پورنیہ

ضلع پورنیہ کے مسلمانوں کو امارت شرعیہ کا ایک اورتحفہ، دار العلوم امور میں دار القضاء کا قیام آج

پورنیہ4مارچ(آئی این ایس انڈیا) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی اطاعت و فرماں برداری کا حکم دیتے ہوئے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور امیر کی فرماں برداری کا حکم بھی دیا ہے اور مسلمانوں پر ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اپنے تمام جھگڑے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق حل کرائیں، اپنے معاملات میں صلح اور اتفاق کی راہ تلاش کریں ، تاکہ سماج میں بگاڑ اور بد امنی پیدا نہ ہو اور اللہ کی زمین امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔ اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے تمام اختلافات کا فیصلہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق کرائیں ۔ اسی شرعی ضرورت کی تکمیل کے لیے آج سے ایک سو سال قبل ۱۹۲۱ء؁ میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا ، پھر مختلف مراحل میں بہار ، اڈیشہ ، جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع میں ذیلی دار القضاء قائم کیے گئے اور قاضی مقرر کیے گئے ۔ اس وقت مرکزی دارا لقضاء سمیت بہار ، اڈیشہ ، جھارکھنڈ اور بنگال میں کل دارا لقضاء کی تعداد ۶۹ ہے۔ضلع پورنیہ مسلمانوں کی کثیر آبادی والا ضلع ہے بتیس لاکھ چونسٹھ ہزار سے زیادہ آبادی والے اس ضلع میں تقریباً چالیس فیصد مسلمان آباد ہیں ۔ یہاں پہلے سے امارت شرعیہ کے دو دار القضاء بارا عید گاہ اور مادھو پارہ ، شہر پورنیہ میں قائم ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے یہاں ایک اور دار القضاء کی ضرورت تھی ، خاص کر امور بلاک اور اس کے مضافاتی بلاکوں میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے ، پورنیہ میں قائم دوسرے دار القضاء سے دوری ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو دشواریاں ہو رہی تھیں ، اس لیے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے دار العلوم امور متصل ہلال پور چوک ڈاکخانہ امور ، ضلع پورنیہ میں دار القضاء کی منظوری دے دی ہے ۔ جس کا افتتاح آج مورخہ ۵؍ مارچ ۲۰۲۱ء؁ روز جمعہ کو ہونے جارہا ہے ۔ اس موقع پر ایک عظیم الشان افتتاحی اجلاس دار العلوم امور میں ۵؍ مارچ ۲۰۲۱ء؁ کو بعد نماز مغرب مولانا محمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ کی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے ۔ اس اجلاس میں مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ ، مولانا محمد انظار عالم قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دار القضاء امارت شرعیہ مولانا محمد ارشد قاسمی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ مادھو پارہ ، شہر پورنیہ،مولانا محمد سرور عالم قاسمی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ بارا عیدگاہ ، مولانا عابد انور صاحب رکن دار العلوم امور کے علاوہ مقامی علماء کرام کا دار القضاء کی اہمیت و افادیت ، کلمہ کی بنیاد پر ملت کا اتحاد، تبلیغ دعوت و دین کی اہمیت، دینی و عصری تعلیم کا فروغ، اردو زبان کی ترقی و تحفظ،معاشرہ میں عدل و انصاف کی ضرورت، اسلامی قوانین کی اہمیت و ضرورت ، قانون شریعت کی تفہیم و تشریح، موجودہ حالات میں علماء کی ذمہ داریاں، خواتین میں دینی و تعلیمی بیداری، ایک صالح و پر امن معاشرہ کی تعمیر، جہیز تلک جیسی سماجی برائیوں کا خاتمہ جیسے ضروری اور اہم عنوانات پر خطاب ہوگا ۔اسی اجلاس میں دار القضاء امور کے لیے قاضی شریعت کی تقرری کا اعلان بھی ہو گا اور انہیں سند دی جائے گی۔ دار العلوم امور کے ناظم مولانا مفتی شمس توحید مظاہری نے اجلاس کی تیاریوں کے سلسلہ میں خبر دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور لوگوں کو دعوت نامے تقسیم کرد یے گئے ہیں ۔ یہاں دار القضاء کے قیام کے فیصلے سے علاقہ کے لوگوں میں بہت ہی خوشی کا ماحول ہے ، لوگوں نے اس کو ضلع پورنیہ کے مسلمانوں کے لیے امارت شرعیہ کا بڑا تحفہ قرار دیا ہے اور اس کے لیے حضرت امیر شریعت مد ظلہ اور ناظم امارت شرعیہ کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے تمام مسلمانوں سے عموما اور امور ، بیسی اور روٹا بلاک ضلع پورنیہ کے علماء، ائمہ ، دانشوران ، نقباء امارت شرعیہ اور عوام و خواص سے خاص طور پر گذارش کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اجلاس میں شریک ہو کر علماء کرام کے خطاب سے فائدہ اٹھائیں اور نظام قضاء کو استحکام بخشیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close