Uncategorized

اقتدار کے لیے سوچی نے روہنگیائی مسلمانوں سے ناانصافی کی مگر……… شکیل رشید

میانمار یعنی برما پر ایک بار پھر فوج قابض ہو گئی ہے ۔ فوجی آمروں نے منتخب حکومت کی ، جسے جمہوری حکومت کہا جاتا تھا ، بساط لپیٹ دی ہے ، اس پر ساری دنیا میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے فوج نے جس حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا ہے ، وہ انصاف کی ڈگر پر چلتی رہی تھی ، اور اس حکومت کی کرتا دھرتا ، آنگ سان سوچی ، جسے اس کے ساتھیوں کے ساتھ حراست میں لینے کی خبر ہے ، وہ ، انصاف کی دیوی تھی !! سچ یہ ہے کہ فوجی آمروں نے جمہوری آمروں کی حکومت پر قبضہ کیا ہے، اور وہ آنگ سان سوچی جو کبھی جمہوریت کی علمبردار کہلاتی تھی ، اور جسے نوبل پرائز برائے امن دیا گیا تھا ، فوج کی سابق حکومت کے مقابلے روہنگیائی مسلمانوں کے لیے کہیں زیادہ ظالم ثابت ہوئی تھی ۔ بات کچھ عجیب مگر سچ ہے کہ سوچی پندرہ برسوں تک اپنے گھر میں نظر بند رہ کر فوجی آمروں کے خلاف ڈٹی رہی اور میانمار کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کی جدوجہد کرتی رہی، لیکن جب وہ کامیاب ہوئی اور اس کی پارٹی این ایل ڈی نے الیکشن میں جیت حاصل کی اور اس کی حکومت بنی ، تب اس نے خود جمہوری راہ سے ہٹ کر ظلم وجبر کو جائز قرار دیا ۔ 2017ء میں میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی کو دنیا فراموش نہیں کر سکتی ہے ۔ لاکھوں روہنگیائی مسلمان بنگلہ دیش میں آج بھی پناہ گزین ہیں ۔

ہندوستان میں ان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی یہ مہاجر کی شکل میں پائے جاتے ہیں ، کیونکہ انہیں ان کی زمین سے بے دخل کر دیا گیا ہے ۔ سوچی سے جمہوری حکومت کے قیام کے بعد روہنگیا اقلیت کا مسئلہ حل کرنے کی امید تھی، مگر معاملہ مزید سنگین ہو گیا ۔ آج ہیگ کے عالمی کورٹ میں روہنگیائی مسلمانوں کا معاملہ پڑا ہوا ہے ، اس کی ایک سماعت کے دوران سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کو اقلیت ماننے تک سے انکار کیا تھا اور ان کے لیے غیر قانونی تارکین وطن ، مہاجر اور دہشت گرد کے الفاظ استعمال کیے تھے ۔ ساری دنیا نے سوچی پر تھو تھو کی تھی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سوچی کو ضمیر کی سفیر کا حقدار ٹھہرایا تھا جسے اس نے واپس لے لیا ۔ جس حکومت کے لیے سوچی نے حق اور انصاف پر مبنی اصولوں سے روگردانی کی وہی حکومت آج سوچی کے ہاتھ سے چھن گئی ہے ۔ عزت راس نہیں آئی کیونکہ ذلت نصیب میں تھی ۔ اللہ کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ہم میانمار کے فوجی قبضہ کی حمایت نہیں کرتے، یہ قابضین بھی ظالم ہیں، ہم اس فوجی قبضے کی مذمت کرتے ہیں ۔ لیکن ہم جمہوریت کے نام پر ایسی حکومت کو بھی درست نہیں مانتے جو بےقصور اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ۔ میانمار میں حقیقی معنوں کی جمہوری حکومت کی ، جو روہنگیا اور دیگر اقلیتوں کو ان کے جمہوری حقوق دے ، ضرورت ہے ۔ ساری دنیا وہاں ایسی حکومت کے قیام پر زور دے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close