کالمز

تبلیغی جماعت کیجریوال حکومت ۔ شاہدعادل قاسمی

آج ایک ہنگامہ بپا ہے اپنے بیگانےہرایک نےایک مخصوص جماعت کو ٹارگیٹ پر لے رکھا ہے کسی کی جماعتی دشمنی کسی کی آپسی رنجش توکسی کی مسلکی لڑائی کھل کر سامنے آرہی ہے جو ایک لمحہء فکریہ سے کم نہیں ہے دوستوں نظریاتی اختلافات ہر جگہ ہیں مگر اس سے اغیار اور دشمنان اسلام کو موقع مل جاےء، چٹکی لیکر سنسی خیز معمہ بناکر پیش کرے تو نقصان اس میں اپنا ہی ہے ایک طبقہ جو اسلام اور مسلمان کی وجود سے نفرت کرتا ہے جس کی نظر ہمہ وقت ہمیں بدنام اور ذلیل کرنے کی رہتی ہے وہ ڈیبیٹ کرکے سارا ٹھیکرا ہمارے سر تھوپنے کی انتھک کوشش کرتے رہتا ہے وہ انٹرنیشنل معاملہ بناکر اپنی گندی ذہنیت اور سنگھی سوچ کو ثابت کرتا ہے اور ہمارا سہارا لیکر ہماری ہی بیخ کنی کرتا ہے ان کا نشانہ تبلیغی،سنی،وہابی.دیوبندی،بریلوی.،مودودی،مقلد ،غیر مقلد ،نہیں ہوتا بلکہ اسلام اور مسلمان ہوتا ہے جس کے زد میں ہم سب گاہے بگاہے آتے رہتے ہیں اور بڑے آسانی سے ہم لوگ مسلکی کارڈ کھیل جاتے ہیں جس سے ان فرقہ پرستوں کا حوصلہ ساتویں آسمان پر چڑھ جاتا ہے ؛خود غور کریں ملک کن ابتر حالات سے دوچار ہیں ،دووقت کی روٹی کیلئے دلی میں سر چپھپانے اور رین بسیروں میں ٹہرنے کیلئے جگہ نہیں مل رہی ہے ہاہاکار مچا ہوا ہے اس کے باوجود کوئ تسلی بخش انتظام نہیں گودی میڈیا کو خبر تک نہیں مگر تبلیغیوں نے ایسا گناہ کردیا مانو کرونا یہیں جنم لیا ہو ایک سرخی بن گئ ہے لگتا ہے کرونا کی دادی اماں نظام الدین دہلی کی باشندہ ہو میڈیا کا جمواڑہ ادھیکاروں کی لمبی ٹیم مختلف جماعتوں کی فوج بڑی تعداد میں دلی پولیس ڈی ٹی سی بسوں کا وافر انتظام دیکھ کر ایسا لگا کہ گمشدہ اور نایاب نسخہ دستیاب ہوگیا ہے اور یہ منٹوں میں عالمی خبر بن گیا میں مکمل سمرتھن کرتا ہوں عالمی وبا سے ملک کو بچانے کی ہر ممکن تدبیر ہو نظام الدین میں ٹہرے دیسی بدیسی سبھوں کا جانچ ہو مگر ایک خاص جماعت کو اس طرح ہائ لائٹ کرنے کا منشا سمجھا جا سکتا ہے اور کیجریوال کا اعلان FIRکا حکم اس پر سونے پر سہاگہ دلی حکومت کا دوہرا چہرہ ایک مرتبہ پھر سامنے آگیا وہ کیجریوال جس کے ماتحت دلی پولیس نہیں ہے پھر FIRکا آرڈر کیسے؟دلی فساد میں یہ حکم کیوں نہیں؟ہزاروں لوگ لاک ڈاون کے قانون کوبالاےء طاق رکھ کر دلی بارڈر کو جام کیا اس پر FIRکیوں نہیں ؟سوشل دسٹینس کے بنا راحت کیمپوں میں سب کچھ دیکھا گیا وہاں FIRکا حکم نافذ کیوں نہیں؟ کیجریوال حکومت اگر سیکولر ہے تو ان کو ا ن سوالات کا جواب دینا چاہیئے اور اس بات کو جاننا چاہئے کہ تبلیغی جماعت کا مرکز حضرت نظام الدین میں بنگلہ والی مسجد ہے جہاں پوری دنیا کی جماعتیں آتی ہیں جہاں سے پورے ملک کا جماعتی نظام چلتا ہے جہاں سینکڑوں لوگ ہمہ وقت رہتے ہیں جس سے دلی اسٹیٹ کو فائدہ بھی ہوتا ہے مودی جی نے23مارچ کو لاک ڈاون کا اعلان کیا نفاذ میں فقط 3:40منٹ کا وقت دیا بتلائیے اتنے قلیل وقفہ میں کیا کیا جاسکتا ہے ؟کن کن جماعتوں کا ٹکٹ مل سکتا ہے؟کس دیش کی فلائٹ کب ہے کیسے کنفرم ہوسکتا ہے؟ پھر بھی بہت سارے صاحب استطاعت نے مہنگے اور ارجینٹ ٹکٹ سے اپنے ملک کا سفر کیا اور جو لوگ رہے گےء انتظامیہ نے اسکی اطلاع پرساشن کو دیا جسکی جانکاری ڈی ایم سے لیکر ایس ایچ او تک کو ہے اس سے بڑھ کرکیا ہوگا کہ خود محکمہ صحت WHOنے دو دومرتبہ آکر جانچ کیا ہے اس سے آگے دیکھےء 300آدمیوں کا کرونا ٹیسٹ ہوا ایک بھی Positive نہیں پھر اتنا واویلا کیوں؟ کیجریوال جی کا کونسا چہرہ مسلم نواز یا سنگھی دوستی؟انڈومان نکوبار میں کوئ مرجاتا ہے انکا تار نظام الدین سے جوڑ دیا گیا جبکہ فطری موت ہے جو کبھی بھی کہیں بھی ہوسکتی ہے اس کا کنکشن نظام الدین ہی سے کیوں؟یہ سب سوالات اور وساوس ہیں جو دلی حکومت کی پیدا کردہ ہیں ایک سنگر خاتون کا چوتھا ٹیسٹ بھی مثبت منتری سنتری تک موجود وہاں کوئ ہنگامہ نہیں؟نہتھے کمزور بھوکے پیاسے مردوعورت اور بچوں پر پولیسیا بربریت وہاں کوئ FIRنہیں؟ کچھ تو ہے جسکی سمجھ ہمیں ہونی چاہئے (شاہد عادل قاسمی ارریہ)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close