پٹنہ

کیانتیش اورپاسوان کوسی اے اے کی حمایت کاانعام ملے گا؟

مرکزی کابینہ میں شامل ہوگی جے ڈی یو، چراغ پاسوان بھی بن سکتے ہیں وزیر

پٹنہ۔۳؍جنوری: بہار اسمبلی انتخابات میں گرچہ ابھی آٹھ نو ماہ کا وقت ہے لیکن یہاں کی سیاست ابھی سے گرماگئی ہے۔بہار این ڈی اے میں سیٹ تقسیم کو لے کر جے ڈی یو نے بی جے پی کے سامنے فارمولہ رکھ دیا لیکن بی جے پی نے اس پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیاہے۔اب مرکزی کابینہ کی توسیع کی بحث ہو رہی ہے۔اس توسیع میں جے ڈی یو کوسی اے اے کی حمایت کاانعام ملنے کی امیدہے۔اس سے پہلے طلاق بل پربھی پارلیمنٹ سے بھاگ کراس نے سرکارکاساتھ دیاتھا۔اس کے کابینہ میں شامل ہونے کے قیاس لگائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ جگ ظاہر ہے کہ جے ڈی یوکے قومی صدر اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کابینہ میں صرف ایک سیٹ دئیے جانے سے ناراض ہو کر مرکز کی حکومت میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔تب نتیش نے پٹنہ لوٹتے ہی اعلان کیا تھا کہ مرکزی کابینہ میں شامل ہونے کا اب سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔نتیش کمارنے اس وقت غصے کو پی لیا تھا کیونکہ بڑی جیت کے بعد انہیں امید تھی کہ ان کے رہنما بھی وزیر بنیں گے اور بہار کی ترقی میں آسانی ہو گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔اب بی جے پی ذرائع بتارہے ہیں کہ مرکزی کابینہ توسیع میں جے ڈی یو کو بھی دعوت دی جا رہی ہے۔مگر لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ کیا نتیش اپنے پرانے موقف کو بدلیںگے یا پھر اگر تبدیل کرنے کی نوبت آئی تو کیا کوئی شرط ہوگی۔سیاسی گلیاروں میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ نتیش کمار کے سامنے اولین ترجیح کیا ہے۔کابینہ میں شامل ہونا یا پھر 2020 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کو زیادہ سیٹیں دلانا۔جے ڈی یو کے قومی نائب صدر اور پرشانت کشور نے بی جے پی سے زیادہ سیٹوں پر لڑنے کا فارمولہ بھی بتا دیا ہے۔نتیش نے پرشانت کشور کے اس بیان کی تردید بھی نہیں کیا۔نتیش سے جب سوال ہوا کہ کیا بہار این ڈی اے میں سب ٹھیک ہے تو جواب آیا سب ٹھیک ہے۔ایسے میں بالواسطہ طور پر پرشانت کشور کے بیان کی انہوں نے حمایت ہی کی ہے۔ بی جے پی کو پتہ ہے کہ نتیش کمار برابر-برابر سیٹ والے فارمولے پر الیکشن نہیں لڑیں گے۔ایسے میں زیادہ سیٹیں جے ڈی یو کو جائے گی۔ایسی صورت میں جے ڈی یو کتنی زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑے گی یہ طے نہیں ہو پا رہا ہے۔معاملہ یہیں پھنسا ہے۔نتیش کمار کے کافی قریبی ایک رہنما نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمار کے پاس ایسی کوئی پیشکش آئی ہی نہیں ہے۔ایسے میں اس پر کسی طرح کی بحث اب بے معنی نہیں ہے۔وہیں راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ آر سی پی سنگھ نے کہاکہ بہار میں پارٹی کی تنظیم کو مضبوط کرنے کا کام کر رہے ہیں۔جہاں مرکزی کابینہ کی توسیع کا معاملہ ہے تو وہ وزیر اعظم کی جوابدہی ہے۔اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں، جہاں تک میرے نام کی بحث کی بات ہے تو میں مستقل ہر چیز میں بحث میں رہتا ہوں۔کابینہ میں شامل ہونے کی بات ہے تو ہماری اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔بی جے پی کے لیڈر بھی جے ڈی یو کی کابینہ میں شامل ہونے کی بات کھل کر نہیں بول رہے ہیں۔بہار بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر نے کہا کہ یہ معاملہ مرکز ہے اس میں ان کا کوئی رول نہیں ہے۔دوسری طرف خراب صحت کو دیکھتے ہوئے ایل جے پی لیڈر اور وزیر رام ولاس پاسوان کی جگہ ان کے رہنما کے بیٹے چراغ پاسوان کو وزیر کے عہدے کا آفر دیا گیا ہے۔لیکن چراغ اب فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ان کی آگے کی حکمت عملی کیا ہوگی۔چراغ کے قریبی کا کہنا ہے کہ ابھی رام ولاس جی وزیر کے عہدے کی ذمہ داری بخوبی ادا کر رہے ہیں۔پارٹی صدر کا کام چراغ خود دیکھ رہے ہیں۔پارٹی توسیع پر چراغ پاسوان مشکل میںہیں۔ایسے میں وزیر کے عہدے کی ذمہ داری نبھانا مشکل کام ہے۔پھر بھی اس پر آخری فیصلہ ہونا باقی ہے۔۔ایک طرف جے ڈی یو بہار اسمبلی میں سیٹوں کی تقسیم پر جلد فیصلہ کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف چراغ پاسوان پارٹی صدر کے عہدے کے ساتھ مرکز میں وزیر بننے پر سنجیدگی سے غور کر رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close