کالمز

کیا گولوالکر کے خوابوں کا بھارت بننے لگا ہے؟ راہل کوٹیال ترجمہ:نایاب حسن

گولوالکر ایسے پہلے انسان نہیں تھے ،جنھوں نے ہندو راشٹر یا ہندوتوکی وکالت کی؛لیکن ان کے افکار میں کئی ایسی باتیں ضرور تھیں ،جن سے ہندوتو کی ایک نئی تعبیر اختراع کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ رام چندر گوہا نے گولوالکرکو جدید بھارت کے معماروں میں سے ایک مانا ہے۔انھوں نے اپنی مشہور کتاب’میکرس آف ماڈرن انڈیا‘میں جن اُنیس لوگوں کا ذکر کیاہے، ان میں سے ایک گولوالکر بھی ہیں۔آج ویسا بھارت بنتا نظر بھی آنے لگاہے،جس کا خواب گولوالکر نے دیکھا تھا۔
’میکرس آف ماڈرن انڈیا‘میں رام چندر گوہا لکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد جب ملک نئی شکل و صورت اختیار کررہا تھا،پناہ گزینوں کو بسایا جارہا تھا، مختلف ریاستوں کو ہندوستانی وفاق میں شامل کیا جارہا تھا اور جب ملک کا دستور بن رہا تھا، تو نہرو اور پٹیل کندھے سے کندھا ملاکر ان کاموں میں مصروف تھے؛لیکن ۱۹۵۰کے اخیر میں جب سردار پٹیل کی وفات ہوگئی، تو نہرو کی برابری کا کوئی بھی نیتا نہ تو سرکار میں رہ گیا تھا اور نہ ہی کانگریس پارٹی میں۔نہرو کا قد باقی نیتاؤں سے اتنا بڑا تھا کہ کوئی ان کے فیصلوں یا افکار کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ہاں سرکار سے باہر ضرور نہرو کے کئی ناقدین تھے اور انہی میں سے ایک تھے مادھو سداشیو گولوالکر۔
فروری1906میں پیدا ہونے والے گولوالکر نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے سائنس میں پوسٹ گریجویشن کیا تھا اور پھر ناگپور سے وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی۔سائنس کے ساتھ ہی گولوالکر کو ہندومذہب اور مذہبی کتابوں کابھی اچھا علم تھا اور کئی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا، جیسے کہ سنسکرت،بنگالی،مراٹھی،ہندی اور انگریزی۔1931میں گولوالکر کی ملاقات راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بانی کے بی ہیڈگیوار سے ہوئی(یہ وہی سال تھا جب بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تھی)آر ایس ایس ایک جارح ہندوقوم پرست تنظیم تھی جس میں ایک ایسے ہندو راشٹر کے لیے وقف نوجوانوں کو شامل کیا جاتا تھا،جو ہندووں کے ذریعے ہندووں کے لیے چلایا جائے۔
گولوالکر کے جوش و جذبہ اورعقل ودانش سے ہیڈ گیوار اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے آرایس ایس کی کمان ان کے سپرد کردی۔1940میں جب ہیڈگیوار کی موت ہوئی، تو گولوالکر ہی آرایس ایس کے سرسنگھ چالک بنے۔سوامی وویکا نند کے مادر وطن کی پوجا کے نظریے سے گولوالکر کافی متاثر تھے۔انھیں بال گنگا دھر تلک کا یہ نظریہ بھی بہت بھاتا تھا کہ قومی اتحاد کے لیے تہذیبی اتحاد ضروری ہے؛لیکن گولوالکر ان معنوں میں باقیوں سے الگ ہوجاتے تھے کہ وہ اپنے ملک اور ہندوتہذیب سے محبت کی بات کرنے کے ساتھ ہی مغرب سے نفرت کی بات بھی اتنی ہی مضبوطی سے کرتے تھے۔
’کثرت میں وحدت‘جیسے اصولوں پر گولوالکر کا یقین نہیں تھا۔ان کا زور ہمیشہ ان مبینہ دشمنوں کو نشان زد کرنے پر ہوتا ،جنھیں وہ’داخلی دشمن‘‘کہتے تھے۔ہندو راشٹر کی تعمیر و تشکیل میں گولوالکر کو بنیادی طورپر تین خطرے نظر آتے تھے،مسلم،عیسائی اور کمیونسٹ۔گولوالکر ان تینوں کو’’راکچھس‘‘کہتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ ہندو ان تینوں کو برباد کرنے کے بعد ہی مادر وطن کی خدمت کرسکتے ہیں۔
مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد گولوالکر کو گرفتار کرلیاگیا تھا اور آرایس ایس پر پابندی بھی لگادی گئی تھی۔ایسا اس لیے بھی ہوا کہ ناتھو رام گوڈسے ایک وقت میں آرایس ایس سے جڑا رہاتھا اور گاندھی کے قتل سے پہلے خود گولوالکر نے ان کے اور کانگریس کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں۔جولائی1949 میں گولوالکر کی رہائی کے ساتھ ہی آرایس ایس پر سے پابندی اس شرط کے ساتھ ہٹالی گئی کہ یہ تنظیم کبھی تشدد کا سہارا نہیں لے گی اور اُس دستور کے جمہوری اصولوں کی پیروی کرے گی ،جو اس وقت لکھا جارہا تھا۔
1952میں جب شیاما پرساد مکھرجی نے ہندووں کو ترجیح دینے والی پارٹی جن سنگھ کی شروعات کی ،تو آرایس ایس نے اس کے ساتھ مل کرکام کرنا شروع کردیا اور اس کے رضاکار جن سنگھ کو مضبوط کرنے میں جٹ گئے،جبکہ آرایس ایس دکھاوے کے لیے ایک تہذیبی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرتا رہا۔جن سنگھ نے آگے چل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل اختیار کرلی اور آرایس ایس سے اس کا رابطہ آج بھی علی حالہ قائم ہے۔آزادی کے فوراً بعد جب جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے،گروہی جتھہ بندی میں اضافہ ہوا اور کشمیر پر پاکستان نے حملہ کردیا تو اس دوران آرایس ایس نے تیزی سے عوام میں اپنی پکڑ مضبوط کی۔گولوالکر کی قیادت میں آرایس ایس نے’’داخلی دشمنوں‘‘کو نشان زد کرنے کی بات شروع کی اور پولرائزیشن کے اس دور میں ان باتوں کو لوگوں نے ہاتھ ہاتھ لیا۔
گولوالکر کے آنے سے آرایس ایس اسی سمت میں بڑھا جس سمت میں کبھی ہٹلر کی قیادت میں نازی بڑھ رہے تھے۔نازیوں کے طرز پر ہی آرایس ایس مادر وطن سے محبت اور تہذیبی طورپرغیر خالص(جرمنی میں یہودیوں اور بھارت میں مسلمانوں)سے نفرت کی باتیں کرتا تھا۔گولوالکر یہ بات لگاتار کہتے تھے کہ’’صرف ہندو ہی اس ملک سے سچی محبت کر سکتے ہیں اور اس کے دشمنوں کو پہچاننا بے حد ضروری ہے‘‘۔ان کے ان دشمنوں میں مسلمان سب سے پہلے آتے تھے۔
گولوالکر کے افکار کو’’بنچ آف تھاٹس‘‘نامی کتاب میں جمع کرکے شائع کیا گیا ہے۔اسی کتاب میں ایک مضمون ہے،جس کا عنوان ہے’’ہندو راشٹراور اس کے دشمن‘‘اس میں گولوالکر کہتے ہیں:’’جب ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک ہندو راشٹر ہے، تو کئی لوگ فوراً یہ سوال کرنے لگتے ہیں کہ اس دیش میں رہ رہے مسلمانوں اور عیسائیوں کا کیا؟کیا وہ اسی ملک میں پیدا نہیں ہوئے؟کیا وہ یہیں پلے بڑھے نہیں ہیں؟کیا صرف اپنا مذہب بدل دینے کی وجہ سے وہ غیر ملکی یا باہری ہوگئے؟لیکن سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ کیا ان لوگوں(مسلمانوں اور عیسائیوں)کو یاد بھی ہے کہ وہ اسی مٹی کی اولاد ہیں؟صرف ہمارے یاد رکھنے سے کیا ہوتا ہے؟اس مٹی سے وابستگی کا احساس ان کے اندر ہونا چاہیے۔اس کی قدر انھیں ہونی چاہیے۔ہمارے سامنے تو آج یہ سوال ہے کہ ان لوگوں کا آج رویہ کیسا ہے ،جو اسلام یا عیسائیت اپنا چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ یہیں پیدا ہوئے؛لیکن کیا آج وہ اس ملک کی مٹی کے تئیں وفادار ہیں؟کیا وہ اس سرزمین کے شکر گزار ہیں جس نے انھیں پالاپوسا؟کیا وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سر زمین کی خدمت کرنا ان کا فریضہ ہے؟نہیں۔مذہب اور عقیدہ بدلنے کے ساتھ ہی ان کا اس سرزمین کے تئیں پیار اور وابستگی بھی ختم ہوچکی ہے‘‘۔
اسی مضمون میں آگے گولوالکر کہتے ہیں:’’اتناہی نہیں،یہ لوگ خود کو دشمنوں کی سرزمین سے جوڑ کر دیکھتے ہیں،غیر ملکی زمین کو اپنے لیے قابل احترام سمجھتے ہیں۔خود کو شیخ اور سید کہتے ہیں۔شیخ اور سید تو عربوں کی اولاد ہیں۔یہ لوگ خود کو عربوں کی اولاد اس لیے مانتے ہیں کہ اس روئے زمین سے وابستہ ہونے کا احساس ان کے اندر باقی نہیں رہاہے۔یہ خود کوحملہ آوروں سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور آج بھی یہ لوگ مانتے ہیں کہ ان کا مقصد اس روئے زمین پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنا ہے‘‘۔
اسی کتاب میں ایک اور مضمون ہے جس میں گولوالکر مسلمانوں کو اصل خطرہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں:’’آج بھی کئی لوگ ایسے ہیں، جو کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے اس ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔کیوں کہ جو فسادی مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے تھے وہ ہمیشہ کے لیے وہاں جا چکے ہیں اور باقی مسلمان اس ملک کے تئیں وفادار ہیں؛لیکن میں پوچھتا ہوں کہ جو مسلمان یہاں رہ گئے، وہ آزادی کے بعد بدل گئے کیا؟کیا ان کا قاتلانہ مزاج جس کی وجہ سے1946-47میں کئی فسادات ،لوٹ،قتل اور عصمت دریاں ہوئیں وہ اب بدل گیا ہے؟یہ ماننا خطرناک ہوگا کہ پاکستان بننے کے ساتھ ہی یہاں بچے ہوئے مسلمان راتوں رات محب وطن بن گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی مسلمانوں سے خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے‘‘۔
اس مضمون میں گولوالکر آگے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی جارحانہ پالیسی ہمیشہ دو سطحی رہی ہے۔ایک تو سیدھے حملے کی جسے جناح نے ڈائریکٹ ایکشن کہا تھا اورجس کی وجہ سے انھیں ایک ہی جھٹکے میں پاکستان مل گیا۔ہماری ہی مادر وطن سے ایک مسلم ملک کاٹ کر الگ کرلیا گیا۔ان کی دوسری پالیسی اپنی تعداد بڑھانے کی ہے۔کشمیر کے بعد ان کا نشانہ آسام ،تریپورہ اور بنگال ہے۔پورے ملک میں جہاں بھی ان کی مسجد یا محلے ہیں یہ اسے اپنی الگ ریاست مانتے ہیں۔
گولوالکر سے پہلے بھی ہندو انتہاپسندانہ افکار کو ماننے والے مدن موہن مالویہ اور ساورکر جیسے نیتا تھے؛لیکن گولوالکر کے افکار ان سے کہیں زیادہ انتہا پسندانہ تھے اور ان کے اثرات بھی زبردست رہے۔جن تین دہائیوں میں گولوالکر نے آرایس ایس کی کمان تھامے رکھی اس دوران اس تنظیم نے ہندوستانی سماج میں اپنی جڑیں سب سے زیادہ مضبوط کیں۔تاعمر برہمچاری رہنے والے اور ہندو دھرم گرو کی شبیہ بناکر گولوالکر نے ہندو دھرم کی بات کرنے کے ساتھ ہی دوسرے دھرموں کو اس ملک کا دشمن بنادیا۔
گولوالکر کی موت1973میں ہوئی؛لیکن ہندو دھرم کی تشریحِ نو کے جو بیج انھوں نے1950اور60کے عرصے میں آرایس ایس کے ذریعے بوئے ،اس کی فصل آگے کی دہائیوں میں خوب جم کر لہلہائی۔اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن آڈوانی اس ملک کے وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم بنے، جو انھیں اپنا گرو مانتے تھے۔موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ایک عرصے تک آرایس ایس سے جڑے رہے ہیں اور نظریاتی طورپر واجپئی یا آڈوانی کے مقابلے میں انھیں گولوالکر سے زیادہ قریب مانا جاتا ہے۔ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوتو پر نئے ڈسکورس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو ’’پاکستان چلے جاؤ‘‘کے طعنے دینے کا چلن بھی بڑھا ہے۔اس کے ساتھ ہی یوگی آدتیہ ناتھ اور سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسے نیتاؤں کی ہندوستانی سیاست میں مضبوط و توانا مداخلت،اقلیتوں پر حملے،مذہب کا سیاست میں زبردست اثر و رسوخ اور کلچرل قوم پرستی جس تیزی سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بڑھی ہے وہ یہی اشارہ دیتی ہے کہ گولوالکر نے جس بھارت کا خواب دیکھا تھا،وہ اب شرمندۂ تعبیر ہونے لگا ہے۔
ایسا اس لیے بھی ہے کہ بھارتی سیاست اب جس سمت میں بڑھ رہی ہے ،اسے روکنے ٹوکنے والاآج کوئی نہیں ہے۔اپوزیشن پوری طرح غائب ہے اور کسی بھی متبادل کی نایابی کا احساس عام ہندوستانیوں کے دل دماغ میں سرایت کر چکا ہے۔تہذیبی قوم پرستی کا شور اتنا تیز ہے کہ اس نے مخالف سمت کی سبھی آوازوں کو دبادیا ہے۔اب صرف ایک ہندو ہردے سمراٹ ہے اور باقی سارا ملک یا تو اس سمراٹ کے پیچھے کھڑا ہے یا ناقابلِ توجہ قرار دے دیاگیا ہے۔دستوری اصول’’اکثریت کے فیصلے‘‘کے سامنے بے معنی ہیں اور گاندھی کے قاتلوں کی پوجا کرنے والوں کو اکثریت کی جانب سے کلین چیٹ مل رہی ہے۔یہ اکثریت گولوالکر کے نظریات پر بھی مہرِ تصدیق ثبت کر رہی ہے اور ملک کو اسی راہ پر لے جا رہی ہے،حالاں کہ دنیا بھر میں اس راہ کی کامیابی کی ایک بھی مثال نہیں ہے،جبکہ اس کے برخلاف ایسی کئی مثالیں ہیں ،جہاں لوگ اس ہلاکت ناک راستے پرچلنے کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔

(اصل مضمون نیوز لانڈری ڈاٹ کام پر شائع ہوا ہے)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close