پٹنہ

ووٹ بینک کوبچانے کی کوشش؟مانجھی اورسہنی نے پپویادوکی گرفتاری کوغلط بتایا،بہارکے اقتدارکے دونوں کلیدبردارسنجیدہ ہوئےتونتیش سرکارکاجاناطے ،آرجے ڈی پرنگاہ

پٹنہ 11مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) بی جے پی ایم راجیوپرتاپ روڑی کی مبینہ بدعنوانی کومنظرعام پرلانے والے پپویادوکی گرفتاری پربہاراین ڈی اے میں گھمسان مچ گیاہے۔نتیش کمارسرکاراس پرپھنس گئی ہے ۔این ڈی اے کی اہم حلیف ’ہم ‘کے سربراہ جیتن رام مانجھی اور’وکاس شیل انسان پارٹی‘ کے سربراہ مکیش سہنی نے سوال کھڑے کردیے ہیں۔بہارمیں ان ہی دوپارٹیوں پرسرکارچل رہی ہے اگراپوزیشن ان دونوں کی ناراضگی کواپنی طرف کرلیتاہے تونتیش سرکاراقلیت میں آجائے گی۔دیکھنایہ ہے کہ راجداسے کس طرح لیتاہے گرچہ راجدنے بھی اے سی میں بیٹھ کرٹوئیٹ کرنے کی روایت کے مطابق سوشل میڈیاپپویادوکی گرفتاری کی مذمت کردی ہے لیکن وہ ان دونوں کوکیسے اپنے ساتھ لاتی ہے،یہ دل چسپ ہوگا۔

اندازہ لگایاجارہاہے کہ ان دونوں نے محض اپنے ووٹ بینک کوبچانے کے لیے مذمت کی ہے۔کیوں کہ یہ دونوں پارٹیاںسرکارمیں شامل ہیں جوسرکارکے ہرفیصلے میں شریک سمجھی جائیں گی۔یہ بیانات صرف گیدڑبھبھکی اورووٹ بینک کی سیاست کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اب بہار حکومت کے دو اہم اتحادیوں نے اس گرفتاری پر اعتراض کیا ہے۔ اسی کے ساتھ اسے بے حس بھی قرار دیا گیا ہے۔سابق سی ایم مانجھی نے سوشل سائٹ پر لکھا ہے کہ اگر کوئی عوامی نمائندہ دن رات عوام کی خدمت کرتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے گرفتار کرلیا جاتا ہے تو اس طرح کا واقعہ انسانیت کے لیے خطرناک ہے۔ اس طرح کے معاملات سے قبل کوئی عدالتی تحقیقات ہو تب ہی کوئی کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ہی بہار حکومت کے وزیر مکیش سہنی نے سوشل سائٹ پر لکھا ہے کہ عوام کی خدمت دھرم ہوناچاہیے۔

حکومت کو عوامی نمائندوں ، سماجی تنظیموں اور کارکنوں کو عام آدمی کی مددکے لیے ترغیب دینی چاہئے۔ عوامی نمائندے کو بھی کوروناکے رہنما خطوط پر سختی سے کام کرناچاہیے۔ ایسے وقت میں خدمت میں مصروف پپویادوکوگرفتار کرنا غیر سنجیدہ ہے۔بہار میں این ڈی اے کو کل 125 نشستیں ملی ہیں۔ بی جے پی کو 74 ، جے ڈی یو نے 43 نشستیں ، وی آئی پی کو 4 اور ہم کو 4 نشستیں ملیں۔ 243 رکنی بہار اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحادکو 122 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ بی جے پی اور جے ڈی یو کی سیٹیں جوڑ دیتے ہیں تو ، یہاں 117 سیٹیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں ، دونوں بڑی جماعتیں وی آئی پیز اور ہم کو نظرانداز نہیں کرسکتی ہیں۔ کیونکہ ان دونوں کے پاس اقتدارکی کلیدہے۔پپو یادو کورونا عہد کے دوران اسپتالوں ، شمشان گھاٹوں اور مختلف اضلاع کا دورہ کرکے کورونا متاثرین کی مستقل مددکررہے تھے۔ساتھ ہی بی جے پی لیڈروں کی پول کھول رہے تھے،یہ چیزسرکارکواچھی نہیں لگی۔وہ حکومت کے کام پر سوالیہ نشان لگارہے تھے۔ 7 مئی کی شام چھپرا پہنچنے پر انہوں نے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڑی کے گاؤں میں 25 سے زیادہ ایمبولینسوں کا معاملہ بے نقاب کیا تھا۔ جو کافی خبروں میں تھا۔

پپویادو نے روڑی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کامطالبہ کیاہے۔ بعد میں ، پپو کے خلاف چھپرا میں مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے بعد پٹنہ میں بھی کورونا گائیڈ لائن کے حوالے سے ایف آئی آر درج کروائی گئی۔اس کے بعد انھیںمنگل کی صبح گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر پہلے ہی بہت سارے معاملات چل رہے ہیں۔مجسٹریٹ کے بیان پر ، سابق ممبر پارلیمنٹ پپو یادو کے خلاف بھی پٹنہ کے پیربھور تھانے میں ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی اپیندر کمار شرما کے مطابق ، آج بھی پپو پی ایم سی ایچ کے کوویڈ وارڈ گئے تھے۔پپو یادو کی گرفتاری کے بعد سے ہی بہار کی سیاست گرم ہوگئی ہے۔ پولیس کے اس اقدام پر نتیش حکومت کے دو اہم حلیفوں ،ہم کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی اور وی آئی پی کے سربراہ سہ وزیر مکیش سہنی نے تنقید کی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close