کالمز

جس تحریک کی ضرورت تھی وہ برپا ہوچکی ہے : ابوالحسنات ندوی

کسان آندولن اپنے شباب پر ہے، اور امید ہے کے مثبت انجام کے ساتھ ہی اس کا اختتام ہوگا، ایک طرف حکومت ہے جو اپنی پوری لابی کے ساتھ اس تحریک سے پیدا ہونے والے اپنے نقصانات سے نبرد آزمائی کیلئے تیاریوں میں مصروف ہے، دوسری طرف آندولن اور تحریک کے افراد ہیں جو اپنی مانگ کیلئے جذبات اور اصرار کے ساتھ دلی کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں،
اس وقت یہ تحریک ملک کے مستقبل کیلئے حیات نو کی نوید لیکر آئی ہوئی ہے، اس لئے تقریباً وہ تمام لوگ جو بی جے پی اور آر ایس ایس مخالف ہیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی ان کی ہمدردیاں اس تحریک کے افراد اور قائدین کے ساتھ ہیں
چونکہ گذشتہ چند سالوں میں جب سے ملک کا باگ ڈور فاشسٹ اور فسطائی طاقتوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے اس وقت سے تنظیمی اور تعمیری رخ سے یہ ملک بے سمت ہوگیا ہے،
کسان تحریک اس لئے بھی زیادہ مؤثر اور کار آمد ہے کہ حکمران طبقہ جس بنیاد پر ماضی میں مذہبی کارڈ کھیلتا تھا اس بار اسکو ان لوگوں سے سامنا پڑا ہے جو اتفاق سے انہی کے ہم مذہب یا کم سے کم مسلمان نہیں ہیں، اس لئے علی الرغم وہ کاروائیاں نہیں ہوسکتی ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ہوسکتی تھیں!
ایک سال قبل این آر سی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اس وقت مسلم قیادت کی طرف سے یہ بات بار بار کہی گئی کہ مظاہرہ کو کامیاب بنانے کیلئے اکثریتی طبقہ کو آگے کیا جائے ورنہ یہ تحریک کچل دی جائے گی آج وہ موقع ہے کہ خود اکثریتی طبقہ اس تحریک کی قیادت کررہا ہے اور یہ تحریک جس رخ پہ اس وقت چھبیس جنوری کے بعد گامزن ہے وہ حکمراں طبقہ سے غصہ اور نفرت میں تبدیل ہو چکی ہے ان کی قیادت میں اب تصلب اور سختی ایک گونہ پیدا ہوگئی ہے جس سے ٹکڑانے کی حماقت کوئی حکومت نہیں کرسکتی، مگر ابھی تک مسلم قیادت کی طرف سے اس آندولن کو تائید و حمایت حاصل نہ ہوسکی ہے یہ الگ بات ہے کہ مسلمان اپنے طور سے اس میں شرکت ضرور کر رہے ہیں
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک کو مکمل تائید حاصل ہو اور ان قائدین سے راہ و رسم پیدا کی جائیں ممکن ہے کہ یہ تحریک اور طویل ہوجائے اور اس میں شدت و کرختگی پیدا اور پورا ملک اس کا حصہ بن جائے، مسلم قائدین کسان آندولن کے لیڈران سے ملیں اور گذرتے وقت کے ساتھ جتنے مسلم مخالف قوانین بنے ہیں اس تحریک میں شامل کردیں، چونکہ کسان لیڈران اب مسلسل یہ آواز بلند کر رہے ہیں کہ دیش کے باشندے مذہبی تشخصات سے بلند ہوکر پورے اطراف و اکناف سے چل کر اس تحریک کا حصہ بنیں، اگر ایسا سب نے کرلیا تو ملک ڈکٹیٹر شپ کے چنگل سے آزاد ہوجائے گا.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close