پٹنہ

چراغ پاسوان سے بدلہ لیں گے نتیش کمار،بی ایس پی کے بعدلوجپاکاانضمام

لوجپاکے اکلوتے ممبراسمبلی کی جدیومیں شمولیت کی تیاری ،دیگرممبران اسمبلی پربھی نظر

پٹنہ25جنوری(آئی این ایس انڈیا)اویسی کے ساتھ الیکشن لڑنے والی مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے بعد اب رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) بھی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) میں ضم ہونے کے لیے تیارہے۔اندازہ یہی ہے کہ بہارکی طرح یوپی میں بھی اویسی کے دوست دھوکہ دے سکتے ہیں۔راج بھرنے اگرایک دوسیٹیں لائیں تووہ مسلمانوں کاووٹ لے کریوگی کے ساتھ چلے جائیں گے۔جس طرح بی ایس پی کے ممبرتوجاہی چکے ہیں،اویسی کے وزیراعلیٰ امیدوارجن کے لیے مسلم حلقوں میں جاکراویسی نے پرچارکیاتھا،وہ اوپیندرکشواہا بھی جدیومیں جاسکتے ہیں۔ چار دن کے اندر ہی دونوں پارٹیوںکے واحد اراکین اسمبلی نے بہارمیں حکمراں جے ڈی یو میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ آزادامیدوار سومت سنگھ میں بھی جدیومیں شامل ہوگئے ہیں۔اندازہ ہے کہ جدیومجلس کے ممبران کوبھی توڑنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ پیرکے روزجے ڈی یوکے اشوک چودھری کی چراغ پاسوان کے واحد ایم ایل اے راجکمار سنگھ کی رہائش گاہ پرملاقات ہوئی،اس پرجے ڈی یو نے قیاس آرائیاں کرنا شروع کردیں۔ اب بتایا جارہا ہے کہ اس کاباضابطہ اعلان باقی ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ایل جے پی کو بی ایس پی کی طرح اسمبلی میں ضم کردیا جائے گا۔ اگر اسمبلی کااجلاس شروع ہوتا ہے تو ان دونوں جماعتوں کا کوئی نام نہیں ہوگا۔ نہ تو زبانی اور نہ ہی کاغذات پر۔چراغ پاسوان نے جدیوکوجس طرح متاثرکیاہے ،اس کے ایم ایم ایل اے کوپارٹی میں شامل کرکے نتیش کمارچراغ پاسوان سے بدلہ لیناچاہتے ہیں اوراسمبلی میں اپنی تعدادبڑھاناچاہتے ہیں تاکہ کل اگرآرجے ڈی حکومت سازی کی کوشش کرے توآزاد،بی ایس پی اورلوجپاکے ممبران جدیوکاکھیل نہ بگاڑدیں۔بہار قانون ساز اسمبلی میں نمبر کے حساب سے تیسری پارٹی جے ڈی یوکے پاس اب 45 ارکان اسمبلی ہوں گے جبکہ ایک آزاد کو اس کی حمایت حاصل ہے۔ بہار انتخابات میں ایل جے پی کے 35 امیدواروں نے ووٹ ڈال کرجے ڈی یوکے ہاتھوں سے نشستیں چھین لی تھیں۔ اس کی وجہ سے جے ڈی یو اور بی جے پی میں تعطل بھی عروج پر تھا۔زماں خان کے جے ڈی یو میں شامل ہونے کے ساتھ ہی اسمبلی میں جے ڈی یو کی تعداد 43 سے بڑھ کر 44 ہوگئی۔ جے ڈی یو میں شامل ہوتے ہی ایل جے پی کے واحد ایم ایل اے راجکمار سنگھ کے شامل ہونے سے جے ڈی یواسمبلی میں 45 اراکین والی ہوگی۔جے ڈی یوآہستہ آہستہ اسمبلی میں اپنی پارٹی کو مضبوط کررہی ہے۔ اسمبلی کے ساتھ ایل جے پی اور بی ایس پی کا وجود ختم ہوگیا۔اب ودھان سبھا میں ان دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close