بین الاقوامی

نیتن یاہو کے کٹر انتہا پسند اتحادیوں کے ساتھ معاملات طے، حکومت سنبھالنے کا مرحلہ آگیا

ایک بار پھر برسر اقتدار آنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وزارت عظمٰی کا دفتر سنبھالنے سے ایک روز قبل بدھ کو اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کے ساتھ معاملات طے کرکے اسرائیلی کی سب سے زیادہ کٹر دائیں بازو کی اتحادی اور نسل پرستی کی حامی حکومت کی راہ ہموار کر لی۔

بیرونی دنیا میں بطور خاص زیر اعتراض رہنے والی نیتن کی ان اتحادی جماعتوں نے مل کر اس حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ مسائل اور ٹکراو کے حوالے سے پالیسی کی سطح پر بہت بڑی تبدیلی سامنے نہیں لائی جا ئے گی۔

نیتن یاہو جو کہ خود بھی رجعت پسند اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ ہیں نے مزید کٹر یہودی جماعتوں کے سات مل کر انتخابی کامیابی ماہ نومبر کے شروع میں حاصل کی، اس کے بعد تقریبا دو ماہ تک حکومت میں آنے کے لیے صیل کو فائنل کرنے میں لگ گئے۔

اسرائیل کی انتہائی کٹرجماعتوں کے ساتھ تعاون کرنے اور ان کی مدد لینے کے بعد نیتن یاہو کو چھٹی بار حکومت کا موقع ملا ہے۔ نیتن کی اتحادی جماعتوں ‘ جیوش پاور پارٹی ، ریلیجئیس زائنوازم اور شاس پارٹی وغیرہ کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر سخت تحفظات اور تنقید سامنے آئی۔

کیونکہ یہ یہودی جماعتیں مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دو ریاستی حل کی انکاری ہیں اور کسی بھی صورت فلسطین کی آزاد ریاست قبول کرنے کو تیار نہیں۔حتیٰ کہ اسرائیل کی اس بارے میں کمٹمنٹس پوری کرنے کی کٹر مخالف ہیں۔

یہ نئی حکمران یہودی جماعتیں اسرائیلی نظام انصاف کو بھی یہودی ایجنڈے کے تحت تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ عرب اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی یہودی سوچ کے غلبے کا شکار ہیں۔

اس پس منظر میں ریلیجئیس زائنوازم کے سربراہ اور نامزد وزیر خزانہ بیزلیل سموتریش نے ‘ وال سٹریٹ جرنل میں لکھا ہے’ اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں امریکہ کے لبرل ماڈل کے مزید قریب آنا چاہتی ہیں ، جس کے تحت عبادت کی آزادی کے لیے اور عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔’

مغربی کنارے کے اسرائیل سے الحاق کرنے سے متعلق آوازوں کو آگے بڑھانے کی کوشش جو امریکہ اور عرب دنیا کے ساتھ معاملات میں رخنہ لا سکتی ہے پر لکھا ‘ ہمارا نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ ہمارے سیاسی یا قانونی سٹیٹس کے تابع نہیں ہے۔’

فلسطینیوں کی ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے امن بات چیت کے حوالے سے 2014 سے کوئی مثبت اشارہ نہیں ہے بلکہ امکان پہلے ہی ترایک دائرے میں ہے اب مزید تاریک ہو سکتا ہے۔مغربی کنارے میں رواں سال کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور کریک ڈاونز میں اضافے کے علاوہ فلسطینیوں کی سرگرمیاں بھی بڑھی ہیں۔

اسی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو بھی کہنا پڑا ‘ اسرائیلی حکومت جس نصب العین ایک انتہا پسند اور رنگ برنگی شناخت ہے۔

دوسری جانب سموتریش کی جماعت کا کہنا ہے’ مغربی کنارے کا باضابطہ الحاق کچھ سفارتی مسائل کی وجہ سے فی الحال مناسب نہیں ہے۔ اس لیے ہم اسے غیر علانیہ اور ڈیفیکٹو انداز میں دیکھیں گے۔ یہی معاملہ یہودی بستیوں کے تعمیر کے حوالے سے ہو گا۔

نیتن یاہو کی حکومت فوری طور پر قانون سازی کی طرف لپکنا چاہتی ہے یہ قانون سازی جیوش پاور پارٹی کے سربراہ بین گویر کے پولیس سے متعلق اختیارات میں توسیع کے حوالے سے ہو گی۔ بین گویر 2007 میں یہودی دہشت گرد گروپ کی مدد کے حوالے سے نامزد رہے ہیں تاہم وہ انکار کرتے ہیں۔ بین گویر کی جماعت سمیت سبھی اتحادیوں کو مطمئن کرنے کے لیے قانونی ترامیم ضروری ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button