ویڈیوز

آج تک نے بی جے پی نیتا کی ای وی ایم والی گاڑی کو لاوارث بتایا تو کانگریس نیتا نے کہا ڈرو مت ، سچ بولنے کی ہمت دکھاؤ

 

آج تک نے بی جے پی نیتا کی ای وی ایم والی گاڑی کو لاوارث بتایا تو کانگریس نیتا نے کہا ڈرو مت ، سچ بولنے کی ہمت دکھاؤ

آسام اسمبلی انتخابات میں ای وی ایم مشینوں کو لے کر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہاں راتا ہاری سیٹ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔ یہاں کی پولنگ ٹیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کی کارسے ای وی ایم لے کر اسٹرانگ روم پہنچی تھی ، جس کے بعد کریم گنج میں تشدد بھڑک اٹھاتھا۔ راتا باری سیٹ اسی ضلع میں آتی ہے۔ ٹیم کے ممبران کو الیکشن کمیشن نے برخاست کردیا ہے۔

ذرائع نے اس بارے میں معلومات دی ہیں۔پولنگ ٹیم کے ممبران جس کارمیں ای وی ایم لے کر آئے تھے وہ پتھرکنڈی کے بی جے پی امیدوار کرشنیندو پال کی کار تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکمران بی جے پی پر اس واقعے سے متعلق دھوکہ دہی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔آسام میں جمعرات کے روز دوسرے مرحلے میں پولنگ ہوئی ، جس میں 77 فیصد ووٹنگ ہوئی اور کچھ مقامات پر تشدد کی اطلاعات تھیں۔ اسی سلسلے میں کریم گنج میں بھی تشدد ہوا اور اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راتا ہاری میں تعینات الیکشن کمیشن کی پولنگ ٹیم کی کار راستے میں خراب ہوگئی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ٹیم ووٹنگ کے بعد پولنگ اسٹیشن سے ایک ای وی ایم لے کر اسٹرانگ روم جارہی تھی۔ کار خراب ہونے کے بعد وہیں پریذائڈنگ آفیسر نے کار بدلنے کے لئے سیکٹر آفیسر کو فون کیا، اس کے بعد انہیں دوسری کار بھیجنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔تاہم یہاں کے پولنگ عملے نے کار کا انتظار کرنے کے بجائے ایک نجی کار میں لفٹ لے لی ۔۔ کرشنیندو پال کے انتخابی حلف نامے میں یہ کار ان کی بیوی مادھومیتا پال کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ جس کا رجسٹریشن نمبر: AS10B0022 ہے۔جب یہ کار اسٹرانگ روم والے علاقے میں پہنچی تو اپوزیشن کے حامیوں نے اس کار کو پہچان لیا اور اس پر حملہ کردیا۔ ڈرائیور کے ساتھ پولنگ عملہ بھی اپنی جان بچانے کی کوشش کی ۔ الیکشن کمیشن ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث پولنگ عملہ کو برخاست کردیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی پولنگ اسٹیشن 149 پردوبارہ انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close