پٹنہ

پٹنہ : پہلے مرحلے کی انتخابی مہم پربریک

پٹنہ26اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) 28 اکتوبر کو بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں71 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ شام 5 بجے سے انتخابی مہم رک گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں بہت ساری سیٹوں پر سیاسی ماہرین کی نظرہے جن میں نتیش حکومت کے 8 وزراء کی ساکھ بھی شامل ہے۔ ان میں سے چار بی جے پی اور چارجے ڈی یوکے کوٹہ کے وزراء ہیں، جن کی مخالفت اپوزیشن کی طرف سے زبردست ہورہی ہے اورمتعدد سیٹوں پر باغی ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نتیش کمارکے وزرا کے ساتھ نشستوں کے مابین ایک انتہائی دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ریاست بہار کی نتیش حکومت کے آٹھ وزراء جن کے داؤلگے ہوئے ہیں ، گیا کے وزیر زراعت ڈاکٹر پریم کمار ، جہان آباد سے وزیر تعلیم کرشن نندن ورما ، جمال پور سے وزیر برائے دیہی امور شیلیش کمار ، راجن پور ، دین پور سے وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی جے کمار سنگھ شامل ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ سنتوش کمار نیرالہ ، بانکا سے وزیر ریوینیو رامنارائن منڈل ، لکھی سرائے سے وزیر محنت وجے کمار سنہا اور چن پور سے ایس سی اور ایس ٹی کی فلاح وبہبودکے وزیر برجکیشور ہیں۔این ڈی اے سیٹ شیئرنگ میں دینارا اسمبلی سیٹ جے ڈی یوکے کھاتے میں چلی گئی ہے،جس کی وجہ سے نتیش کمار نے اپنے سیٹنگ ایم ایل اے جے سنگھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ آر جے ڈی سے وجے منڈل یہاں سے امیدوارہیں۔ بی جے پی کے ریاستی نائب صدر اور سنگھ پرچارک راجندر سنگھ نے ایل جے پی سے ٹکٹ لے کرانتخابی مقابلہ کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ جے ڈی یو-آر جے ڈی 2015 کے اسمبلی انتخابات میں ساتھ تھے لیکن جے سنگھ کے یہاں سے جیتنے میں پسینہ چھوڑ گئے تھے۔ جے ڈی یوکے جے ڈی کمار صرف 2691 ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ اب راجندر سنگھ ایل جے پی کے ساتھ میدان میں ہیں ، جس کی وجہ سے جے ڈی یو کی سیاسی مساوات گڑبڑ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے اورمقابلہ سہ رخی ہوگیاہے۔ ایسی صورتحال میں اگر بی جے پی کا کیڈر تھوڑا بہت ووٹ کاٹ کرسکتا ہے توجے ڈی یوکے لیے ہیٹ ٹرک لگانا آسان نہیں ہوگا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close