پٹنہ

یادوں کے چراغ مولانا محمد متین الحق اسامہ کان پوری

📝مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھاڑکھنڈ

ابھی صبح کے معمولات سے فراغت نہیں ہوئی تھی کہ موبائل کی گھنٹی بج اٹھی،خیرآباد سیتاپور سے عارف انصاری صاحب کا فون تھا،عارف انصاری صاحب میرے مضامین شوق سے پڑھتے ہیں اور موبائل پر انتہائی بے باکی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں،اس لئے ان کا فون آنا تعجب خیز نہیں تھا،اطمینان سے موبائل اٹھایا،سلام و خیریت کے بعد انہوں نے بتایا کہ آج ۱۸/جولائی کو رات ڈھائ بجے مولانا متین الحق اسامہ کان پوری کا انتقال ہوگیا،میں سر سے پاؤں تک ہل کر رہ گیا مجھے یہ معلوم تھا کہ وہ شوگر، ہائی بلڈپریشر ، تھائی رائیڈ وغیرہ امراض کے شکار ہیں۔ان کے صاحب زادہ کے میسج سے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ مولانا کو کرونا ہو گیا ہے؛لیکن یہ اس مرحلہ تک پہونچ گیا ہے کہ دنیا کو الوداع کہنے کا سبب بن جائے گا،اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا، صبح کے معمولات سے فراغت کے بعد وھاٹسپ کے پیغامات دیکھنا اور پڑھنا یہ بھی معمول کا حصہ ہے، اب جو وھاٹسپ کھولا تو سارے گروپ میں یہ خبر نمایاں تھی، تعزیتی پیغامات اور دعاؤں کا تانتا لگا ہوا تھا، تفصیلات کے مطابق بدھ کی رات دس بجے انہیں دل کا دورہ پڑا، صورت حال کی نزاکت کے پیشِ نظر انہیں کان پور میڈیکل کالج، (ہیلٹ)ریفر کردیا گیا، اور وہاں ڈھائ بجے رات میں صرف ترپن سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہدیا،بہت دیر بعد میں اپنے آپ کو سنبھال پایااور سوچتا رہا کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک علم یعنی صاحب علم کا اٹھ جانا ہے،لیکن اس معاملہ میں بندہ کو راضی برضاۓ الہی رہنا ہے، اس کے علاوہ اس کے بس میں اور کچھ نہیں ہے۔

پس ماندگان میں مولانا نے اہلیہ چار لڑکے اور ایک لڑکی کو چھوڑا۔لڑکی کی شادی ان کے برادرنسبتی مولانا محمد طلحہ نقشبندی کے صاحبزادہ سے ہوئی۔
جنازہ اسی دن ۱۸/جولائی ۲۰۲۰ء کو صبح کے پونے آٹھ بجے ان کے بڑے صاحبزادہ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے پڑھائی اس کے بعد جنازہ کی چار جماعتیں اور ہوئیں، لوگ آتے رہے اور پڑھتے رہے،اور جامع مسجد اشرف آباد سے متصل قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
مولانا محمد متین الحق اسامہ بن مولانا مبین الحق نے انتہائی سرگرم زندگی گزاری ،انتقال کے وقت وہ جمعیت علماء اتر پردیش کے ناظم، رابطہ مدارس اسلامیہ اتر پردیش زون۔۱ کے صدر، جامع مسجد اشرف آباد کے امام، جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاج مئو کان پور کے ناظم، قاضی شہر کان پور، رکن مجلسِ عاملہ جمعیت علماء ہند، چئیرمین حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کان پور، صدر مجلس تحفظ ختم نبوت کان پورتھے اور اکابر علماء کے معتمد بھی، ان کا شمار امن و یکتا کے علمبردار اور دین و شریعت کے ترجمان میں ہوتا تھا۔وہ فرقہ باطلہ کے خلاف بھی سر گرم عمل رہا کرتے تھے۔

مولانا اسامہ نے ۷/مئی ۱۹۶۷ء کو اتر پردیش کے فتح پور میں اپنی آنکھیں کھولیں، مکتب کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی، والد مولانا مبین الحق صاحب جامع العلوم پٹکا پورکان پور میں ناظم تعلیمات اور شیخ الحدیث تھے، قائم مقام صدر مدرس کے فرائض بھی انہیں سے متعلق تھے، اس لئے مولانا اسامہ کان پور منتقل ہوگئے، یہاں گھر پر ہی آدھا پارہ حفظ کیا، اس کے بعد جامع العلوم پٹکا پورمیں آگے کی تعلیم کے لیے داخل ہوگئے، پورے پانچ سال وہ یہاں درس نظامی کی کتابیں نامور اساتذہ سے پڑھتے رہے، یہیں ان کا علمی ذوق پروان چڑھا، اعلٰی تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، ۱۹۸۹ء میں وہاں سے سند فراغت حاصل کرکے والد محترم کی مرضی کے مطابق کانپور چلے آئے اور مختلف مدرسوں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، والد صاحب کی علالت کے بعد جامع مسجد اشرف آباد کے امام مقرر ہوئے، سترہ سال قبل جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاج مئو کے قیام کے بعد سے ہی بطور ناظم خدمت انجام دیتے رہے ، انتہائی جانفشانی سے اس ادارہ کو پروان چڑھایا، آج اس کی مختلف علاقوں میں ترپن شاخیں کام کر رہی ہیں، ۲۸/ جنوری ۲۰۱۶ ء کو قاضی شہر مفتی منظور احمد مظاہری نے انہیں اپنا قائم مقام جانشیں بنایا، وہ ۴/اکتوبر ۲۰۱۶ء کو جمعیت علماء اتر پردیش کے صدر منتخب ہوئے، وہ جمعیت علماء کے محکمہ شرعیہ کان پور کے بھی صدر تھے، ان کا شمار ملک کے نامور خطیب، مقرر اور ممتاز ترین عالم دین میں ہوتاتھا۔
مولانا کی شادی جامعہ عربیہ ہتھورہ باندہ کے مؤقر استاذ حضرت مولانا نفیس احمد رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سے ہوئی تھی، اس اعتبار سے مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی اور مشہور مقرر جمعیت علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی ان کے برادرنسبتی تھے، بعد میں مولانا متین الحق اسامہ اور مولانا محمد طلحہ آپس میں سمدھی بھی ہوگئے، میں نے اپنی آنکھوں دیکھا کہ ان سب میں بہت یگانگت اور انسیت تھی،ایک دوسرے کے اکرام و احترام میں سبقت لے جانا ان کے معمولات کا حصہ تھا۔

مولانا مرحوم سے ہماری ملاقات مدارس کے جلسوں میں گاہے گاہے ہوتی رہتی تھی، مولانا مقرر بڑے تھے، لیکن عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے اور دارالعلوم سے فراغت بھی میرے بہت بعد کی تھی، اس لئے وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے، کہیں کہیں اور کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ ان کا نام مجھ سے پہلے ہوتا تو میں ضد کرکے ان سے پہلے تقریر کرلیتا، مولانا کی شعلہ بار تقریر کے بعد کوئی تقریر لوگوں کو بھاتی بھی نہیں تھی، اور میرا خیال ہے کہ ایسی مفید اور کارآمد تقریر کے بعد کسی اور کا تقریر کرنا پہلے والی تقریر کے اثر کو زائل کرتا ہے، اس خلوص اور محبت کی وجہ سے جو ہم لوگوں کے درمیان تھی، وہ ایک بار وفاق المدارس امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھاڑکھنڈ کے اساتذہ کے تربیتی پروگرام میں تشریف لائے تھے، یہ دارالعلوم سجاد نگر لڑوارہ ضلع بیگو سراۓ میں ۲ تا ۴ اپریل ۲۰۱۳ء بروز منگل تا جمعرات منعقد ہوا تھا مولانا نے اس موقع سے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ نظام مدارس کو مضبوط اور فعال بنانے کے لئے ترجیحی طور پر قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اچھی طرح اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہی مدارس پوری دنیا میں اسلامی نشأۃ ثانیہ کے علم بردار ہیں اسی کے ذریعہ ہم اپنی مذہبی تعلیم اور تہذیبی شناخت کو برقرار رکھ سکتے ہیں ،اندرونی نظام میں جو کمزوریاں در آئیں ہیں انہیں بھی ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ دور کرنا ہوگا ؛چونکہ وہ رابطہ مدارس اسلامیہ سے جڑے ہوئے تھے، اس لئے برجستہ موضوع کے اعتبار سے بڑی مفید تقریر انہوں نے کی اور شرکاء نے اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر قبول کیا۔

یکساں سول کوڈ پر ایک پروگرام انہوں نے حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کانپور کے زیر اہتمام
جلسہ سالانہ تقسیم اسناد کے موقع سے ۲۰۱۷ء میں بمقام. راگیندر سروپ آڈوٹریم ہال سول لائن کانپورمنعقد کیاتھا، ان کی خواہش تھی کہ امارت شرعیہ کی طرف سے کوئی اس پروگرام میں نمائندگی کرے اور نمائندہ ایسا ہو جو موضوع پر تقریر بھی کرے اور چھوٹے موٹے عذر کی وجہ سے غیر حاضر بھی نہ ہو، اکابر امارت نے نمائندگی کے لئے میرا نام پیش کردیا، مولانا نے مجھ سے مسلسل رابطہ بناۓ رکھا، ان کی خواہش پر میں ایک روز پہلے ہی کان پور حاضر ہوگیا، رات کا قیام مدرسہ اشرف العلوم میں ہوا، میری ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لئے انہوں نے مولانا اظہار مکرم قاسمی استاذ مدرسہ اشرف العلوم جاج مئو کو مامورکیا،اتفاق سے مولانا محمد طلحہ صاحب بھی اسی دن تشریف لائے تھے، دونوں حضرات سے اچھی ملاقات رہی، کل ہوکر ایک بڑے آڈوٹریم میں پروگرام ہوا، مجمع دیکھ کر مولانا کی مقبولیت کا اندازہ ہوا، پروگرام بہت اچھا ہوا، کئی وکلاء نے بھی مجمع سے خطاب کیا، میری تقریر بھی یکساں سول کوڈ کے حوالہ سے ہوئی اور مولانا اسامہ نے مجھے بتایا کہ پسند کی گئی، بعد میں دن کا کھانا جہاں تھا وہاں بھی دستر خوان پر میری تقریر موضوع گفتگو بنی رہی۔
اس پروگرام کے بعد پھر کوئی ملاقات یاد نہیں ہے، البتہ مولانا کی تحریکی اور تنظیمی سرگرمیوں کی اطلاع اخبارات اور شوسل میڈیا کے ذریعہ ہوتی رہتی تھی، مفتی منظور احمد صاحب کے انتقال کے بعد کانپور بلکہ اتر پردیش میں بہت ساری جہتوں سے مولانا محمد اسامہ توجہ کے مرکز بنے ہوئے تھے، اس لئے اتنی جلدی ان کا رخصت ہوجانا بڑا ملی سانحہ ہے، اللہ ربّ العزت ان کی مغفرت فرمائے،پس ماندگان کو صبر جمیل بخشے اور اداروں کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے،ان اللہ علی کل شی قدیر۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
Close