Uncategorized

میخانہ معرفت کا پیر مغاں» از شر ف الدین عظیم قاسمی

میخانہ معرفت  کا پیرمغاں» از شر ف الدین عظیم قاسمی

عشق وہ انمول دولت ہے جو حیات انسانی کو لامحدود زندگی عطا کردیتی ہے، اس کی گرم شعاعیں جب وجود کے ایک اک حصے میں سرایت کرجاتی ہیں تو زندگی غم امروز اور فکر فردا سے بے نیاز محبوب کی رہ گذر پر اس شان سے عالم کیف وسرمستیوں میں رواں دواں ہوتی ہے کہ قدموں کو لہو رنگ کردینے والے سنگریزوں کی جارحانہ ادائیں موسم بہار میں کھلنے والے شگفتہ گلوں کے ماننداور   وجود کو زیرو زبر کردینے والے  مصائب وآلام کے طوفان باد صبا کے نرم جھونکوں کی طرح محسوس ہوتے ہیں،  دنیا کے کھنکتے سکوں کی جاذبیت ان کی نگاہوں میں مٹی کے ٹھیکروں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، عالم رنگ وبو کی رعنائیاں ان کے دلوں میں کشش پیدا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہتی ہیں،      ان کے عشق کی صدائیں اس وقت بھی فضاؤں میں گونجتی ہیں جب حالات سازگار ہوتے ہیں اور ان لمحوں میں بھی اسی شان سے بلند ہوتی ہیں جب فرعونیت ان کے وجود کو زنجیریں پہناکر اس آواز کو قید کرنا چاہتی ہے، پھر زمانہ دیکھتا ہے کہ عشق و جنوں کی راہوں کا یہ قافلہ ان جابرانہ طاقتوں سے ٹکراجاتا ہے،اس کے عشق کے شراروں سے آہنی بیڑیاں پگھل جاتی ہیں،      اس کے کلمہ حق کی گونج سے سنگی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوجاتا ہے، تاریخ محفوظ کرتی ہے کہ اس کارواں کا ظاہری جسم عشق پر نثار ہوجاتاہے مگر اس کے لہو کی لالیوں سے ہستی کا صنم خانہ  توحید  کی روشنی سے جگمگا اٹھتا ھے، زندگی جاوداں ہوجاتی ہے،      تاریخ اپنے دامنوں میں ان کے سنہرے کارناموں کو محفوظ کرلیتی ہے، رہ حیات میں ان کے قدموں کے نشانات عشق و وفا کی منزل قرار پاتے ہیں،

10/ذی الحجہ 1440ھ مطابق 12/اگست 2019ءبروز پیر ، اس عالم فانی سے رحلت کرنے والی سلوک ومعرفت کے حوالے سے عالمی شخصیت پیر طریقت،رہبر شریعت عارف باللہ حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب ابن محدث جلیل شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کی ذات اسی کاروان عشق کی ایک سنہری کڑی تھی جس کا سلسلہ محسن کائینات فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچتا ہے’،

حضرت پیر صاحب کا نام سماعتوں میں اس وقت آیا جب عمر عالم بے شعوری میں درجہ حفظ کے ابتدائی ایام میں تھی،دن تاریخ تو یاد نہیں ہاں اتنا یاد ہے کہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڈھ میں جلسہ تھا شیخوپور مدرسے سے بہت طلبا نے اس جلسے میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے تھے خاکسار بھی ان کے ساتھ ہولیا اجلاس کے اختتام پر بصد احترام حضرت کا نام دعا کے لئے پکارا گیا اور انہیں کی دعا پر جلسہ ختم ہوا۔وقت ہوا کی مانند گذرتا رہا یہاں تک کہ زندگی  مظاہر علوم سہارنپور شعبہ افتاء کی منزل میں پہونچی،تو مدرسہ کی فضا حضرت کے روحانی زمزموں سے گونج رہی تھی،طلبہ کثرت سے پیر صاحب کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے خاکسار بھی ایک روز بعد نماز عصر حاضر ہوا شربت سے تواضع ہوئی تبرک سمجھ کر پی گیا،شعور کی حالت میں اب زیارت ہوئی،وہی چہرے کی نورانیت،وہی روحانیت کی کرنیں،اور وہی زہد و تقویٰ کا مجسمہ اور وہی ریاضت اور عشق الٰہی کی روشنی وجود پر برس رہی تھی جن کے بارے میں ہر ایک زبان اور ہر صدا عالم عقیدت میں اعتراف کررہی تھی۔
عشق ایک کیفیت ہے  جو ہواؤں کی طرح نظر تو نہیں آتا ہے ‘مگر کردار وعمل کی صورت میں اس کے مجسم وجود کو دیکھا ضرور جاسکتا ہے’ کردار و  عمل کا وہ منظر دلنواز پورے جمال کے ساتھ یہاں نظر آیا۔  عشق الٰہی کی سرمستیاں اور جذب و جنوں کی کیفیت نظر آئی، محبت رسول کے جلوؤں کا مشاہدہ ہوا،سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وارفتگی اس کے عکس کو نگاہوں نے دیکھا، کہ فکر ونظر کی پوری کائنات اللہ اور اس کے رسول کی مرضیات کے گرد گھوم رہی ہے’،  مجلس میں ایک صاحب غالباً حضرت شیخ الحدیث کا لکھا ہوا رسالہ جو سلوک ومعرفت کے موضوع پر تھا پڑھ رہے ہیں’پوری محفل گوش بر آواز ہے’ہر سو عالم سکینت کی فضا چھائی ہوئی ہے آنکھوں کو جھکائے ہوئے حضرت پیر صاحب بھی اس قرات میں محو ہیں’لیکن اس طرح کہ بشارت الہیہ پر چہرہ مسکرا اٹھتا ھے ،جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوتی ان عبارات کی مختصر تشریح بھی کرتے،  چند ثانئے کے بعد جب سنتوں کے بیزاری کے احوال اور عالم آخرت کا ذکر آتا ہے’تو بے ساختہ آنکھیں برس  پڑتی ہیں’ اصلاح وارشاد کا یہ سلسلہ پابندی کے ساتھ مغرب کی نماز تک چلتا رہتا،
شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں جہاں قدرت کی عطا کردہ فطری صلاحیتیں کام کرتی ہیں’وہیں اس کی ارتقاء وتہذیب میں ماحول کا بھی بنیادی دخل ہوتاہے بلکہ صحیح بات یہ کہ قدرت جب کسی ذات کو سنوارنا چاہتی ہے’،امتیازی مقام پر لے جانا چاہتی ہے’تو وہی اسے وہ ارتقاء آشنا ماحول بھی فراہم کردیتی ہے جس میں شخصیت پروان چڑھتی ہے’، وہ ماحول اسے روشنی کی شاہراہوں پر لے جاتا ہے،پیر صاحب نے جس ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں وہ زہد و تقویٰ،اخلاص وللہیت ،اور سلوک ومعرفت کے حوالے امتیازی شناخت رکھتا تھا، اس کے صحت مند اثرات آپ کی زندگی میں عمر کی پہلی منزل پر چھا گئے تھے یہی وجہ تھی کہ اس عمر میں جب کہ عام طبیعتیں دنیا کے کھلونوں کی طرف مائل ہوتی ہیں’غیر شعوری طور پر روحانیت اور سلوک کے ظاہری نقوش آپ کی توجہ کا مرکز تھے،اور بیعت وسلوک ان کے بچپن کا کھیل تھا۔ذیل کے واقعہ سے اس کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ بچپن میں اپنے والد کے کتب خانہ یحیوی میں عالم کمسنی میں چند ہمجولیوں کو بیعت کررہے تھے اسی دوران شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کا تانگہ آگیا ایک بچے کا یہ مزاج اور اس کے کھیل کا یہ منظر دیکھ کر مسرتوں کا کیا عالم رہا ہوگا یہ تو وہی محسوس کرسکتا ہے’جس کا قلب علوم و معارف میں نسلوں کی ترقی کے جذبات سے معمور ہو،فرط محبت سے شیخ الاسلام نے کہا کہ ہمیں بھی بیعت کرلو،معصوم بچپن نے فوراً کہا ہاتھ لائیے، وقت کے شیخ کا مشفقانہ دست مبارک دراز ہوا اور مستقبل کے پیر نے بیعت کرلی،اس واقعہ کے بعد شیخ الاسلام نے،، پیر ،، کے لفظ سے جو مخاطب کیا تو اس قدر یہ صدا مشہور ومعروف ہوئی کہ اس بچے کے نام کا یہ جز اور لقب ہوگیا، کیا عجب کہ جس شخصیت سے مستقبل میں ایک عالم فیضیاب ہونے والا تھا قدرت کو ابتدا میں ہی اس واقعے کے ذریعے خلقت کے  لئے راہ سلوک کی یافت کا انتظام مقصود ہو،پھر وقت نے یہ ثابت کیا کہ یہ واقعہ مستقبل کے پیر مغاں اور مرجع خلائق کے مقام رفیع کی  ایک تمہید تھی۔۔کتاب معرفت کا ایک دیباچہ تھا،
حضرت پیر صاحب کی ولادت 2/جمادی الاول 1360ھ مطابق 28/مئی 1941ء میں دوشنبہ کے مبارک دن ہوئی،آپ کا خانوادہ علماء صلحاء اور اصحاب طریقت کے حوالے سے ایں خانہ ہمہ آفتاب کے مصداق تھا خود آپ کے والد گرامی حضرت شیخ زکریا نور اللہ مرقدہ کی ذات مرجع خلائق تھی۔ اس لیے وقت کے اکابرین مثلاً شیخ الاسلام حسین احمد مدنی،مفتی سعید احمد اجڑاڑوی،مولانا محمد یوسف،مفتی محمود حسن گنگوہی وغیرہم کی کثرت سے آپ کے معرفت کدے پر کثرت سے آمدورفت رہتی تھی، علم و فضل کے ان نجوم کواکب کے اثرات اور ان کی روشنی سے اگر ابتداء عمر میں ہی آپ کے قلب وذہن مجلی اور مصفی ہو گئے ہوں تو یہ عین فطرت کے مطابق ہے’،
ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن کی تکمیل مظاہر علوم سہارنپور میں ہوئی فراغت مدرسہ کاشف العلوم مرکز نظام الدین دہلی سے ہوئی،طبیعت میں احسان وعرفان کے عناصر غالب تھے،اس لئے امت کی نافعیت کے لئے یہی میدان غیر ارادی طور پر منتخب ہوا،وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا،آپ کی روحانی مجالس سے کتنے قلوب منور ہوئے،اصلاحی دوروں سے کتنی زندگیاں انقلاب آشنا ہوئیں، وظائف واوراد اور ذکر کی حرارتوں نے کتنے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا، کچے گھر کے بادہ معرفت سے کتنے وجود عشق الٰہی کے جام سے سرشار ہوئے،اس کا اندازہ کیسے اور کیوں کر لگایا جائے،کہ آفتاب کی روشنی سے فیضیاب ہونے والے خطے اور علاقے تو محدود ہندسوں سے بے نیاز ہوتے ہیں’،
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت ہواؤں کے مانند بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تھی،مہمانوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا جلی عنوان ہے’،  پیر صاحب کی زندگی میں بھی انسانیت نوازی کی مذکورہ صفت کا عکس نمایاں نظر آتا ہے،مہمانوں کی کثرت کے باوجود ان کی ضیافت کا اس قدر اہتمام تھا کہ ممکن ہی نہیں تھا کہ واردین وصادرین میں سے کوئی فرد ناشتے یاکھانے کے بغیر واپس ہوجائے،ان کے یہاں اس معاملے اتنی توجہ رہتی تھی کہ اگر کوئی ماحضر سے استفادہ کے بغیر جانے کا ارادہ کر لیتا تو سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے،یقیناً یہ اولیائے اللہ کے مزاج واوصاف اور عمل نبوت کا آئینہ تھا ورنہ اس عہد میں کسے نہیں معلوم کہ بڑوں کی مجلسوں میں گمنام افراد سے متعلق اس حوالے سے خبرگیری کا کردار عموماً مفقود نظر آتا ہے’،مگر اس دربار معرفت میں کسی کے لئے بھی تشنہ لبی کی شکایت کا موقع نہیں تھا۔
پیر صاحب مختلف اداروں کے سرپرست تھے،مظاہر علوم و دارالعلوم دیوبند کے رکن شوری تھے،مگر اس کے باوجود ان کی زندگی انتہائی سادہ تھی، کروفر کا نام و نشان نہیں تھا دیکھنے والا پہلی نظر میں یہ محسوس ہی نہیں کرپاتا تھا کہ یہ وہی شخصیت ہے’ جس کے تزکیہ ومعرفت کی صدائیں ملک کی سرحدوں سے نکل کر بیرون ملک کی روحانی فصیلوں پر دستک دے رہی ہیں،جس کے ذکر کے زمزموں سے ملک کی فضائیں معمور ہیں’،ان کا قلب دنیا اور حطام دنیا سے یکسر بے نیاز تھا، ان کی زندگی کے تمام مراحل قلندرانہ اوصاف سے متصف تھے، انہوں نے ساری خواہشات کو سنت کے تابع کررکھا تھا، ذکر الٰہی ان کا شوق،یاد الہی ان کا شغل، فنائیت ان کا مزاج،استغراق ان کی طبیعت اور عبادت وریاضت ان کی غذا کے درجے میں تھی،اور یہ سنت الٰہی ہے’کہ بندہ جب خود کو معبود کے لئے فنا کر دیتا ہے تو قدرت اس کے کمال کو ہواؤں کی طرح بافیض اور اس کے عملی جمال کو آفتاب کی طرح روشن کردیتی ہے۔
پیر صاحب کے ساتھ بھی قدرت کا یہی معاملہ تھا یہی وجہ تھی کہ بے شمار علماء صلحاء،محققین اور عوام کے جم غفیر نے انہیں اپنا مزکی ،مرشد اور مربی بنایا،اپنی زندگی کو آپ کی ذات سے وابستہ کرکے معرفت کا جام حاصل کیا،ایک خلقت فیضیاب ہوئی، اور راہ حق سے آشنا ہو کر شاد کام ہوئی۔۔۔۔
       اس جہان عارضی کے سینے پر مخلوقات کی کائنات   ایک تیز رفتار دریا کی طرح موت کی رہ گذر پر ہمہ وقت رواں رہتی ہے’اور پھر موت کے بے کنار سمندر میں غرق ہوکر فنا ہوجاتی ہیں’، افق ہستی کے افق پر زندگی کے سورج کی نمود درحقیقت اس کی موت کا پیغام اور اس کے عدم کی تمہید ہے’،انسان آتا ہے اسی لیے کہ وہ مقرر وقت پر اصل منزل کی طرف واپس ہوجائے،
لیکن عالم ناپائیدار میں وہ ہستیاں بھی ہوتی ہیں جو اپنے روش کردار،زریں کارناموں،اور حسن اعمال کی بنیادوں پر اس طرح جاوداں ہوجاتی ہیں کہ موت کی تاریکیاں بھی ان کی زندگی کے اجالوں پر اثر انداز نہیں ہوپاتی ہیں’،وہ اس جہان فانی میں ظاہری حیات کے سفر پر بھی پوری شان سے جلوہ گر رہتی ہیں اور موت کے پردے میں روپوش ہونے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں’،بلکہ صحیح یہ ہے کہ موت ان کی اصل اور جاوداں زندگی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
حضرت پیر صاحب بھی انہیں ہستیوں میں سے تھے زمانہ جن کے کرداروں کی شعاعوں سے اپنی زندگی کی تاریکیوں کو دور کرتاہے، پیر صاحب ظاہری جسم کے ساتھ 12/اگست 2019بروز پیر دسویں ذی الحجہ 1440/یوم عید الاضحٰی عالم آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے دنیا نے انہیں تہ خاک کردیا،اس نے یہ سمجھ لیا کہ ان کی زندگی فنا آشنا ہوچکی ہے،مگر اس حقیقت سے کس طرح کوئی  پردہ اٹھائے کہ موت نے ان کی زندگی کو دوام آشنا کردیا ہے،وہ پہلے بھی زندہ تھے آج بھی زندہ ہیں’،
تاریخ کے سینوں میں۔۔۔۔۔کتابوں کے اوراق میں۔۔۔مسترشدین سے لیکر عام ارادت مندوں اور عقیدت مندوں تک کے الواح قلب پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور عشق ومحبت کے صحراؤں میں۔۔۔۔اطاعت ووفا کی رہ گذر میں، ذکر کی مجلسوں میں اور میخانہ معرفت کی سرمست فضاؤں میں۔۔

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی امام وخطیب مسجد انوار گوونڈی17/اگست 2019 بروز سنیچر

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close