بہار و سیمانچلپٹنہ

مدارس آئین کی بنیادی دفعات کے دائرے میں ہیں جسے چھوانہیں جاسکتا، آسام میں مدارس بند کرنے کافیصلہ آئین مخالف : مولانامحمدولی رحمانی

مونگیر20جنوری(آئی این ایس انڈیا) آسام اسمبلی نے ایک تجویز منظورکی ہے جسکے نتیجہ میںپہلی اپریل سے تمام مدارس بند کردیئے جائیں گے ۔اسمبلی کی یہ تجویزاورمدارس بند کرنے کافیصلہ غلط ہے،اورآئین میں موجود بنیاد ی حقوق کی دفعہ ۳۰؍کی کھلی مخالفت ہے‘‘۔ان خیالات کااظہارایک صحافتی ملاقات میں امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانامحمدولی رحمانی جادہ نشیںخانقاہ رحمانی مونگیر نے کیا۔

انہوں نے کہاکسی ا سمبلی یاپارلیمنٹ کوآئین ہندکے بنیادی حقوق کی دفعات کے خلاف قانون سازی کاحق نہیں ہے،آسام گورنمنٹ نے پہلے اعلان کیاکہ سرکاری امداد پانے والے مدارس کوسرکاری اسکولوں میں تبدیل کرلیاجائے گااوراب اسمبلی میںیہ تجویزمنظورکی گئی ہے کہ تمام ترمدارس کواسکول بنادیاجائیگا ،مدارس کے اساتذہ کی نوکریاں باقی رہیں گی اورانہیںسہولتیں دی جائیں گی۔

امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے کہاجتنے بھی مدارس ہیںوہ آئین کے بنیادی حقوق کی دفعات ۲۹؍۳۰؍کے دائرہ میں ہیںاوران کی اصل حیثیت کوبدلانہیںجاسکتا،جومدارس حکومت کی امدادنہیں لیتے نہ صر ف حکومت ان پر ہاتھ نہیںڈال سکتی ،بلکہ سرکاری امداد پانے والے مدارس کوبھی حکومت چھونہیںسکتی جب تک بھارت کاآئین زندہ ہے ،سرکاری امدادلینے والے مدارس کی زمین مکان عام مسلمانوں کے تعاون سے کھڑے ہوئے ہیں،اساتذہ اوراسٹاف کی تنخواہیں بھی لانبے عرصہ تک مسلم عوام نے پورے کیے ہیں ،عوام کی طرف سے عمارتوںکے بنانے کاسلسلہ بھی جاری ہے،صرف اساتذہ اوراسٹاف کی جزوی یاکلی تنخواہ دینے کی وجہ سے مدرسہ کی بنیادی نوعیت نہیں بدلی جاتی اوروہ آئین کی دفعہ ۲۹؍۳۰؍سے باہر نہیں ہوجاتے ۔

امیر شریعت حضرت مولانا محمدولی رحمانی صاحب نے اظہار رائے کرتے ہوئے کہاکہ آسام حکومت کی دہشت گردی کایہ ایک نمونہ ہے ،اورآئین ہندکونظر انداز کرنے کی ایک مثال ہے ۔اس صورتحال کوعدالت سے نپٹنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close