تماشہ بنادیا۔ اور جو لڑکیاں اللہ کو اپنے گھر والوں کو ناراض کر کے غیر مسلم نوجوانوں سے شادیاں کر رہی ہیں ان کا انجام بھی کیسے ہو رہا ہے۔ مریادا اگروال کی کہانی سے واضح ہو رہا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو صحیح ہدایت نصیب فرما۔ قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر بطور دستورِ حیات عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ (آمین یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close