Uncategorized

جینے کی تمنا ہے، مرنے کا زمانا ہے : شمس تبریز عزیزی

آج صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا جس معاشی بحران سے گزر رہی ہے جس معاشی بحران سے دوچار ہے، جس economical crisis کی مار جھیل رہی ہے،جس آرتھک تنگی سے پریشان ہے اس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے. اپنے ہندوستان کو لیجئے جہاں کی جی ڈی پی گرتے گرتے مائنَس 23 تک پہنچ گئی ہے. بے روزگاری کی شرح روز بہ روز بڑھتی ہی جا رہی ہے. کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے، روزگار والوں کے روزگار چھن گئے. بھک مری عام ہوتی جا رہی ہے. مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے. جو غریب تھے وہ غریبی کی ریکھا سے نیچے چلے گئے.

ایک طرف وبا اور مہاماری ہے تو دوسری طرف دنیا کے حکمرانوں کا ظالمانہ اور غیر تدبیری نظام ہے کہ دولتمند امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب طبقہ، غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے. کہیں شخصی حکومت کا تسلط ہے تو کہیں سرمایہ دارانہ نظام کا قبضہ. اور دنیا اسی کی مار جھیلتے جھیلتے اپنی آدھی آبادی گنوا دینے کی کگار پر ہے. دنیا جب تک اسلام کے عادلانہ نظام کے مطابق چلتی رہی انسانیت نے ایسی غربت کا منہ نہیں دیکھا ، اس کے بر عکس موقع ایسا آیا کہ ریاست میں کوئی صدقہ اور زکوٰۃ کا مستحق نہیں بچا. یاد کیجئے رسول اللہ کے عہد کو. یاد کیجئے خلیفہ ثانی عمر کے دور کو. یاد کیجئے عمر بن عبدالعزیز کے زمانے کو. جب تک دنیا اسلام کے فطری آئیں اور دستور کی حفاظت کرتی رہی، قدرت کی نوازشات میں کوئی کمی نہیں آئی. لیکن جب انسان نے اپنی فرومایہ نگاہوں اور کوتاہ ہاتھوں کو فطرت سے بالاتر سمجھ کر سب کچھ اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کی تو تباہی اور بربادی اس کا مقدر بن گئی.
ایک طرف کورونا نے کتنوں کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا. دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی. صرف بھارت میں کم و بیش 80 ہزار لوگوں کی موت ہو گئی. متاثرین کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے. دوسری طرف WHO کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً آٹھ لاکھ افراد خود کشی کر لیتے ہیں. دنیا میں بڑھتی بھک مری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر پانچ سیکنڈ میں ایک بچہ بھوک سے دم توڑ دیتا. اعدادوشمار کا اندازہ لگائیے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی. غریب ایک نوالے کے لئے اپنی کڈنیاں بیچ دیتے ہیں، اپنے بچے فروخت کر دیتے ہیں.

عالمی پیمانے پر پھیلی اس بد حالی کا ذمہ دار کون ہے؟ کون ہے جو انسانوں کی معیشت کو تباہ و برباد کرتا ہے؟ کون ہے جو انسانوں کو بھک مری کا شکار بناتا ہے؟ کون ہے جو انسانوں کو خود کشی پر مجبور کرتا ہے؟ کون ہے جو انسانی آبادی کو انسانیت کیلئے خطرہ سمجھتا ہے؟ کون ہے جو زندہ رہنے کیلئے دوسروں کو بے موت مار دینا ضروری سمجھتا ہے؟ کیا اپنا پیٹ بھرنے کیلئے دوسروں کے پیٹ پر لات مارنا ضروری ہے؟ یہ کیسی ریس ہے جہاں جیتنے کیلئے دوسروں کو لنگڑا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے؟ کون ہے جو انسانوں کو ختم کرنے کیلئے خفیہ پالیسیاں تیار کرتا ہے؟ آخر وہ بھی تو انسان ہی ہے. پھر انسانوں سے ایسی نفرت کیوں؟ کیا ہماری زندگی کسی کی موت کا پیغام ہے؟ گلوبلائزیشن، موڈرنائزیشن، کتنے دلفریب نعرے ہیں. یہ کیسی ترقی ہے کہ زندگی کا حق صرف ترقی یافتہ تک ہی محدود ہے. لعنت ہے ایسی ترقی پر، نہیں چاہئے ایسی ترقی، جہاں طاقتور کمزور کو لقمہ بنانا اپنا آئینی حق سمجھتا ہو. وقت کے فرعونو! بند کرو یہ ڈرامہ، ہمیں بس جینے کا حق دے دو، ہمیں زندہ رہنے کی آزادی دے دو.
موت نے ہر سو اپنا منہ کھول رکھا ہے. آگے پیچھے، دائیں بائیں، ہر طرف اسی کا پہرہ ہے. وبائی امراض کی صورت میں ہو خواہ بھک مری کی صورت میں. معاشی بد حالی کی صورت میں ہو خواہ بے روزگاری کی صورت میں. زندگی کی راہیں تنگ ہوتی جا رہی ہیں اور موت کے دروازے کھلتے چلے جا رہے ہیں. تالا بندی کے سبب زندگیاں محبوس ہو کر رہ گئی ہیں. موت کے قدموں پر خود سپردگی کے سوا انسانوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں. ایسے عالم میں دل بس یہی کہتا ہے کہ :
” جینے کی تمنا ہے، مرنے کا زمانا ہے”

شمس تبریز عزیزی
شعبہ فرنچ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
shamstabrezazizi5@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close