پٹنہ

بہار میں آفت کی بارش ، آسمانی بجلی نے 18لوگوں کی جان لی

پٹنہ15ستمبر(آئی این ایس انڈیا) بہارمیں قدرت کاقہرجاری ہے۔آج بہارکے متعدداضلاع میں زبردست بارش اور برق باری ہوئی۔جس کے سبب18لوگ آسمانی بجلی کی زدمیں آنے سے موت کی نیندسو گئے۔ویشالی ،رہتاس ، سارن ، بھوجپور ، گوپال گنج،بیگوسرائے،سپول ، پٹنہ ، کیمور اور ارریہ میں آسمانی بجلی گرنے سے 18لوگ موت کی نیند سوگئے۔ آسمانی برق باری میں سب سے زیادہ اموات ضلع ویشالی کے راگھو پور میں ہوئی ہیں۔ راگھوپور مشرقی پنچایت میں 4 افراد بجلی کی زد میں آکرہلاک ہوگئے۔ رہتاس کے خرم آبادمیں دو کسان جو اپنے کھیتوں میں کام کررہے تھے بجلی کی زد میں آنے سے جائع وقوع پر ہی لقمہ اجل بن گئے۔سارن ضلع کے پانا پور میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 لڑکیوں کی موت ہوگئی۔ بھوجپور ضلع کے ادونت نگرمیں 2افراد کی موت ہوگئی۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک طالبہ بھی شامل ہے۔ وہ کالج سے گھر واپس جارہی تھی کہ آسمانی بجلی سیجھلس کر موت ہوگئی۔ گوپال گنج کے بھوورے گائوں میں بجلی گرنے سے دو بچوں کی موت ہوگئی۔ بیگوسرائے کے ڈنڈاری تھانہ علاقہ میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوگئی۔ اسی دوران ارریہ ضلع کے فاربس گنج بلاک کے مشرقی جھرووا میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث محمد صدر عالم کی موت ہوگئی۔سپول کے بسنت پور بلاک کے کوچگامہ میں 37 سالہ محمدناصرکی موت ہوگئی۔ کیمور ضلع کیچین پور کے لوہرا گائوں میں ایک کم سن بچہ کی موت ہوگئی۔پٹنہ ضلع کے پالی گنج میں بھی ایک شخص بجلی کی زد میں آنے سے موت کی نیند سوگئے۔آسمانی بجلی کے بارے میں ماہرموسمیات کا کہنا ہے کہ مانسون کے دوران آسمان میں بادل بنتے ہیں۔ہوامیں بلندی کی وجہ سے اوپر نیچے چلے جاتے ہیں جس سے ان کے درمیان ٹکرائو پیدا ہوتا ہے اس ٹکرائوکی وجہ سے برقی قوت پیدا ہوتی ہے اور زمین پر تیزی سے یہ گرتی ہے اسے ہی قدرتی آفات کہا جاتا ہے۔ آسمانی بجلی ہے اس میں 2.5لاکھ وولٹ کرنٹ کی طاقت رہتی ہے جو چند سکنڈوں کیلئے ہی رہتی ہے اتنی طاقتور آسمانی بجلی جب گرتی ہے توانسان اورذی روح سیکنڈوں میں ڈھیرہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں حساس رہنا ہے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنا ہے تبھی ہم قدرتی آفات اور آسمانی بجلی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close