مدھیہ پردیش

پولیس محتاط رہتی ،تو اُودے پور سانحہ کو روکا جا سکتا تھا : اسد الدین اویسی

بھوپال ،29جون (ہندوستان اردو ٹائمز) آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے راجستھان کے اودے پور میں ایک درزی کے وحشیانہ قتل کے واقعہ کی آج پھر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر راجستھان پولیس محتاط رہتی، تو اس واقعہ کو روکا جا سکتا تھا۔ اویسی نے ایک انٹرویو کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اودے پور واقعہ یقینی طور پر دہشت گردانہ واقعہ ہے۔کنہیا لال نامی شخص کو قتل کرنے کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلو خان اور اخلاق کے قتل بھی دہشت گردی کے واقعات تھے۔اسدالدین اویسی جو مدھیہ پردیش میں شہری بلدیاتی انتخابات کے لئے پارٹی کی مہم کے سلسلے میں آئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ درزی کنہیا لال کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔اگر راجستھان پولیس چوکس رہتی اور کارروائی کرتی تو اس واقعہ سے بچا جا سکتا تھا۔تلنگانہ پولیس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کو دھمکیوں کے معاملہ میں وہاں کی پولیس نے فوری کارروائی کی اور دھمکیاں دینے والوں کو گرفتار کیاگیا۔ راجستھان میں بھی ایسا ہوتا تو شاید اس واقعہ کو روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ راجستھان حکومت ملزمین کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا کہ دو مجرموں نے اودے پور میں کنہیا لال کا قتل کیا اور ویڈیو بنایا۔ انہوں نے کل اس واقعہ کی فوری مذمت کی اور آج بھی اس کی مذمت کرتے ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے تحت سخت ترین سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button