پٹنہ

اردو کا حق دلانے کے لیے اردو کارواں سرگرم عمل ، امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی صدارت میں منعقد میٹنگ میں کئی تجاویزمنظور

پٹنہ 8مارچ(آئی این ایس انڈیا) اردو کی تحریک جوجناب غلام سرورمرحوم اور پروفیسر عبد المغنی مرحوم کے بعد سرد ہو چکی تھی ، کچھ چنگاریاں راکھ تلے دبی ہوئی تھیں ، امارت شرعیہ نے انہیں کرید کر پھر شرارہ بنا نے کی کوشش شروع کی ہے ۔ اردو تحریک کو دوبارہ متحرک کرنے اورسرکاری وعوامی سطح پر اس کو اس کا واجب حق دلانے کے لیے بہار کے منتخب اہل علم، ماہرین اردو ، اوردانشوروں پر مشتمل اردو کارواں کا قیام انہیں مقاصد کی تکمیل کے لیے ہوا ہے اور اردو کارواں اس کے لیے پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ کا م کا خاکہ کیا ہو گا اور اس پر عمل کس طرح کیا جائے گا ، ان سب امور پر تبادلۂ خیال کر نے اور کوئی واضح راہ عمل کی تعیین کے لیے آج مورخہ ۸؍ مارچ ۲۰۲۱ء؁ روز پیر کو اردو کارواں کے ذمہ دارو ں کی ایک اہم مشاورتی نشست امیر شریعت مفکر اسلام حضر ت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی صدارت میں امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر پھلواری شریف، پٹنہ میں منعقدہوئی ۔
اس نشست میں کارواں کے صدر پروفیسر اعجاز علی ارشد سابق وی سی مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی ، نائب صد ر پروفیسر صفد ر امام قادری صدر شعبۂ اردو کالج آف کامر س پٹنہ، نائب صدر مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ و مدیر ہفت روز ہ نقیب ، جنرل سکریٹر ی ڈاکٹر ریحان غنی مدیر روزنامہ پندار، سکریٹری جناب ڈاکٹر انوار الہدیٰ جنرل سکریٹری مسلم مجلس مشاورت بہار شریک تھے ۔ میٹنگ میں ارد و کو حکومتی اور عوامی سطح پر درپیش چیلنجوں اور مسائل کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی اور طے پایا کہ اردو کے جو بنیادی مسائل ہیں جن کے بارے میں حکومت کی سطح سے ہی کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے ان مسائل پر سرکار سے بات کی جائے ،مثلا بہار اردو ٹی ای ٹی کا مسئلہ، اردو مترجم و معاون مترجم کے عہدے پر جلد بحالی کا مسئلہ، ہائی اسکولوںمیں اردو کے اساتذہ کی تقرری اور اردوکے لزوم کو ختم کر کے اس کو اختیاری درجہ میں رکھ دینے کا مسئلہ ہو یا اردو میڈیم اسکولوں کو ہندی اسکولوںمیں ضم کیے جا نے کا مسئلہ اسی طرح مدرسوں کے طلبہ کے لیے سرکاری ملازمت کے لیے ہونے والے امتحانوں کی تیاری کا نظم ،اردو ایڈوائزری کمیٹی کو قانونی درجات دینے کا معاملہ ۔ یہ سبھی ایسے معاملات ہیں جہاں حکومت ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہے ، اس لیے کارواں کے ذریعہ حکومت تک بات پہونچانے اور ان پر پریشربنانے کی کوشش کی جائے ۔ارد و کارواں کے ذمہ داروں کی میٹنگ میں اردو کے تحفظ اور اس کی ترویج و اشاعت سے متعلق ان امور پر بھی گفتگو ہوئی جس میں عوامی سطح پر محنت کی ضرورت ہے مثلاًہر علاقے کے فکر مند اور اردو سے وابستہ حضرات اپنے اپنے علاقہ کے اسکولوں اور کالجوں کا جائزہ لیں اور اعداد وشمارتیار کریں کہ کتنے اسکولوں یا کالجوں میں ۲۰۰۵ء؁ سے پہلے کتنی اردو کی سیٹیں تھی ، ان کی موجودہ صورت حال کیا ہے ۔ جب یہ ڈاٹا تیار ہو جائے تو اس کو اردو کارواں کے دفتر میں بھیجیں، تاکہ اس تعلق سے متعلقہ محکموں سے بات کر کے ان سیٹوں پر دوبارہ بحالی کی کوشش کی جاسکے۔ہر علاقے میں لوگ اپنے طور پر کوشش کریں کہ ان کے گاؤں ، محلہ یا شہر میں سرکاری اسکولوں ، سرکاری دفاتر، سرکاری مقامات وغیرہ پر اردو کے نیم پلیٹ لگائے جائیں ،اس کے لیے عوامی سطح پر آواز اٹھائی جائے، یہ بھی کوشش کی جائے کہ سرکاری تقریبات کے بینر ، پوسٹروغیرہ اردو میں بھی لکھے جائیں ۔اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی طے کی گئی کہ اردو کارواں کے ذریعہ عوام کو اردو پڑھنے ، لکھنے ، اپنے بچوں کواردوپڑھانے لکھانے ، اردو اخبارات و رسائل خریدنے کی ترغیب دی جائے، تا کہ سماج میں اردو بولنے ، پڑھنے ، لکھنے اورسمجھنے کا ایک عمومی مزاج بن سکے۔اس میٹنگ میں منظور شدہ تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے معاونین کے طور پر اردو دستہ کی تشکیل کی تجویز بھی پاس ہوئی اور اس کی ذمہ داری جنرل سکریٹری جناب ڈاکٹر ریحان غنی کے حوالہ کی گئی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close