کالمز

کچھ باتیں دینی مدارس کے ذمہ داروں سے …. از قلم : مولانا ندیم الواجدی

آج مدارس پر عام مسلمانوں کی زبان طعن دراز سے دراز تر ہوتی جارہی ہے اس کی کچھ ایسی وجوہات ہیں جن میں سے بعض غلط فہمی پر مبنی ہیں اور بعض ناقابل تردید حقائق پر، وجوہات کچھ بھی ہوں ان کے ازالے کی ضرورت ہے۔ مدارس کا قدیم شعار سادگی رخصت پذیر ہے، آج چھوٹے چھوٹے مدرسے سر بہ فلک اور عالی شان عمارتوں کا مجموعہ نظر آتے ہیں، شان دار اور بلند و بالا محرابی دروازے، پرشکوہ دفترِ اہتمام اور ضرورت سے زیادہ وسیع اور منقش محراب ومنبر اور دیوارودر پر مشتمل مسجدیں، مہتممین حضرات کا کر وفر، مدرسین اور طلبہ کی مسکینی اور لاچاری، یہ مناظر کسی بھی شخص کو کچھ نہ کچھ کہنے پر اکساتے رہتے ہیں، ضرورت ہے کہ مدرسوں کی تعمیرات میں سادگی اور پختگی ملحوظ ہو، مہتمم حضرات اسلاف کا نمونہ بنیں اور عوام کی خیرات و زکوٰۃ کا معتد بہ حصہ تعمیراتی عجوبوں کے بجائے نادار طلبہ اور ضرورت مند اساتذہ پر خرچ ہو، ذمہ دار ان کو اپنے نظام کو صاف و شفاف اور کھلا بنانا چاہیے، تاکہ کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے، یہ عام اعلان ہونا چاہیے کہ کوئی بھی مسلمان کسی بھی وقت یہ دیکھ سکتا ہے کہ ہم کہاں سے کتنا لا رہے ہیں اور کس جگہ کس قدر خرچ کر رہے ہیں مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے مالیاتی نظام کو اسوہ اور نمونہ بنا کر چلیں، جہاں بڑے منصوبے شوریٰ کی مرضی کے بغیر قابل عمل نہیںہوتے اور معمولی معمولی اخراجات کے لیے بھی اہتمام کی منظوری لازمی ہوتی ہے، اور ہر چھوٹے بڑے شخص کو حسابات کا گوشوارہ داخل کرنا پڑتا ہے، دارالعلوم جیسے مدارس میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی شخص چاہے کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو اپنی مرضی سے رقم نکال کر خرچ کرسکے جب کہ چھوٹے مدارس میں مہتمم حضرات ہی سب کچھ ہوتے ہیں، ہرمواخذے سے بے خوف اور ہر طرح کی جواب دہی سے آزاد اور بالا تر !

عام طور پر مدارس کو جوچندہ حاصل ہوتا ہے اس کی ایک بڑی مقدار زکوٰۃ اور صدقات واجبہ پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا مصرف بلا شبہ غریب و نادار طلبہ ہوتے ہیں لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ زکوٰۃ سے حاصل ہونے والا بڑا سرمایہ تعمیرات پر بے دریغ خرچ کیا جارہا ہے، کہیں تملیک کرکے اور کہیںتملیک کے بغیر، ہونا یہ چاہیے کہ اس سرمایہ سے طلبہ کے طعام و قیام اور وظائف وغیرہ کا معقول و بہترین نظم کیا جائے اور اسے ان کی ضروریات پر خرچ کیا جائے۔ گجرات کے مدارس کو چھوڑ کر ہر جگہ ابھی تک کھانے اور رہنے کا وہی پرانا نظام چلا آرہا جو اَب سے سو ڈیڑھ سو برس پہلے قائم ہوا تھا، کیا اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے جب کہ زمانے کے تقاضے بدل چکے ہیں اور طبائع آسائش پسند اور آرام طلب ہوگئی ہیں، اگر طلبہ کے سونے کے لیے ہر کمرے میں تخت یا پلنگ پچھائے جائیں یا ان کے کھانے میں دال اور شوربے کے ساتھ ساتھ چاول اور سبزی اور گاہے بہ گاہے مرغ و ماہی بھی شامل کی جائے تو کیا اس نظام سے کسی دینی اصول کی خلاف ورزی لازم آئے گی؟

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close