دیوبند

چار دنوں تک بینک بند رہنے کیوجہ سے عام آدمی اور تاجر طبقہ پریشان

دیوبند، 28؍ مارچ (رضوان سلمانی) دیوبند میں مسلسل چار دنوں تک بینک بند رہنے کیوجہ سے عام آدمی اور تاجر طبقہ کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ گذشتہ دو دنوں سنیچر اور اتوار کو جہاں بینک بند رہے وہیں اب دو دنوں کی ہڑتال کے سبب اکثر بینکوں میں لین دین اور دیگر امور قطعی طور پر بند پڑے ہیںجس کی وجہ سے تاجر طبقہ کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی بینکوں سے لین دین نہ ہونے کیوجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔

واضح ہو کہ مرکزی حکومت کی ملازمین مخالف پالیسیوں کے خلاف دیوبند سمیت پورے ضلع کے بینک ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے بینکوں کے دروازہ بند رکھے ۔دیوبند کے علاوہ سہارنپور میں احتجاج اور ہڑتال کرنے والے بینک ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے یوپی بینک ایمپلائز یونین کے سکریٹری پردیپ گپتا نے کہا کہ ہمارے ملک کے بینکوں کے ملازمین 28؍اور 29؍مارچ کو ملک گیر ہڑتال پر جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم کا کہنا ہے کہ ہندوستان جیسی ترقی پذیر اقتصادی صورت حال کو مزید وسعت اور ترقی دینے کے لئے عوامی اداروں کو بہت اہم رول ادا کرنا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی بینکوں کو مضبوط کیا جائے اور بینکوں کے پرائیویٹائزیشن کو بند کیا جائے۔

مسلسل چار بینکوں کے بند رہنے کیوجہ سے عام آدمی اور تاجر طبقہ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جس کیوجہ سے تاجر طبقہ اور عوام بے حد پریشان ہے حالانکہ اے ٹی ایم سے تھوڑی بہت رقم نکلنے سے لوگوں کو کچھ راحت ضرور ملی ہے لیکن 30؍کی صبح تک اے ٹی ایم سے رقومات نکل پائیں گی یا نہیں اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔تاجر طبقہ کا کہنا ہے کہ بینکوں سے لین دین نہ ہونے کی وجہ سے مال نہیں آپارہا ہے جس کے باعث کاروبار پر خراب اثر پڑ رہا ہے ۔اس کے علاوہ بینکوں اور اے ٹی ایم سے پیسے نہ نکلنے کی وجہ سے بازاروں میں بھی خریدار نہیں پہنچ رہے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button