دہلی

پارلیمنٹ احاطہ سے بندروں کو بھگانے کیلئے عجیب وغریب ترکیب

نئی دہلی، 28جون (ہندوستان اردو ٹائمز) پارلیمنٹ ہاؤس احاطہ میں ہنگامہ کرنے والے بندروں کو بھگانے کے لیے 4 افراد کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ چاروں لوگ لنگور کی آواز نکال کر اور دوسرے طریقوں سے بندروں کو بھگا ئیں گے۔ یہ اطلاع پارلیمنٹ سیکورٹی سروس کے سرکلر سے ملی ہے۔پارلیمنٹ سیکیورٹی سروس کی جانب سے 22 جون کو جاری کردہ سرکلر کے مطابق یہ معلوم ہوا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بندروں کی موجودگی کثرت سے دیکھی گئی ہے۔

اس کا حوالہ ان رپورٹوں کا ہے جن کے مطابق عمارت کی دیکھ بھال کرنے والے عملہ کے بعض افراد کھانے پینے کی اشیاء کو کوڑے دان اور کھلے میں پھینک رہے ہیں۔پارلیمنٹ سیکیورٹی سروس کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کھانے کے کچرے کو پھینکنا اور کھلی ڈمپنگ بندروں، بلیوں اور چوہوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک بڑا عنصر ہو سکتا ہے۔سرکلر میں تمام متعلقہ فریقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچ جانے والی کھانے پینے کی اشیا کو ادھر ادھر نہ پھینکیں۔

سرکلر کے مطابق پارلیمنٹ سیکیورٹی سروس نے بندروں پر قابو پانے کے لیے چار افراد کی خدمات حاصل کی ہیں۔پارلیمنٹ میں بندروں کو بھگانے کے لیے لیے گئے ایک کارکن نے میڈیا کو بتایا کہ پہلے بندروں کو بھگانے کے لیے لنگور رکھے جاتے تھے ،لیکن اب اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ میں بندر بھگانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ ملازم نے کہا کہ ہم لنگور کی آواز نکال کر اور دوسرے طریقوں سے بندروں کو بھگا ئیں گے۔بندروں کو بھگانے کے لیے دو قسم کے کارکن رکھے گئے ہیں جن میں ایک کیٹیگری ہنر مند اور دوسری غیر ہنر مند ہے۔ ہنر مند کارکنوں کو 17,990 روپے اور غیر ہنر مند کارکنوں کو 14,900 روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button