پٹنہ

مولانا امین اشرف قاسمی ، قصرابراہیم کا مضبوط ستون گر گیا،مفتی محمد ثناء الھدیٰ قاسمی(پٹنہ پریس ریلیز ٢١ستمبرعبد الرحیم برہولیا وی)

مفتی محمد ثناء الھدیٰ قاسمی نایب ناظم امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھاڑکھنڈنے مولاناامین اشرف کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے فرمایا
شمالی بہار کی مشہور ومعروف درسگاہ ادارہ دعوۃالحق مادھو پور سلطان پور سیتا مڑھی کے بانی بافیض عالم دین، امارت شرعیہ کے سیتامرھی ضلع کے مضبوط ستون ، میرے مخلص کرم فرما اور ملت کے غمگسار حضرت مولانا امین اشرف صاحب نے٢٠ ستمبر کو اپنے آبائی گاؤں مادھو پور اور اپنے آبائی گھر قصر ابراہیم میں داعی اجل کو لبیک کہا اناللہ وانا الیہ راجعون اس طرح قصر ابراہیم کا مضبوط ستون گر گیا تعزیت کے مستحق مولانا کے نامور برادران حضرت مفتی ثمین اشرف مولانا رزین اشرف، مکین اشرف، فطین اشرف وغیرہ کے ساتھ انکے سینکڑوں معتقدین بھی ہیں جنہوں نے ان سےکسب فیض کیا. وہ طلبہ بھی ہیں جنہوں نے ان کے دور اہتمام میں دعوۃالحق سے اپنی پیاس بجھائ مولانا بڑے مہمان نوازخلیق اور چھوٹوں پر شفقت کرنے والےتھے. میرا تعلق ان سے اور انکے بھائیوں اور اس خانوادہ سے بڑا قدیم ہے اس تعلق کو قایم کرنے میں میرے رفیق درس مولانا عبدالرزاق رح صاحب کا بڑا ہاتھ تھَا انکے دور میں امتحان لینے کے لیے میرا دعوۃالحق آنا جانا لگا رہتا تھا. مولانا کے والد حاجی ابراہیم صاحب بھی حیات سے تھے. انکی شفقت اور توجہ بھی ملتی رہتی تھی. اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین مفتی محمد ثناء الھدیٰ قاسمی نایب ناظم امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھاڑکھنڈنے مولاناامین اشرف کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے فرمایا
شمالی بہار کی مشہور ومعروف درسگاہ ادارہ دعوۃالحق مادھو پور سلطان پور سیتا مڑھی کے بانی بافیض عالم دین، امارت شرعیہ کے سیتامرھی ضلع کے مضبوط ستون ، میرے مخلص کرم فرما اور ملت کے غمگسار حضرت مولانا امین اشرف صاحب نے٢٠ ستمبر کو اپنے آبائی گاؤں مادھو پور اور اپنے آبائی گھر قصر ابراہیم میں داعی اجل کو لبیک کہا اناللہ وانا الیہ راجعون اس طرح قصر ابراہیم کا مضبوط ستون گر گیا تعزیت کے مستحق مولانا کے نامور برادران حضرت مفتی ثمین اشرف مولانا رزین اشرف، مکین اشرف، فطین اشرف وغیرہ کے ساتھ انکے سینکڑوں معتقدین بھی ہیں جنہوں نے ان سےکسب فیض کیا. وہ طلبہ بھی ہیں جنہوں نے ان کے دور اہتمام میں دعوۃالحق سے اپنی پیاس بجھائ مولانا بڑے مہمان نوازخلیق اور چھوٹوں پر شفقت کرنے والےتھے. میرا تعلق ان سے اور انکے بھائیوں اور اس خانوادہ سے بڑا قدیم ہے اس تعلق کو قایم کرنے میں میرے رفیق درس مولانا عبدالرزاق رح صاحب کا بڑا ہاتھ تھَا انکے دور میں امتحان لینے کے لیے میرا دعوۃالحق آنا جانا لگا رہتا تھا. مولانا کے والد حاجی ابراہیم صاحب بھی حیات سے تھے. انکی شفقت اور توجہ بھی ملتی رہتی تھی. اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close