چنئی

کورونا وباء کے روک تھام کیلئے ایس ڈی پی آئی نے تمل ناڈو وزیر برائے صحت کو 10مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا

چنئی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ریاستی جنرل سکریٹری اے ایس عمر فاروق کی سربراہی میں ایک پارٹی وفد نے ریاستی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود ما سبرامنیم سے ملاقات کی اور کورونا وباء کے روک تھام کیلئے 10مطالبات پر مشتمل ایک عرضداشت سونپا۔ وفد میں ریاستی ورکنگ کمیٹی رکن اے کے کریم، جنوبی چنئی ضلعی نائب صدر رزاق، ضلعی سکریٹری مجید شامل رہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اپنے عرضداشت میں حکومت تمل ناڈو کو مندرجہ ذیل 10مطالبات پیش کیے ہیں۔ 1)۔ تمل ناڈو کے تمام حصوں میں Remdesivirکی دستیابی کیلئے کارروائی کی جانی چاہئے۔

کورونا متاثرین کو زیادہ تر اسپتالوں میں ریمڈیسیویر دینے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس دوا کیلئے تمل ناڈو کے مختلف حصوں سے لوگ دارالحکومت چنئی آتے ہیں، جس کے پیش نظر محکمہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ اب یہ دوا چنئی کے علاوہ مدوروائی، ترچی، کوئمبتور اور سیلم میں بھی دستیاب ہوگا۔تاہم، ریاست میں کورونا انفیکشن کی بڑھتی تعداد اور ریاست میں لاگو مکمل کرفیو کی وجہ اس دوا کو خریدنے میں مختلف مشکلات پیش آتے ہیں، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر تعلقہ یا کم از کم ہر ضلع کے دارلحکومتوں اور بڑے شہروں میں اس دوا کو مہیا کیا جائے۔ مزید یہ کا دوائی کی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو اضافی قیمت پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جارہا ہے۔ بلیک مارکیٹ کو روکنے کیلئے حکومت ہی اس کی قیمت متعین کرے۔ 2)۔ متبادل ادویات تجویز کی جائے، چونکہ ریاست میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ہنگامی ادویات کی کمی ہے۔ چونکہ بہت سے اسپتالوں میں ریمدیسیور دوائی دستیاب نہیں ہے، اس سے عام لوگوں میں خوف و ہراس اور اضطراب پھیل رہا ہے۔ اس معاملے میں ڈرگ ایڈ منسٹریشن آف انڈیا نے زائڈس کیڈیلا کے ذریعہ تیار کردہ اور تقسیم کردہ ایک وائرل دوائی (Virafin)کو کورونا مریضوں میں استعمال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اسی طرح DRDOکی Deoxy-D-glucoseکو بھی ڈرگ ایڈمنسٹریشن آف انڈیا نے منطوری دی ہے۔ لہذا، ہنگامی ادویات کی کمی کو کم کرنے، بلیک مارکیٹ کو روکنے کیلئے ڈرگ ایڈمنسٹریشن آف انڈیا کے منظور شدہ نئی دوائیں کو کورونا مریضوں کو تجویز کرنے کیلئے کارروائی کی جانی چاہئے۔ اسی طرح یونانی طریقہ علاج کا بھی استعمال کیا جانا چاہئے۔ 3)۔ ایمبولنس کے کرایے کو کنٹرول کیا جائے۔ کورونا وبا کا استعمال کرتے ہوئے بہت سے نجی ایمبولنس کمپنیاں زیادہ کرایے لیکر لوگوں کو لوٹ رہی ہیں۔ اس سے مریضوں کو اسپتال لے جانے اور اسپتال میں انفیکشن سے مرنے والوں کی لاشوں کو لانے میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ حکومت تمل ناڈو کوچاہئے کہ وہ ایمبولنس کے کرایہ کو ریگولیٹ کرے۔ 4)۔ سدھاطریقہ علاج کے مراکز میں تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ پچھلے سال کورونا کی پہلی لہر کے دوران سدھا میڈیکل ٹریٹمنٹ سینٹرس سے بڑی مدد ملی تھی۔ لہذا، اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت کو چاہئے کہ وہ چنئی، کوئمبتور، مدورائی، ترونیل ویلی، ترچی میں زون کے لحاظ سے اور دوسرے علاقوں میں فی ضلع کم از کم ایک سدھا میڈیکل ٹریٹمنٹ سینٹر کے قیام کیلئے اقدامات کرے۔ 5)۔ ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت زیادہ سے زیادہ طبی عملہ کی تقرری کریں۔ تمل ناڈو میں کورونا دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ ایسی اطلاعات مل رہے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی آمد سے نمٹنے کیلئے مناسب تعداد میں ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر تکنیکی ماہرین موجود نہیں ہیں۔ جس سے کورونا کا علاج کررہے ڈاکٹرز تھک چکے ہیں اور ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں یا تو مریضوں کو داخلہ نہیں مل رہا ہے یا انہیں طویل انتظا ر کرنا پڑ رہا ہے۔

لہذا، سرکاری اسپتالوں میں خالی آسامیوں کو جنگی پیمانے پر پر کیا جانا چاہئے۔ بیرون ممالک میں طب پڑھ کر جنہوں نے (FMGE)امتحانات پاس کیا ہے انہیں فوری طور پر (CRRI) انٹرنشپ کے طور پر بھرتی کیا جائے۔ بیرون ممالک میں میڈیکل کورس مکمل کرکے ہندوستان میں ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایم جی ای کوالیفائنگ امتحانات پاس کرنے کے منتظر ہزاروں ڈاکٹرز موجود ہیں۔ اس مشکل صورتحال میں ان کا بروئے کار لانا بہتر ہوگا۔ انہیں ایف ایم جی ای کوالیفائنگ امتحان کے بجائے انہیں انٹرویو لیا جائے اور نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت بھرتی کیا جائے۔ اس کیلئے تمل نادو حکومت اقدامات کرے۔ 6)۔ فرنٹ لائن ملازمین کو بلا تاخیر ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈاکٹرز، نرسس، طبی عملہ، پولیس اور صحافیوں کو کوروناروک تھام کی سرگرمیوں میں فرنٹ لائنرس قرار دیا گیا ہے۔ کورونا ویکیسن لگانے کیلئے انہیں ترجیح دی جائے گی اور اگر وہ کورونا انفیکشن کی وجہ سے مرجائیں تو25لاکھ روپئے کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن اس غیر معمولی ماحول میں فرنٹ لائن ملازمین کو جو فوائد اور ریلیف کا علان کیا گیا ہے ان کا نفاذ صحیح طور پر نہیں ہورہا ہے۔ یہ الزامات ہیں کہ بہت سے فرنٹ لائن کارکنان جو پہلے کورونا سے مرچکے ہیں انہیں ابھی تک امداد نہیں دی گئی ہے۔

لہذا، تمل ناڈو حکومت بلا تاخیر ان کو اعلان کردہ ریلیف فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنا چاہئے۔ 7)۔ رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کورونا پھیلاؤ کے روک تھام اور کوروناسے مرنے والے لوگوں کی تجہیز و تکفین کرنے والے رضاکاروں کو بھی کورونا فرنٹ لائنرس کو دیئے جانے والے مراعات دیئے جائیں اور انہیں سرکاری خالی آسامیوں کی بھرتی کے دوران ترجیح دی جائے۔ 8)۔ ٹیکہ کاری عام کیا جائے۔ کورونا ویکسینیشن مراکز ہر جگہ پھیلائے جائیں ۔چونکہ لوگوں کو کورونا کے ٹیکہ لگانے کیلئے مخصوص مقامات پر جانا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت کی طے شدہ ویکسینیشن پروگرام عوام تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ لہذا، عوام کے پاس جاکر ٹیکہ کاری کی جائے۔ 9)۔ آکسیجن کی قلت کو دورکرنے کیلئے اقدمات کئے جائیں۔ تمل ناڈو کے اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت کی وجہ سے بہت سے جانی نقصانات ہورہے ہیں۔ لہذا، جنگی پیمانے پر آکسیجن کی کمی کو دور کرنے کیلئے فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔ آکسیجن کی قلت پر قابو پانے کیلئے بجلی کے ذریعہ آکسیجن تیار کرنے والی "آکسیجن کانسنٹریٹر "مشینییں رعایتی قیمتوں میں حکومت ہی فراہم کرنے کیلئے آگے آئے۔ آکسیجن پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت کو اضافی پیداواری مراکز کے قیام کیلئے ضروری احکامات جاری کرنا چاہئے۔ 10)۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا کے علاج کے فیس کے نام پرہونے والے ڈکیتی کو روکا جائے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے کورونا مریضوں کا علاج کرنے کیلئے پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج و معالجے کی فیس مقرر کی گئی ہے۔ لیکن یہ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا سے متاثرہ افرادکی ابتدائی جانچ پڑتال سے لیکر صحت یاب ہونے تک ہر چیر پر لاکھوں روپئے وصول کیا جارہاہے۔ لہذا، حکومت کو پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا کے علاج کے نام پر ہورہے لوٹ مار کو روکنے کیلئے کارروائی کرنی چاہئے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close