کالمز

دلی نہیں,ملک کے لوگوں کا دل جلاہے! مفتی محمد نجیب الرحمن قاسمی

محترم قارئین کرام….جیساکہ آپ بھی اس بات سے واقف ہیں کہ پچھلے کئ دنوں سے دہلی کے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں.دہلی کے سلسلہ میں کہیں اخبارات شائع ہورہے ہیں تو کہیں ٹی,وی,چیلنوں میں دہلی میں ہوئے فساد کو نشر کیا جارہا ہے.لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے?اسکا اصل ذمہ دارکون ہے?کون ہے جو اس طرح کے کام کو بڑے اطمینان کے ساتھ انجام دے دیتا ہے.اور پولس اور حکومت ایسے لوگوں پکڑنے اور سزا دینے سے قاصر ہے? کیا پولس اور تخت نشیں افراد نےحلف لیتے وقت یہ عہد نہیں کیا تھا کہ,,ہم اللہ کو حاضر وناظر جان کر اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم بھارت کے دستور کے تحت اپنے فرائض پوری لگن اور ذمہ داری اور ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے.اس سلسلہ میں آئین میں جو قوانین بنائے گئے ہیں.انکی سختی سے پابندی کریں گے.ہم اس بات کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کا پاس ولحاظ رکھیں گے.اور عوام کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے.یہ وہ حلف ہے جو پولس والے اور تخت نشیں فراد اپنی ڈیوٹی اور ذمہ دسری شروع پونے سے پہلے اٹھائے ہیں.لیکن آج ملک کے مختلف مقامات پر خصوصا دہلی میں جو کچھ ہورہا ہے ,اور جس بہیمانہ انداز میں لوگو کو مارا پیٹا جارہاہے,گھر جلائے جارہے ہیں ,گولیاں چلائ جارہی ہیں,فسادی خود پولس کا سہارا لے کر بڑے بے دردی سے لوگوں قتل کررہاہے,ظاہر ہے اس سے ان تمام باتوں کی نفی ہورہی ہے,جو تخت نشیں اور پولس نے اپنی ڈیوٹی سے پہلے قسم کھائ تھی ,پولس ابھی جو رول اداکررہی ہے اس سے نہ صرف یہ کہ سماج اور قانون سے لوگو ں کا اعتماد اٹھ رہا ہے بلکہ انسانیت بھی انکی اس حرکت سے شرمسار ہوتی جارہی ہے,یقین جائیےدہلی فساد میں اگر پولس چاہتی تو منٹوں میں حالات کو قابومیں کرلیتی ,اور فسادیوں کو پکڑ کر جیل خانے بھیجوادیتی.مگر دہلی پولس تماشائ بنی رہی,اور فسادیوں پر دہلی پولس کا کوئ اثر نہیں ہوا,وہ پولس کے سامنے گولی چلاتے رہے,لوگوں کو آگ میں جلاتے رہے,بلکہ ان فسادیوں نے تو ایک 85 سالہ ماں کو بھی نہیں چھوڑا,اور اسے بھی بڑی بے رحمی سے جلادیا,اب تک دہلی فساد میں 27 لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں,اس بات سے مجھے ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر باشندہ کو بہت تکلیف ہے,کہ پولس کے سامنے لوگوں کو ماراجاتا رہا,گولیاں چلائ جاتی رہی,اور پولس والے تماشہ دیکھتے رہے,اسی لئے میں یہ بات کہنے پہ مجبور ہوا کہ دلی نہی,ملک کے لوگوں کا دل جلاہے.اور حکومت خاموش ہے.ملک اور ملک لوگوں کے لئے اس سے بڑی بدنصیبی کی بات اور کیا ہوگی.
کوئ جب پوچھتا ہے حال دل کا..
تو رودیتاہوں اک آہ بھر کے
اللہ تعالی اس ملک کی اور یہاں کے رہنے والے ہر باشندے کی ہر چہارجانب سے حفاظت فرمائے.آمین
مفتی محمد نجیب الرحمن قاسمی
.مدرسہ طیب العلوم مسجد عائشہ منگم پالیہ بنگلور

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close