کالمز

داستان مردان حر میری نظر میں : مجیب الرحمٰن رہبر۔۔۔قصبہ چمروہ ضلع رام پور یوپی

لوگ ڈاؤن کے سبب تمام تر ذمہ داریوں سے فارغ ہوکر کل کا مصروف ترین انسان آج بلکل خالی ہو کر رہ گیا ہے ،وقت میں برکت نہ ہونے کی شکایت کرنے والے بھی اب طوالت شب و روز سے پریشان ہیں، لاک ڈاؤن میں قید ہو کر ہر انسان اپنے اپنے حساب سے وقت گزر رہا ہے، کوئی اپنا قیمتی وقت سونے میں صرف کر رہا ہے ، تو کوئی وقت جیسی عظیم نعمت کو اپنے موبائل کی نذر کر رہا ہے ، غرض یہ کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق وقت گزر رہا ہے ، اب چونکہ لاک ڈاؤن کے سبب مقیدین کی فہرست میں فقیر کا نام بھی آتا ہے ، لہذا عبدعاجز نے بھی اپنے شوق کےپیش نظر لاک ڈاؤن میں قید کا ساتھی اور وقت گزارنے کا ذریعہ کتابوں کو بنالیا،یقین کیجیے گا بہت ہی فائدہ ہوا اور اسی فائدہ کو اب آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں، جیسا کہ کچھ دن پہلے میں نے ایک تحریر "دمشق کےقید خانے میں ” کے عنوان سے لکھی تھی جسے احباب نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا تھا ؛لہذا آج بھی میں اپنا حاصل مطالعہ بعنوان ” داستان مردان حر "میری نظر میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ احباب اصلاح فرما کر احسان فرمائیں گے,,,, ,

زمانہ ۸۲۵ ء کا تھا آج کا اسپین اس وقت کا اندلس ہوا کرتا تھا جی وہی اندلس جو عیسائیت کا مرکز تھا بدقسمتی سے آج پھر وہ انہی کے قبضے میں ہے اس اندلس کو طارق بن زیاد نے صرف سات ہزار کے قلیل لشکر سے فتح کر لیا تھا اورعین اس وقت جب طارق بن زیاد مکمل اندلس فتح کرنے والا تھا اس کا امیر موسی بن نصیر بھی اندلس پہنچ گیا تھا اور اندلس کا بقیہ حصہ اسلام کے ان عظیم جرنیلوں نے فتح کرکے اندلس کی عظیم عیسائی سلطنت کو اسلام کی جھولی میں ڈال دیا تھا ،لیکن اس وقت کے خلیفتہ المسلمین نے ان دو فاتحین کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا وہ تاریخ کے صفحات کو آج بھی داغدار کیے ہوئے ہے؛ بہرحال وقت گزرتا گیا اور زمانہ ۸۲۵ ء کاآ گیا اور اندلس کا امیر عبدالرحمن بن الحکم مقرر ہوا ویسے تو عبدالرحمان ایک عظیم اور ماہر جنگجو تھا جس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ جس وقت اندلس کا امیر اس کا باپ الحکم ہوا کرتا تھا اور اس کے عہد میں کہیں کوئی بغاوت کے آثار نمایاں ہوتے تھے یا باغی سر اٹھاتے تھے تو عبدالرحمن اپنی جارحانہ قیادت کے سبب اس بغاوت کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیتا تھا لیکن اب چونکہ والددنیا سے دارے آخرت کی طرف چل بسا تھا عبدالرحمان اس کی جگہ امیر مقرر ہوا تھا اور اس کی امارت کے ساتھ ہی اندلس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی سازشیں تیز ہوگئیں تھیں اور ان سازشوں کی قیادت فرانس کا بادشاہ "لوئ”کرتا تھایہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے دشمنان اسلام خصوصا عیسائیوں اور یہودیوں نے ہر حربہ اپنا لیا ہے حد تو یہ ہے کہ ان دو قوموں کے لوگوں نے مسلمانوں کو عیاش بنانے کے لیے اپنی بیٹیوں تک کو مسلمان امراء اور مسلمان نوجوانوں کے بستر کی زینت بنانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی؛ جیسے کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ عبدالرحمان ایک عظیم جرنیل تھا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ عورت اور موسیقی کا دلدادہ تھا بس انہی دوکمزوریوں کو بطور ہتھیار استعمال کرکے عیسائیوں نے عبد الرحمن کو اپنے جال میں پھنسا لیا تھا، یہ وہی عبدالرحمن تھا جس کی تلوار کی دھار سے اس وقت کی فرانسیسی بادشاہت کانپتی رہتی تھی لیکن یہ اب عورت اور موسیقی کے دام فریب میں آکر اپنی تلوار کو میان میں کرچکاتھا وہ عبدالرحمن جس کی تسکین قلب میدان جنگ میں تلواروں کی جھنکاروں میں ہوا کرتی تھی اب بربط کی تانوں میں سمٹ کر رہ گئی تھی ،

وہ عبدالرحمن جو کسی وقت میں شہادت کامتمنی ہوا کرتا تھا اب شراب کے گھونٹوں کا رسیا ہوچکا تھا افسوس یہ کہ عبدالرحمن کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اندلس کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جارہا تھا اور عبدالرحمن کو اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا کہ اس کے ملک میں عیسائی اپنے قدم جما چکے ہیں اور بہت ممکن تھا کہ اگر اس وقت اندلس میں کچھ مردان حر نہ ہوتے تو اندلس 825 ء اور اس سے کچھ وقت کے بعد میں دوبارہ عیسائیت کے زیرتسلط چلا جاتاہے لیکن اللہ ان مردان حر کی قبروں پر رحمت کی بارش عطا فرمائے کہ جنہوں نے اس وقت عیسائیت کی ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا کہ جن کی بدولت وہ اندلس سے اسلام کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ امیر عبدالرحمن تو چونکہ اس وقت اپنے اعصاب پر عورت اور موسیقی کو سوار کر چکا تھا اور ساتھ ہی احکام اسلام کو بھی فراموش کرچکا تھا لیکن اس کی فوج کے دو چار سالار اور عہدیدار ایسے بھی تھے کہ جن کی نظر میں انکے آباؤ اجداد کی قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوئی تھی جو ہمیشہ اپنے آباؤ اجداد کے سینچے ہوئے اس چمن کی آبیاری کے لیے کوشاں رہتےتھے جن کے شب وروز سلطنت اندلس کی مضبوطی اور اس کے استحکام میں صرف ہوتے تھے تاریخ میں ان مردان حرکے نام کچھ اس طرح درج ہیں ہیں سالارے اعلی عبیداللہ بن عبد اللہ ، حاجب عبدالکریم ، موسی بن موسی ، عبدالرؤف، اور باقی ان کے علاوہ وہ فرزندان اسلام کے جن کے نام تاریخ میں درج نہیں ہو سکے بہرحال یہ بات نہایت خوش کن ہے کہ جس وقت امیر اندلس عبدالرحمن عورت شراب اور موسیقی میں پھنسا ہوا تھا اور استحکام سلطنت کے اسباب وعلل کو اپنے ذہن سے یکسر مفقود کر چکا تھا اسی وقت کچھ فرزندان اسلام سلطنت اندلس کے استحکام پر مشورے اور لاحیہ عمل تیار کر رہے تھے اور اس کی باگ ڈور عبیداللہ بن عبداللہ کے ہاتھ میں تھی دوسری طرف عیسائیوں کی سازشیں اور آثار بغاوت بڑھتے ہی جارہے تھے جس کا علم سالار اعلی کے مخبروں کے ذریعے ہو رہا تھا اور وہ اس صورتحال سے نہایت پریشان تھے اب ایسے وقت میں ان کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو خود اسلامی فوج کو لے کر سازشوں اور باغیوں کو کچل کر رکھ دیں یا پھر امیرعبدالرحمن کی زیرقیادت یہ کام ہوتا ، لیکن صورت حال ذرا مختلف تھی امیر تو عیش وعشرت میں الجھ کررہ گیا تھااور فوج کے سالارامیر کے بغیر حکم کوئی قدم اٹھانے سے مجبور تھے بہرحال مشورہ یہ طے پایا کہ ایک دو بار عبدالرحمن سے بات کی جائے اور اسے اس کی ذمہ داری یاد دلائی جائے جس دلدل میں وہ پھنس چکا ہے اسے وہاں سے نکالنے کی سعی کی جائے اور اسے بتایا جائے کہ وہ امیرے اندلس اس لئے مقرر نہیں ہوا ہے کہ وہ صرف عورت اور موسیقی سے لطف اندوزہوبلکے وہ امیرے اندلس اس لئے مقرر ہوا ہے تاکہ سلطنت اندلس وسیع اور مستحکم ہو مشورہ کے بعد سالار عبیداللہ بن عبداللہ اور حاجب عبدالکریم امیر عبدالرحمن کے حجرہ خاص میں پہنچے اور وہاں جاکر عبدالرحمن کی غیرت ایمانی کو للکارہ اور بیدار کیا کرم خدا یہ ہوا کہ وہ عبدالرحمن جسے عیسائی اپنا آلہ کار سمجھ بیٹھے تھے عورت اور موسیقی کا غلام سمجھ بیٹھے تھے ایک بار پھر اپنے اصلی رنگ میں آگیا تھا ادھر سالار اعلی عبیداللہ بن عبداللہ اسے پورے اندلس کے حالات سے آگاہ کر رہے تھے اور سازشوں کی بغاوتوں کی تفصیلی رپورٹ دے رہے تھے اور ساتھ ہی اسے طنزیہ انداز میں جگا رہے تھے ادھر عبدالرحمن کے جلال سلطانی اور غیرت ایمانی کے آثار اس کے چہرے پر نظر آرہے تھے تفصیل سے صرف نظر کرتے ہوئے بس یہ بات ذہن میں رکھیں کہ عبدالرحمن اب وہ عبدالرحمن نہیں رہا جو کچھ وقت پہلے تھا اور اب یہاں سے سلسلہ شروع ہوتا ہے اندلس کے استحکام کا؛ تاریخ میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ اگر اس وقت اندرونی بغاوت رونما نہیں ہوتی تو عبدالرحمن اپنی بے پناہ جنگی مہارت اور غیرت ایمانی کے سبب فرانس پر بھی اسلام کا پرچم لہرا دیتا اور عین اس وقت جب وہ مکمل تیاری کے ساتھ فرانس پر فیصلہ کن حملہ کے لیے نکلا اور کچھ راستہ طے کیا ہی تھا کہ کچھ دین فروشوں کی وجہ سے آدھے راستے سے واپس وہاں کی طرف پلٹنا پڑا جہاں اندلس میں بغاوت کرا دی گئی تھی اور جب عبدالرحمن کو یہ علم ہوا کہ بغاوت کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ عسائیوں کا آلہ کار ایک مسلمان ہے تو پھر وہ فرانس کے خیالات اپنے ذہن سے نکال چکا تھا اور اس کی تمام تر توجہ ملک میں پل رہی بغاوت اور سازشوں کے خاتمے پر ہوگئ اور اس طرح عبدالرحمن نے اپنے سالاراعلی کی مدد سے اندلس کو اس وقت بغاوتوں اور سازشوں سے یکسر طورپرپاک کردیا اور پھر آٹھ سو سال تک مسلمان اندلس پر حکومت کرتے رہے یہ بات صاحب کتاب نے بڑے وثوق سے کہی ہے کہ اگر دور عبدالرحمن میں کچھ مردان حر اپنی جان کی بازی نہیں لگاتے تو عیسائی اسی وقت اندلس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے …….اللہ تعالی سے دعا گو ہوں مولا اندلس کے ان تمام مردان حر کی قبروں پر رحمتوں انوار کی بارش فرمائے اور ان کے جذبہ جہادسے ہمارے مردہ دلوں کو نئی زندگی بخشے آمین۔۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close