کالمز

حجاب پہننا میرا فیصلہ ہے! آبیناز جان علی موریشس

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ’’ اور اے نبی ﷺ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کے آنچل ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں۔‘‘
(النور ۳۱: ۲۴)
میں ایسے ماحول سے تعلق نہیں رکھتی جہاں حجاب پہننا خواتین کا معمول ہو۔ میں نے ازل سے ایک آزاد معاشرے میں سانس لی ہے۔ ۲۰۱۱ء؁ میں میری زندگی نے ایک اہم موڑ لیا۔ اسی سال سے میں نے حجاب پہننا شروع کیا۔ اس سے ایک سال قبل میں نے قرآن شریف کا مکمل انگریزی ترجمہ پڑھا تھا۔ زندگی میں پہلی بار میں نے قرآنِ مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے پیغام کو سمجھا اور اللہ عزوجل کے دربار میں التجا کی کہ وہ میری زندگی کو الکتاب المبین کی روشنی سے منور کرے اور مجھے توفیق دے کہ میں قرآن مجید فرقانِ حمیدکے دکھائے ہوئے راستے پر چلوں۔
۲۰۱۱ء؁ کے شروع میں میں نے پہلی بار یورپ کے لئے رختِ سفر باندھا تھا۔ لندن اور پیرس کی دلفریب دنیا نے مجھ میں بہتر زندگی تخلیق کرنے کی خواہش کو بیدار کیا۔ میرے دل میںمضبوط ذہن، جسمانی صحت اور روحانی تسکین پا نے کی تمنا جاگی۔
دراصل حجاب میری اندرونی ایقان کی ترجمانی کرتا ہے۔ جو یقین میرے دل اور میری روح میں نقش ہے حجاب کی بدولت اسی یقین کی نشاندہی میرے ظاہر سے بھی ہوتی ہے۔ قرانِ پاک میں بندوں کے لئے یہ فقرہ موجودہے کہ سمعنا و اطعنا۔ مومن وہ ہے جو سنتا ہے اور اطاعت کرتا ہے۔ اللہ رب العالمین کو خوش کرنے کی خواہش سے میرے دل کو سکون ملتا ہے کیونکہ میں اپنے خالق سے بہت محبت کرتی ہوں۔ حجاب پہننے کے بعدجب بھی میں گھر سے باہر نکلتی ہوں ، میں اپنے رب کی رحمت کو اپنے ساتھ محسوس کرتی ہوں۔ اس بات سے حوصلہ ملتا ہے کہ میں قرآنی آیات کو سینے سے لگارہی ہوں۔ اس سے خوداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ میں پوری طرح مانتی ہوں کہ میرا یہ فیصلہ عین مناسب ہے۔ غیر مسلم ممالک میں اور بین الاقوامی میڈیا میں اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں ان پر ظلم و تشدد کیا جاتا ہے۔ ان کا ماحول انہیں قید کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور انہیں کوئی آزادی نہیں ملتی۔اسی لئے مجھے دیکھ کر کئی لوگوں کو ذہنی تصادم ہوا تھا۔ ان کے مطابق میں جدیددنیا کی لڑکی ہوں جو خود مختار ہے اور آزاد طریقے سے اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔ ان کے لئے یہ ماننا قطعی ممکن نہیں تھا کہ حجاب پہننا میرا فیصلہ ہو سکتاہے۔
حجاب حیا کی نشانی ہے۔ قدیم زمانے سے اعلیٰ طبقے کی لڑکیاں اور معزز گھرانے کی خواتین کبھی ننگے سر نہیں گھومتی تھیں۔ آج بھی برطانیہ کی ملکہ ایلیزابیتھ دوم ٹوپی کے بغیر کم دکھائی دیتی ہیں۔ آپ نے گذشتہ پچاس سالوں میں پانچ ہزار مختلف ٹوپیاں پہنی ہیں۔ یہ ٹوپیاںصرف بطور آرائش نہیں پہنی گئی ہیںبلکہ ٹوپی ایک حکمراں کے ملبوسات کا اہم حصّہ ہے۔ یہ ان کے تاج کا متبادل ہے۔
حجاب پہننے سے پہلے بھی میںملازمت کرتی تھی۔ میں نے جب حجاب پہننا شروع کیا تو مجھے اسٹاف روم میںاور رشتہ داروں کی دعوت کے دوران استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا گیا۔ کسی نے یاد دلایا کہ حجاب پہننے کے اصول ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ایک بار پہنا پھر اتار دیا۔ کسی نے مجھے دیکھ کر غور کیا تھا کہ معلوم پڑتا ہے کہ سردی آرہی ہے۔ کسی نے دریافت کیا ’اب نیا انداز؟‘ کسی اور کے مطابق میں حجاب پہننے کے لئے ابھی جوان ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ عنفوانِ شباب میں قدم رکھتے ہی حجاب لڑکیوںکے لئے لازمی ہوجاتا ہے۔ کسی کی نظروں میں صدمہ اور افسوس جھلک رہا تھا تو کسی نے رائے دیتے ہوئے بتا یا کہ ممکن ہے مجھے کوئی مل گیا ہے جو مجھ سے حجاب پہنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ کسی بزرگ نانی نے تشویش پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب میں حجاب پہنتی ہوں میرے لئے لڑکا ملنا مشکل ہوجائے گا۔ کسی اور کے مطابق میں خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اسی طرح میں نے تقریباً سو لاشخاص کے تجسس کا سامناکیا ۔ ان میں رفیقِ کار، رشتہ دار، مسلم اور غیر مسلم بھی تھے۔ کبھی میں خاموش رہتی تو کبھی نظر انداز کرلیتی۔ جو قریبی لوگ تھے میں نے ان کو بتایا کہ یہ میرا فیصلہ ہے۔ مجھے کچھ حد تک دکھ ہوا کہ میرے فیصلہ کی عزت نہیں کی جارہی تھی۔ حجاب کے متعلق چند لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیاں گھر میں بھی سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوا کہ غور وخوص کے بعد چند افراد احتجاج کرنے لگے کہ مسلمان مرد آزادانہ گھومتے ہیں اور ان پر ظاہراً ایسی کوئی پابندی نہیں۔ دراصل میرا ماحول مجھے ایک وسیع الذہن لڑکی مانتا تھا اور میرے حجاب کا فیصلہ ان کے لئے بعید از قیاس تھا۔ کسی کے بارے میں رائے بدلنے سے ذہنی تکلیف توہوتی ہی ہے۔
پھر بھی سرکاری طور پرمجھ پر کسی طرح کا دبائو یا پابندی نہیں لگائی گئی۔ موریشس کثیرالمذاہب ملک ہے اور یہاں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے۔ اس لئے کام میں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ البتہ ایک بارمجھے ایک ذاتی محفلِ غزل سرائی کی نظامت کے لئے کہاگیا۔ کچھ وقت کے بعدمجھ سے فون پر پوچھا گیا کہ کیا میں حجاب پہنتی ہوں اور یہ بھی پوچھا کہ کیا میں ہر وقت پہنتی ہوں؟ جواب ملنے پر مجھ سے کہا گیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ میرے حجاب پہننے سے ان کے پروگرام کاکوئی مذہبی عنصرنکل کر سامنے آئے ۔ چنانچہ میری جگہ کسی اور کو لیا گیا۔ اس واقعہ سے دل کو تکلیف تو ضرور ہوئی لیکن خود کو یاد دلایا کہ خدا کا راستہ آسان نہیں۔ اس بات پر خود کو آفرین کہا کہ میں نے اپنے حجاب کا سودا نہیں کیا۔
اس کے علاوہ حجاب کی وجہ سے لوگ مجھے زیادہ ادب و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں نے جب یورپ کا دوبارہ سفر کیاتو لندن میں سیکیورٹی چیک کے دوران صرف مشین سے جسم کی جانچ ہوئی اور سکیورٹی والی خاتون نے مجھے ہاتھ لگانا مناسب نہیں سمجھا۔ جرمنی میں صرف میرے سر پر سرسری ہاتھ رکھا گیا۔ اس عزت و احترام سے اس وقت میرے دل کو نہایت خوشی ہوئی تھی۔
حجاب غلط لوگوں کی نظروںسے حفاظت کرتاہے۔ میرے ماحول میں بہت سارے غیر محرم مرد مجھ سے خود بخود دوری اختیار کرنے لگے۔ اس کے علاوہ میں جب بھی بیرونِ ملک کا سفر کرتی ہوں مجھے کوئی نہ کوئی اللہ کا بندہ مل ہی جاتا ہے جوفقط اپنے رب کی محبت کی خاطر مجھ پر عنایتیں برساتا ۔ ترکی میں ایک دکاندار نے مجھے دیکھ کر چائے کے پیسے لینے سے صاف انکار کیا اورچاکلیٹ کا دو ڈبہ بھی دے دیا۔ ڈنمارک میں طعام خانے کے مالک نے مجھے پانی کی ایک بوتل مفت میں پیش کی۔ جرمنی میں طعام خانے کا مالک مجھے ہر بار کچھ نہ کچھ دے دیتا ۔۔۔کبھی چائے، کبھی پھل تو کبھی مٹھائی۔ یہ خدا کی رحمت نہیں تو اور کیا ہے؟
میری ملازمت کے باعث میں ایک ایسے میدان میں ہوں جس کو مسلم قوم سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اردو زبان پڑھاتے پڑھاتے اور ریڈیو پر مذہنی پروگرام کی نظامت کرتے کرتے میں کافی حد تک موریشس کی مسلم خواتین کی نمائندگی کررہی ہوں۔
اب موریشس میںخدا کے فضل سے حجاب زیب تن کرنے والیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کو یہ بات اب معمول کے مطابق لگتی ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے میں نے خود کو ایک دائرے کے اندر رکھا ہے۔ یہ نظم و ضبط اب میری زندگی کے دوسرے شعبوں میں منعکس ہے اور اللہ پاک کے فضل و کرم سے میری زندگی منظم طریقے سے گزر رہی ہے۔ جسم کا پردہ آنکھوں اور دل کے پردے کی آبیاری کرتی ہے۔ میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ میں نے حجاب پہننے کا صحیح فیصلہ لیا اور میں صحیح راستے پر گامزن ہوں۔ یہ احساس طاقت کی آبیاری کرتاہے۔ ہم جب خدا پاک کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں تو ربِ کریم مزید بخششیں عطا فرماتا ہے۔ یہ میرا اپنے رب پر ایمان ہے کہ جب سے میں نے حجاب پہننا شروع کیا کامیابی میرے قدم چومتی گئی ۔ اللہ پاک سے یہی دعا ہے کہ آخری سانس تک میرے سر پر حجاب قائم رہے۔ آمین۔

آبیناز جان علی
موریشس

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close