قومی

پی ایم مودی اشارہ کریں،تو میں استعفیٰ دے دوں گا:ستیہ پال ملک

نئی دہلی ، 16 جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) کسانوں کے احتجاج کے وقت سے مرکزی حکومت کو گھیرنے والے میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ ریٹائر ہونے کے بعد ہی تمام مسائل پر بات کریں گے۔ خیال رہے کہ ستیہ پال ملک 30 ستمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ستیہ پال ملک نے الزام لگایا تھا کہ جب وہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے، تو انہیں دو فائلوں پر دستخط کرنے کے لیے کروڑوں روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے ایک انٹرویو دیا، جس میں صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ کا گزشتہ 8 سالوں میں چار بار تبادلہ ہوا ہے۔آپ اس پر کیا کہیں گے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا کہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہوں گا، ریٹائرمنٹ کے بعد بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے ،تاہم تحریکوں میں حصہ لیتے رہیں گے۔

مرکزی حکومت کی مخالفت کے بارے میں ستیہ پال ملک نے کہا کہ میں نے ان کیخلاف کچھ نہیں بولا؛ بلکہ میں نے حکومت کے حق میں بات کی ہے۔ اگر اس نے میری بات مان لی ہوتی تو آج کسان اسے خوش کرتے۔ستیہ پال ملک نے مرکزی حکومت کی خصوصی اسکیم اگنی پتھ کی مخالفت کی ہے اور حکومت سے اسے واپس لینے کی اپیل کی ہے۔

ستیہ پال ملک نے کچھ دن پہلے اگنی پتھ اسکیم کے بارے میں کہا تھا کہ میں کہہ رہا ہوں اگنی پتھ اسکیم کو جلدی ٹھیک کریں، یہ اچھا نہیں ہے۔ نوسکھیئے لڑکے فوج میں جائیں تو ان کے ہاتھ میں رائفل ہو گی، اور انہیں اس کا پتہ نہیں ہوگا کہ انہیں کہاں جانا ہے ،مرکزی حکومت بہت گھمنڈ میں رہتی ہے۔ ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ جب میں نے پہلی بار بات کی ہے ،تب سے استعفیٰ میری جیب میں ہے۔ جس دن مودی جی کی طرف سے اشارہ مل گیا، اور اتنا کہہ دیں کہ مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے ، میں اُسی دن چلا جاؤں گا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button