Uncategorized

ڈونالڈ ٹرمپ ، امریکی صدارت کا سیاہ باب : مشتاق احمد نوری

ڈونالڈ ٹرمپ نے جاتے جاتے کچھ ایسی چال چلی جس سے اس نے امریکہ کی صدارتی ہسٹری میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کر دیا۔ اس کا انتخاب ہی متنازہ فیہ رہا تھاف اور اس نے اپنے دور صدارت میں جتنے فیصلے لۓ وہ کسی بھی طرح مناسب نہیں رہے۔مسلم ممالک کے لٸے وہ زہر ثابت ہوا۔قطر اور ایران کو اس نے پابندیوں سے جکڑ کر برباد کرنے کی کوشش کی۔ سعودی عربیہ اس کے اشارے پر ناچتا رہا اور دیگر عربی ممالک سعودی عربیہ کے اشارے پر حرکت کرتے رہے۔اور اسراٸیل کی پانچوں انگلیاں گھی میں رہیں۔
ٹرمپ نے نارتھ کوریا کو بھی پریشان کیا لیکن وہاں کے تانا شاہ نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور اپنی ایٹمی طاقت کا وہ دھونس دیکھایا کہ ٹرمپ کی ہوا بھی پھُس سے نکل گٸ۔ ایک ہمارے مودی تھے جنہوں نے کڑوڑوں ڈالر کے پروگرام میں ” اب کی بار ٹرمپ سرکار “ کے نعرے لگواٸے اور یوں خوش ہوٸے جیسے انہوں نے امریکہ کی جنگ جیت لی ہو۔پھر ٹرمپ کو گجرات بلاکر کڑوڑوں روپٸے خرچ کر خراج عقیدت پیش کیا اور ٹرمپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی مودی جوچاہینگے وہی امریکی کرینگے یعنی مودی ہے تو ممکن ہے۔میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ مودی نے کڑوڑوں اس پاکل پن میں کیوں خرچ گیا۔اس کا سب سے مزیدار پہلو یہ رہا کہ اس کے ہی موٹا بھاٸی نے ٹرمپ کی موجودگی میں دہلی میں پری پلانڈ فساد برپا کیا انہیں معلوم تھا کہ ٹرمپ کی موجودگی کی وجہ سے پورے ملک کی میڈیا دہلی میں موجود رہےگی اور مسلم کش فساد کا کوریج مفت میں پورے ملک میں ہوگا اور مودی بدنام ہونگے اور یہ پلان کامیاب بھی رہا۔
ٹرمپ نے دنیا کے سات مسلم ممالک کے افراد کا امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ایران کے فوجی چیف کا قتل کروادیا اس نے ہر وہ کام کیا جس سے مسلمانوں کوزک پہونچایا جاسکے۔ویزا ایشو کرنے میں پابندی بڑھا دی۔اس کے ارد گرد بھاجپا اور آر ایس ایس کے افراد کی فوج کھڑی تھی جو ٹرمپ کے دماغ میں زہر بھر رہی تھی۔ ٹرمپ کے دور میں دنیا اس کے پاگل پن سے ڈرتی رہی اور اس کے ہونٹوں سے کمینی مسکراہٹ کا ظہور ہوتارہا۔
تازہ الیکشن میں اس نے ہر وہ ہتھکنڈا اپنایا جس سے وہ دوبارہ جیت جاٸے لیکن امریکی عوام نے پہلے سے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ الیکشن کے دوران بار بار اپنی جیت کا پرپگنڈا کرتا رہا لیکن جب وہ مکمل طور سے ہارگیا تو اپنی کمینگی کا دوسرا کھیل شروع کردیا ایسا کھیل جس سے امریکی صدور کی تاریخ ناآشنا تھی۔ کوٸ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ٹرمپ اپنے غنڈوں سے ایوان پر حملہ کروادیگا۔ اس کے غنڈے ہاتھوں میں اسلحہ اٹھاۓ ایوان میں داخل ہوٸے آفس میں توڑ پھوڑ کی ۔راہداری کے مجسمے توڑے قیمتی تصاویر برباد کیں وہاں کی ہر شے کو تہس نہس کرنے کی کوشش کی۔ ان لوگوں نے ایوان کے اندر جس غلیظ زبان کا استعمال کیا یہ تو ایوان کی صدر نینسی پلیوسی ہی بتا سکتی ہیں۔ انتہا یہ ہے بھاجپا کے بندے بھی بھاتی ترنگا لیکر ایوان میں زبردستی داخل ہورہے غنڈوں کا ساتھ دیا اور اپنے آقا کو پیغام دیا کہ ہم آپ کے دوست کا ساتھ دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی بدمعاشیاں ساری دنیا کی نظر میں آچکی تھی اس وقت سب سے اہم رول سینیٹ کی صدر نینسی پلیوسی کا رہا جس نے مردانگی کا ثبوت پیش کرتے ہوٸے اسے سینیٹ کے ووٹ سے مواخذہ کرکے ایوان سے باہر نکالنے کی تدبیر شروع کردی۔ اگر ایسا ہوجاتا تو یہ بھی تاریخ بنتا اور ٹرمپ تاحیات پنشن جو ماہانہ دولاکھ ڈالر تھی سے محروم ہوجاتے اورسفری الاٶنس سالانہ ایک میلین ڈالر سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا۔یہی نہیں وہ دوبارہ الیکشن بھی نہیں لڑسکتے ساتھ ہی سیکرٹ سروس کی خدمات سے بھی محروم کردٸے جاتے۔
سینیٹ نے سارے ہنگامے کے پیش نظر ججوں پر مشتمل انکواٸری کمیشن قاٸم کردی لیکن یہ جان کر حیرانی ہوٸ کہ ریپبلیکن پارٹی کے اراکین کےساتھ مقامی پولیس کے کچھ عملے بھی اس سازش میں ملوث تھے۔ ٹرمپ کے خوف سے ریپبلیکن پارٹی کے صرف دس اراکین نے صدر کے خلاف ووٹ دینے کی ہمت کی باقی کو ڈر تھا کہ ٹرمپ اپنے غنڈوں سے انہیں مروا دیگا۔اسی لٸے مواخذہ نہ ہوسکا لیکن انکواٸری میں ایسے ایسے حقاٸق سامنے آٸے کہ نینسی بھی ڈر گٸیں انہیں بھی فون پر جان سے مارنے کی دھمکی دیگٸی
جہاں ٹرمپ کی حرکتیں دنیا کے سامنے آٸیں وہیں اسّی سالہ نینسی کی ہمت بھی لوگوں کو حیران کرگٸی کسی نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ڈونانڈ ٹرمپ جیسے مطلق العنان صدر کے سامنے نینسی چٹان کی طرح کھڑی ہوجاٸے گی وہ آج بھی سوچ رہی ہیں کہ ٹرمپ کے خلاف کارواٸ کرنا اتنا بڑا جرم نہیں ہے کہ ٹرمپ کے حامی اسے مارنے کی دھمکی دینے لگیں۔ اٹلی کے چھوٹے گاٶں سے آکر نینسی اتنے بڑے عہدے تک پہنچ کر صدر کے خلاف اتنی بڑی کارواٸ کرنے کا حکم دینگی انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا جہاں ایک طرف دنیا ٹرمپ کی کمینگی کو یاد رکھے گی وہیں نینسی کی ہمت بھی لوگ بھلا نہیں سکینگے۔
اسی دوران ٹرمپ نے ایک بہت گھٹیا حرکت کی اور وہ بکس جس میں ایٹم بم گرانے کا کوڈ تھا جو صدر کے پاس ہی رہتا تھا اسے لیکر چلتے بنے اب لوگوں کو ڈر تھا کہ یہ پاگل کچھ کر نہ بیٹھے لیکن اللہ کا کرم رہا کہ دوسرا بکس بنا کر کوڈ تبدیل کردٸے گٸے۔ ٹرمپ نے ایسی ایسی حرکتیں کیں جو امریکی صدر سے منسوب نہیں کی جاسکتی تھیں ۔
جیو باٸیڈن نے فوجیوں کے گھیرے میں صدر کی اوتھ لی اور امریکہ نے سکون کی سانس لی۔باٸیڈن نے پہلے دن سے مثبت فیصلے لینے شروع کردٸے۔سات مسلم ممالک پر لگی پابندی کو ختم کی۔ویزے کے اصول کو آسان بنایا بھاجپاٸ اور آر ایس ایس کے چمچوں کو نکال باہر کیا اور اچھی جمہوریت کی روایت قاٸم کرنے کے لٸے جو بہتر ہو اسے انہوں نے کرنا شروع دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنا گوشہ پکڑ لیا ہے لیکن اسے جاننے والے یہ کہ رہے ہیں کہ وہ آج بھی خرافات کے دریا میں ڈبکی لگانے میں مگن ہے۔
ٹرمپ کی کراری شکشت سے مودی کی بھی نیند اڑ گٸی ہے اور وہ ہندوستانی کسانوں کے گھیرے میں پھنسے ہیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اپنے دوست ایسٹ انڈیا کمپنی کے نٸے اوتار کا ساتھ دیں یا ملک کے تنگ حال کسانوں کا جو ان کے گلے کی ہڈی بنے ہوٸے ہیں ۔
علامہ اقبال یاد آرہے ہیں۔
جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشٸہ گندم کو جلا دو

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close