Uncategorized

ہنسی کی بات : تحریر :خورشید انور ندوی

واقعی بعض باتیں کتنی ہی رجائیت پر مبنی کیوں نہ ہوں، اور ہمارے دل کے نہاں خانے میں دبی چھپی معصوم تمنا کو کیوں نہ منعکس کرتی ہوں.. حقیقت کی سنگلاخ زمین پر مضحکہ خیز بن جاتی ہیں… کل کے اخبار کے اتوار ایڈیشن میں ایک عنوان نظر سے گزرا :
"کیا عرب حکمران آزاد فلسطینی ریاست قائم کروا سکیں گے؟ ”
سچ کہیں،پڑھ کر، آپ کو ہنسی آئی یا نہیں؟
اگر فلسطین اور فلسطینیوں کے قضیہ سے آپ کو کوئی خاص دلچسپی نہ رہی ہو، نہ ہو، بس آپ صرف اخبار پڑھنے کی حد تک، خبروں کی سرخیاں دیکھ لیتے ہوں، تو بھی آپ اپنی ہنسی کیسے روک پائیں گے؟ آپ نہیں روک سکتے، بعد میں چاہے، آپ خون کے آنسو رولیں.. دل کی کسک جگالیں، اور اپنی لاش پر خود ہی نوحہ گر ہوں..
پچھلے ستر سال سے ، جغرافیہ پر اور اٹلس پر سارے عرب ملک موجود ہیں.. دو نام کی جنگی جھڑپیں بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہیں.. عربوں کی سینکڑوں کانفرنسز، چوٹی کانفرنسز جن میں سربراہان مملکت شرکت کرتے ہیں، مسئلہ فلسطین پر ہوتی رہی ہیں،، ہزاروں اعلامیے جاری ہوتے رہے ہیں.. عرب خطابت کی جھنکار، گھن گرج، اور للکار دنیا نے خوب خوب سنا ہے،، لیکن انتہائی خاموشی سے فلسطین کی زمین 25٪ رہ گئی، مابقی 75٪ اسرائیل کا باقاعدہ حصہ بن چکی..
اب متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تازہ معاہدہ امن کے نتیجے میں، بقول امارات، اسرائیل نے مجوزہ امن کی پاسداری کی ضمانت دے دی ہے. اور مغربی کنارے کے مجوزہ باقاعدہ انضمام سے رک گیا ہے.. جس کو یہ ابلہ ملک اپنی بڑی اور تاریخی کامیابی کا عنوان دے رہا ہے.. معاہدہ پر عمل درآمد اور اس تاریخی موقع پر جشن چراغاں منانے، اسرائیل کا وفد امارات پہونچا ہے، اور دو خلیجی ملک، سعودی عرب اور بحرین نے اسرائیلی طیاروں کو باضابطہ مستقل فضائی راہداری بھی فراہم کردیا ہے..معلوم نہیں کن خفیہ اسباب کی بنا پر سعودی عرب نے اسرائیل سے معاہدہ امن کو معرض التوا میں رکھا ہے.. جب کہ امریکی اخباری اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ منظور کیاجانا ایک تسلیم شدہ امر ہے..
ماضی اور حال میں، خلیجی ممالک فلسطینی اتھارٹی کے انتظامی اخراجات، ادا کرتے رہے ہیں، جو ایک صوبے کے اخراجات سے بھی کم تر ہیں.. لیکن سیاسی سطح پر انھوں نے انتہائی مذموم کردار ادا کیا ہے.. مصر نے بھائیوں جیسا کوئی کردار نہیں ادا کیا.. اردن کو مغرب کی آنکھوں میں ایک اعتدال پسند، امن جو اور موڈریٹ ریاست کا روپ دھارنا تھا.. سعودی عرب کو ، سیاسی طور پر خود کو اپنی حدود مملکت سے باہر کسی سے کوئی سروکار نہیں رکھنا تھا، اور صلے میں اندرونی طور پر ہر آواز کو بے رحمی سے کچلنا تھا اور مغرب کو ان کارستانیوں سے آنکھ بند کرلینا تھا.. یہ ایک پہلے سے غیر دستخط کردہ معاہدہ تھا، جس کی پاسداری ہر ایک فریق نے کی، اور بدترین قیمت فلسطین اور اہل فلسطین نے ادا کی..
ان حقائق کے ساتھ یہ اخباری سرخی:
"کیا عرب حکمران آزاد فلسطینی ریاست قائم کروا سکیں گے؟ ”
ہنسی نکالنے کے لئے کافی ہے یا نہیں؟
اس کا جواب آپ خود کو دے لیں.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close