اہم خبریں

وزیراعظم مودی نے ’مہاگٹھ بندھن ‘‘کو نشانہ بنایا ،جیت پر بھی اے وی ایم قصوروار

ممبئی20جنوری(یواین آئی)وزیراعظم نریندرمودی نے آج ایک بار پھر کولکتا میں حزب مخالف کے زبردست اجتماع کے بعد ’’مہاگٹھ بندھن ‘‘کوسخت نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شکست کے خوف سے انہوں نے پھر سے اے وی ایم مشینوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ان لوگوں کا وزیراعظم کے امیدوار پر اتفاق نہیں ہے۔
اتوارکومودی مہاراشٹر اور گوا کے بی جے پی ورکوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومتوں میں سیاسی ورکرس ’’دلال ‘‘کہے جاتے تھے،لیکن آج بی جے پی کے ورکروں کو’’ماں بھارتی کے لال ‘‘کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔مودی نے الزام عائد کیا کہ حزب مخالف کے لیڈران ایک دوسرے کے لیے اتحاد بنارہے ہیں اور ہم نے سواسوکروڑ لوگوں کے لیے اتحاد تشکیل دیا جوکہ طاقتورصورت حال اختیار کرچکا ہے۔
مودی نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ کولکتا کی ریلی میں سیاسی پارٹی لیڈران یا ان کے بیٹے شریک تھے ،یا وہ اپنے بیٹوں کے لیے سیاسی زمین تیار کرنے پہنچے ،ان کے پاس دھن شکتی ہے ،لیکن ہمارے پاس’’جن شکتی ‘‘(عوامی طاقت)ہے۔اب انہیں ہماری عوامی طاقت سے شکست کا خوف ستا رہا ہے ،اس لیے 2019عام انتخابات کے مدنظرای وی ایم کو ویلن کے طورپر پیش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ فطری امر ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں الیکشن جیتنے کی خواہش رکھتی ہیں ،لیکن اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مذکورہ پارٹیاں عوام کو بے وقوف سمجھتی ہیں اور ان رنگ ڈھنگ بدلنا چاہتی ہیں۔
مودی نے مزید کہا کہ جس دیش کے لوگ اپنی جمہوریت کو بچانے کی بات کہہ رہے تھے ،اسی منچ پر ایک لیڈر نے بوفورس گھوٹالہ کی یاد دلا دی ،آخر سچائی کب تک چھپتی ہے ۰کبھی نا کبھی تو سچ باہر آہی جاتا ہے،جوکل کولکتا میں ہوا ،اس سے لگتا ہے ،یہ مہاگٹھ بندھن ایک انوکھا بندھن ہے ،یہ بندھن تو نامداروں کا بندھن ہے۔یہ بندھن تو بھائی بھتیجہ واد کا ،بدعنوانی کا ،گھوٹالوں کا ،وغیرہ کا ایک عجیب وغریب سنگم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دوست اور گوا کے وزیراعلیٰ منوہر جی کے لیے دعا کرفتے ہیں جوکہ گوا میں کافی مقبول ہیں اور جدید گوا کے معمار ہیں ،ان کی جلدی شفا حاصل ہوگی ۔اس حالت میں بھی وہ کام کررہے ہیں جوکہ ہمارا حوصلہ افزا بڑھاتا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close