Uncategorized

پٹنہ کا ایک یادگار ورکشاپ-محمد اطہر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علما۶ ارریہ

*پٹنہ کا ایک یادگار ورکشاپ*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

رب العالمین نے اپنے اس جہان کو ایک نظام اور سسٹم کے تحت پیداکیا ہےاوریہ نظام اور سسٹم خوبصورتی کے ساتھ چلے;اس کے لۓ اشرف المخلوقات یعنی انسان کو عقل و شعور اور علم و آگہی کی نعمت سے سرفراز فرماکر انہیں اپنا جانشین اور خلیفہ بنایا*۔*ظاہر سی بات ہے کہ خلافت و نیابت کے لۓ جہاں ایک طرف بے شمار اوصاف و کمالات کی ضرورت ہے وہیں دوسری طرف خلیفہ اور جانشین کے لۓ صحت و تندرستی کی دولت سےمالا مال رہنا بھی حصول مقاصد کے لۓ ایک اہم ضرورت ہے۔غالبا اسی لۓ رحمة للعالمین حضرت مُحَمَّد مصطفیﷺنےارشاد فرمایا*:*المٶمن القوی خیر من المٶمن  الضعیف۔کہ ایک طاقتور مومن ایک کمزور مومن کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے*۔*الحاصل اسی مقصد کے تحت نیتی آیوک حکومت ہند کی اسکیم کے تحت Unicef اورPiramal Foundation کے اشتراک سے پٹنہ میں منعقدہ دو روزہ صحت بیداری ورکشاپ میں ایک موقر ٹیم کے ساتھ حاضری کا موقع ملا*۔ *واضح رہے کہ حکومت ہند کے  ایک اسکیم ساز ادارہ ”نیتی آیوگ“ نے اپنے سروے میں پایا کہ پورے ملک میں کل 117/اضلاع ایسے ہیں جہاں دیگر مسا۶ل کے علاوہ صحت اور خاص طورپر حاملہ خواتين اور چھوٹے بچے کی صحت کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔*اس لۓ حکومت ان اضلاع میں Unicef اور Piramal Foundation جیسی بڑی تنظيموں کےذریعے صحت بیداری کیلۓ ورکشاپ کررہی ہے۔ان 117/اضلاع کی فہرست میں سیمانچل کے چاروں اضلاع ارریہ،پورنیہ، ٗکشن گنج اور کٹیہار بھی شامل ہیں*۔*چنانچہ Piramal Foundation ارریہ Unit کی طرف سے ہمیں 5,6 فروری کو منعقدہ ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا*۔ *جہاں سیمانچل کے علاوہ مزید تین اضلاع گیا,شیخ پورہ اور بیگوسراۓ کی ٹیمیں بھی شریک تھیں*۔*ورکشاپ میں ملک کے چاربڑے مذاہب اسلام،سکھ،عیساٸ اور ہندو کے مذہبی رہنما شامل تھے۔*جن کا مقصد یہ تھا کہ حاملہ خواتين اور بچے اور جنین کے متعلق ان مذاہب کی کیا تعلیمات ہیں اور وہ اپنی ان تعلیمات کی روشنی میں اپنے اپنے حلقہ اثر میں کن کن شکلوں اور ذرائع سے مذکورہ بالا امور پر اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں*۔*ماشا۶اللہ مذہب اسلام تو چونکہ ایک آفاقی اور عالمگير مذہب ہے اور اس کی تعلیمات انسانيت کے لۓسراپا رحمت ہیں اور بطور خاص اسلام نے عورتوں اور بچوں پر جوخصوصی توجہ دی ہے وہ بےمثال و لازوال ہے۔اس لۓہمیں حفظان صحت کی اس ٹریننگ سے بہت خوشی حاصل ہوٸ*۔*اور ساتھ ہی اس ورکشاپ کے ذریعہ ہمیں اندازہ ہوا کہ بحیثیت خیر امت کے اس شعبہ میں عملی میدان میں ہم نے کچھ نہیں کیا۔یا جس نے جو کچھ کیا بھی توہمارے سماج کو اس سے کٸ گنا زیادہ ہماری خدمت کی ضرورت تھی۔کیونکہ یہ بات بدیہی ہے کہ ہماری ماٸیں جس قدر صحت مند ہںوں گی ہمارے بچے بھی اسی قدر تندرست ہوں گے اور بچے جتنے اچهے ہوں گے ہمارا سماج اور معاشرہ بھی اتنا ہی صحت مند اور اچها ہوگا*۔*بہرحال اللہ جزاۓخیر دے Piramal Foundation  ارریہ کے D.T .M جناب Parimal Kumar Jha اور ان کی پوری ٹیم بطور خاص B .T .M جوکی ہاٹ برادر معصوم رضا صاحب اور B .T .M پلاسی برادر صہیب رومی صاحب اور جناب برادر شکیل اعظم ابن جناب ڈاکٹر سالک اعظم صاحب ارریہ وغيرہ کو کہ ان کی دعوت پر ہمیں یہ سنہرا موقع ملا اور انہوں نے پٹنہ میں ساری سہولیات کے ساتھ ہمیں بہت کچھ سوچنے،سیکھنے اور کرنے کا ایک جذبہ اور حوصلہ فراہم کیا*۔*انشا۶اللہ ہم اور جمعيت علما۶ ارریہ کی ہماری ٹیم نے جو کچھ سیکھا ہے اسے مل جل کر اپنے اپنےحلقہ اثر تک پہونچانے کی بھرپور کوشش کریں گے*۔*ہماری ٹیم میں احقر کے علاوہ ضلع ارریہ سے نوجوان و فعال علما۶ کرام جناب مفتی ہمایوں اقبال صاحب ندوی،مولانا مصور عالم صاحب ندوی اور مولانا عمر فاروق صاحب قاسمی کے ساتھ ساتھ دو ہندو دھرم گرو بھی شامل تھے*۔     

*محمد اطہر القاسمی جنرل سکریٹری       *جمعیت علما۶ ارریہ**09/02/2019*      *پونے گیارہ بجے شب*

آپ بھی اپنے مضامین ہمیں بھیج سکتے ہیں۔ ہمارا ای میل ہے ۔info@hindustanurdutimes.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close