کالمز

اترن(کہانی) حرف بحرف– محمد سلطان اختر نوادہ،(بہار)

شبنم پٹنوی اور سلمان کی بات ختم نہیں ہوئی دونوں اب باتیں طویل کرتے رہے اب منہ بولے بھائی بہن کے رشتے کے ساتھ رہنے لگے۔ اور بہن کا پورا درجہ شبنم پٹنوی کو سلمان دینے لگا،اِدھر شبنم پٹنوِی بہت ہی صبر و قناعت و شجاعت کے ساتھ اس کی زندگی کٹ رہی تھی باپ کی کی اکلوتی اولاد ہونے کے وجہ سے بڑے ناز و نکھرے کے ساتھ پلی بڑھی تھی ان کے والد ایک اچھا رشتہ تلاش کرکے ارباز سے شادی کر دی تھی۔ ارباز پڑھا لکھا کافی تھا مگر قسمت کے مارے کو نوکری نہیں مل سکی، ارباز کی فیملی بھی بہت چھوٹی تھی جس طرح سے شبنم پٹنوی کی فیملی تھی اسی طرح سے سید ارباز کی فیملی بہت چھوٹی تھی ارباز دو بھائی دو بہن پر مشتمل اس کی فیملی تھی ۔ گھر جوائنٹ فیملی تھا۔شبنم اور ارباز خوش دلی کے ساتھ بہت ہی پیار اور محبت کے ساتھ دونوں کی زندگی رواں دواں چل رہی تھی۔ اور دونوں سے نرینہ تین اولاد ہوا تھا۔نہاں بڑی تھی جو نو سال کی ہو چکی تھی ۔ اور حنا پروین سات سال کی، اور نایاب تین سال کا تھا۔ شبنم پٹنوی کا ارباز کے ساتھ خوشحال زندگی چلتا رہا اور اسی بیچ لوک ٹاؤن آنے کی وجہ کر کافی دنوں تک چھٹی رہی۔ شبنم پٹنوی ایک سرکاری اسکول میں ملازمہ تھی۔ اِدھر لوک ڈاؤن کی وجہ کر ارباز کی بھی دوکانیں کھول نہیں رہی تھی۔گھر میں دونوں کے بیٹھے بیٹھے کبھی کبھی ازدودي زندگی میں کھٹاس بھی پڑ جاتا،اُس وقت شبنم کو سلمان کی محبت خوب یاد آتی اور اُسکی یادوں میں کہو جاتی۔شبنم آرٹیکل،غزل،اور افسانہ نگار بھی تھی۔۔یہ لکھنا اُسکی تصویر اخبارات میں شائع ہونا ارباز کو بالکل پسند نہیں تھا،مگر شبنم اپنے ضد کے آگے کیسی کی نہیں سنتی جس سے ارباز کے ذہن پر آہستہ آہستہ برا اثر پڑتا رہا۔ارباز کی آمدنی بھی ان دنوں ختم ہو چکی تھی گویا شبنم پر منحصر رہنے لگا تھا اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی شبنم کی اِن زیادتیوں کو سہتا رہا۔اس لوک ڈاؤن میں کڑھن سے ارباز کی طبیعت بگڑی، بچّوں پر توجہ نہیں رکھتی شبنم کے اس رویہ سے ارباز بالکل ٹوٹ سا گیا تھا۔ ارباز کو اچانک بیمار ہونے کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا۔ مگرکوئی بیماری واضح نہیں ہوئی۔۔کافی روپیہ خرچ کرنے کے بعد دلّی ایمس میں جانچ و پڑتال کے بعد علم میں آیا انہیں آنت میں ٹیومر ہوگیا وہ ٹیومر کینسر کی جگہ لے چکا ہے۔ڈاکٹر لا علاج بیماری کہہ کر گھر لے جانے کو کہا۔اب ارباز گھر کا مریض بن گیا تھا اور کینسر کے مرض میں مبتلا رہکر پندرہ دنوں کے اندر ہی شبنم کو خیر باد کہہ کر اس دنیا دار فانی سے چلا گیا۔۔۔۔

سمجھو کہ شبنم کی زندگی برباد ہو گئی اور اس کے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اب تو اس گھر میں اپنے بھی غیر لگنے لگے۔ اسے سب خدا کی مرضی کا دلاسہ دلاکر شبنم پٹنوی کو صبر و تحمل کی تلقین کرتا، اب سسرال میں عددت گزارنے تک ہی یہاں رہنا تھا۔شبنم کے سسر حیات میں تھے ارباز انتقال کر گیا اِس لئے شبنم اب وراثت سے محجوب ہو چکی تھی۔اسی وجہ کر کر جائیداد سے محروم کر دیا گیا کیونکہ شریعت کا یہی حکم ہے۔ باپ کے رہتے ہوئے بیٹا انتقال کر جائے گا تو بہو کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ شبنم پٹنوی جہاں دلہن بن کر آئی تھی وہاں اب اس کو بہت گھٹن سی محسوس ہورہی تھی بہت رونا آرہا تھا کتنی اچھی خوشحال زندگی کے ساتھ گزر بسر کر رہی تھی۔لیکن اب اسے واپس جانا تھا جس گھر سے دلہن بن کر آئی تھی وہیں واپس جانا تھا۔ دس سال ارباز کے گھر پر رهکر تین بچوں کے ساتھ دوبارہ لوٹ کر چلی گئی۔

اُسے ارباز کی نصیحت ستا رہی تھی یاد آرہا تھا کہ کاش میں ارباز پر کچھ وقت دیتی تو آج میری نظروں کے سامنے ہوتا۔۔آج میرا افسانہ نگاری کوئی کام نہیں دے رہا ہے۔ اب مائیکے میں ایک ایک دانے کے لئے پریشان ہو جاتی۔ کافی دنوں کے بعد سلمان سے اچانک بات چیت ہوتی ہے۔۔سلمان سے بھی نوک جھونک ہونے کی وجہ کر شبنم بات نہیں کر رہی تھی۔تو سلمان فوں کرنا چھوڑ دیا تھا۔سلمان کو ارباز کے موت کی بھی خبر نہیں ہو پائی تھی۔ سلمان کہا کہ مجھےان پانچ مہینے کے عرصے میں آپ نے کبھی فون بھی نہ کیا اور ہماری مشغولی کہ ہم بھی آپ کو کال نہیں کر سکے۔جب کرتا تو آپ کال کیوں نہیں اٹھاتی تھی۔ ہم منہ بولے بھائی ہیں جس کی وجہ سے آپ نے مجھے اگنور کیا آپ نے اچھا نہیں کیا اور وہ فون پر بہت دیر تک زاروقطار کے ساتھ منہ بولے بھائی سلمان کے ساتھ رونے لگتی ہیں اور سلمان بھی رونے لگتا ہے کہتا ہے قدرت کا کیا ٹھکانہ سلمان ان کے تین بچوں میں سے دو بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری لیتا ہے اور چھوٹے بچے کے لئے کہتا ہے کہ اسے آپ اپنے پاس رکھیں جب پڑھنے قابل ہو جائے گا میں اسے بھی پڑھانے لے جاؤنگا۔ ابھی مادری گود میں پڑھنے دیں جب بڑا ہو گا اسے بھی میں ہی پڑھاونگا اس کی پوری تعلیم و تربیت کی ذمہ داری میرے ذمہ ہوگی، یہاں سے شبنم کا کچھ بوجھ ہلکا ہوتا ہے شبنم پٹنوی کو اس کے خرچ کے لئے جہاں تک ہو سکتا ہے سلمان پوری مدد کرتا ہے۔۔اِدھر شبنم کی نوکری کے بھی لالے پڑ جاتے ہیں۔۔شبنم کی کافی غیر حاضری ہو جاتی ہے جو ظاہر ہے۔۔اسکول منیجمنٹ نکالنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اُس میں اسکول مینجمنٹ کامیاب ہو جاتا ہے۔کیوں کہ سلمان کا اشارہ ہوتا ہے جس سے اسکول منیجمنٹ کو تقویت مل جاتی ہے اور شبنم کو اسکول کی نوکری چھوڑنی پڑی۔ سلمان سبھی کا خرچہ چلاتا رہتا ہے لیکن وقت و حالات کی نزاکت کے ساتھ ساتھ شبنم پٹنوی کے والد شعیب بھی بہت ہی غمزدہ ہوتے رہے شبنم پٹنوی کے گھر والے خاص کر اُنکی دونوں بھابھی کو ان لوگوں کے منہ بولے بھائی سلمان کی رشتے داری ہضم نہیں ہوتی ہے اور کہتی ہے کیا ہے یہ رشتہ ہے ۔لیکن اتنا پاکیزہ رشتے ہوتا ہے کہ اب تک سلمان اور شبنم پٹنوی کی صرف دو ملاقاتیں ہوتی ہیں ایک بار تعزیت کے لئے جو اس کا شوہر انتقال کر جانے پر عدت کے بعد وہ میکے میں رہتی ہے تب۔۔ اور ایک بار سلمان ارباز کے حیات زندگی میں ہی ملاقات کرتا ہے۔یہ دو ملاقاتیں اس کے علاوہ کوئی ملاقات نہیں لیکن پھر بھی لوگ کی زبان کو کہاں تک روکیں گے اسی بیچ بھابھی کہہ دیتی ہیں ہیں کہ جب سلمان کے پاس بھی بیوی نہیں ہے آپ اسے بھائی سمجھتی ہیں۔تو کیوں نہیں اس رشتہ کو ازدواج میں تبدیل کر دیتی ہیں۔اتنا سننا تھاکہ شبنم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے کہ میرا یہ بہت ہی پاکیزہ رشتہ ہے میرا یہ بھائی ہے میں آپ لوگوں کو کیسے سمجھاؤں۔ ان کے والد بھی آہستہ سے کہنے لگتے ہیں تم نہیں کہو ہم سلمان سے بات کریں گے اگر وہ تجھے پسند کرتا ہے تو ہم اس سے رشتہ کے لیے آمادہ کریں گے لیکن شبنم پٹنوی بہت روتی رہتی ہے۔ پھر اُسی وقت سلمان اور شبنم پٹنوی کی بات چیت موبائل کے ذریعے ہوتی ہے اسی بیچ اسے دعوت دی جاتی ہے میرے گھر پہ آپ آئیں ابو نے بلایا ہے جب وہاں سلمان پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ سارے لوگ بہت ہی غم زدہ ہیں ۔ سلمان پوری کیفیت جاننے کی کوشش کرتا ہی ہے کہ شبنم کے والد شعیب صاحب پورا بائیو ڈاٹا پوچھنے لگتے ہیں پوچھنے کے بعد سلمان بتاتا ہے کہ ہم کئی ادارے چلاتے ہیں ہمارا ایک پریس ہے اور اسی سے ہمارا گذر بسر ہوتا ہے سلمان سے پوچھتے ہیں کہ آخر اتنی عمر ہوگئی آپ نے شادی کیوں نہیں کیا سلمان کہتا ہے میری شادی ہوئی تھی ہمیں بھی تین بچے ہیں لیکن لیکن بیوی کے انتقال کے بعد سے اب تک نہ شادی کی ہے نہ کرنے کا ارادہ ہم نے کیا ہے۔ کہا میری بیٹی شبنم پٹنوی کو تم کس طرح چاہتے ہو،اُس نے کہا کہ بہت چاہتا ہوں اور آج سے نہیں پانچ سال پہلے سے۔۔ میں نے بہت ہی چاہا ہے بہت ہی پسند کیا بلکہ اس وقت میں اپنے شادی کا پیغام بھی بھیجا تو اس نے صاف غصے اور ناراضگی کے ساتھ کہہ دیا کہ میں کسی کی منکوحہ ہوں یعنی کسی کی بیوی ہوں۔ اور میں 3 بچوں کی ماں ہوں اس کے بعد ہم لوگوں کا رشتہ بھائی بہن کا ہوگیا جو کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو کھونا نہیں چاہتے ہیں تبھی سے بھائی بہن کا رشتہ قائم ہے بہن و بھائی کے رشتے میں اب تک کوئی کسی جانب سے داغ نہیں آیا۔کہا کہ وہ بات تو صحیح ہے کہ بیوہ ہونے کے بعد تم جس طرح سے مدد کرتے ہو سب کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی ہے اگر تو چاہتا ہے کہ شبنم پٹنوِی کی کوئی بدنامی نہ ہو کوئی اس پے انگلی نہ اٹھائے تو تُو اُس سے نکاح کر لے۔ سلمان بہت ہی پریشان ہوتا ہے یہ میرا رشتہ بھائی بہن کا رشتہ ہے رشتے کو تار تار نہ کریں۔شبنم کے والد کے پاس ایک مفتی صاحب جو قریب کے مسجد کے امام ہوتے ہیں وہیں موجود ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا شرعی طور پر وہ تو آپ کی بہن نہیں ہوئی۔ منہ بولے بھائی ہے آپ کی شادی ہو سکتی ہے آپ اگر چاہیں تو شادی کر کے اس کی زندگی بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔اب نہ کوئی زبان کھولے گا۔نہ کوئی انگلی اٹھائے گا۔ نہیں کوئی اعتراض کریگا۔تب سلمان کہتا ہے اگر شبنم تیّار ہے تو مجھے ارباز کا اترن بھی قبول ہے جو شبنم کی شکل میں ملےگا۔ایسا اترن اگر ملے گا تو اسے تبرک سمجھیں لیکن آپ ایک بار شبنم پٹنوی سے پوچھ لیں اس کی رضامندی ہوگی تبھی ہم اس کے لیے تیار ہونگے ۔شبنم پٹنوی یہ باتیں دروازے کی چوکھٹ سے کان لگا کر سن رہی ہوتی ہے اور اپنی خوشی کے آنسو رو رہی ہوتی ہے جب ان سے ان کی بھابھی پوچھنے آتی ہے کیا تم تیّار ہو سلمان سے نکاح کی اجازت دیتی ہو۔ پھرشبنم کی بھابھی سلمان کے قصیدہ پڑھنے لگتی ہے۔ کتنا پیارا لڑکا ہے کتنی اچھی بولی ہے کتنی پیاری پیاری باتیں کرتا ہے۔کتنی سمجھداری ہے اس میں۔ ہم تو شبنم تم کو بہت ہی برا بھلا کہا ہم اس کے لئے معذرت خواہ ہیں تم ہمیں معاف کر دو لیکن تم تیار ہو جاؤ وہ بالکل تیار ہے یہ تین بچوں کو بھی لینے کو تیار ہے اورپہلے سے بھی تین بچہ ہیں گویا تم ابھی سے چھ بچوں کی ماں ہو گئی تبھی شبنم ہاں کہہ دیتی ہے اور اس کے بعد وہیں پر نکاح ہو جاتا ہے نکاح کے بعد ایک شب وہاں گزارنے کے بعد اپنے تینوں بچوں کو لے کر سلمان اپنی جگہ پے واپس نوادہ آ جاتا ہے اور حقیقت کی محبت کو زندہ ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور شبنم سے کہتا ہے کہ دیکھا تو میری محبت اور میرے عشق کا عالم کہ ایسے نہ سہی ویسے ہی سہی لیکن خدا نے دُنیا ہی میں ملا دیا۔ اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہوا سلمان شبنم کو دوبارہ دلہن بننے کی مبارک بادی پیش کرتاہے۔پھر دونوں ایک دوسرے کو دوبارہ دولہا دلہن بننے کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔اور خوب کھلکھلا کر ہنس رہے ہوتے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close