مضامین

نسوانی ادب کا ایک منفرد نام ”ڈاکٹر کشور جہاں زیدی” : از قلم : عارفہ مسعود عنبر

اسلام میں دور جدید سے ہی ایسی باکمال خواتین پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے اطاعت گزار بیٹی ، سراپا شفقت بہن ، اور با وفا شریک بعد کے بہترین فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے علم و فضل کی قندیلیں بھی روشن کیں اور ان کے دم سے تحقیق و تدقیق کے لا تعداد خرمن آباد ہوتے رہے ۔اردو ادب کی آبیاری اور خدمت میں بھی خواتین نے مردوں کے شانہ بہ شانہ اپنے فرائض انجام دیے ہیں ۔ اردو ادب کا ہر باب چاہے وہ شاعری ہو یا افسانہ نگاری ، ناول نگاری ہو یا انشاء پردازی ، تحقیق و تنقید ہو یا فرہنگ نویسی ، غرض یہ کہ اردو ادب کی ہر صنف میں خواتین نے گراں قدر خدمات انجام دیکر اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا ہے ۔ اردو ادب کے فروغ میں خواتین نے جس طرح حصہ لیا ہے وہ ان کی سیاسی اور سماجی بصیرت اور شعور کی پختگی اور علم و ادب سے ان کے گہرے شغف کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کرتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مرد اساس معاشرہ خواتین کی صلاحیتوں کو بہت مشکل سے قبول کرتا ہے لیکن پھر بھی خواتین علم و ادب سے وابستہ ہو کر اپنی قابلیت ،لیاقت ، دانش وری اور شعور کا لوہا منواتی رہی ہیں ۔

اردو ادب میں روہیلکھنڈ کے خطہ سنبھل سے ایسا ہی ایک نسوانی نام ابھر کر ہمارےسامنے آتا ہے ڈاکٹر کشور جہاں زیدی۔ جنہیں جہان ادب میں اہل علم کشور باجی اور اطفال خاندانی کشو امی کہ کر پکارتے ہیں۔کشور باجی اردو ادب کی ایسی فعال اور متحرک قلمکاروں میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے اپنی تمام زندگی ادب کی خدمت میں صرف کر دی اور جہان کتب میں خود کو غرق کر کے کاغذ اور قلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ بقول عزہ معین (باجی کی شاگردہ) ” ہم جب بھی باجی کے گھر جاتے باجی کی چارپائی چاروں طرف سے کتابوں سے بھری ہوتی ، اور جب باجی پڑھتے پڑھتے تھک جاتیں تو انہیں کے بیچ تھوڑی سی جگہ کر کے سو جاتیں”ڈاکٹر کشور جہاں زیدی بیک وقت ایک کامیاب معلمہ، محققہ ،مترجمہ، انشاء پرداز ، افسانہ نگار اور تذکرہ نویس ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ بچے کے نام کے اثرات اس کی زندگی پر ضرور نمایاں ہوتے ہیں۔ اسی لیے تعلیم یافتہ اور با شعور والدین بچے کا نام تجویز کرتے وقت معنی کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ کشور کے معنی ولایت ،ملک و سلطنت کے ہیں ڈاکٹر کشور جہاں زیدی نے بھی اپنے نام ہی کے مطابق علم و ادب کی ایسی سلطنت قائم کی ہے جس میں اگتے ہوئے آفتاب کی کرنیں جہان ادب کی روشنی میں مزید اضافہ کر رہی ہیں ۔ اور زمانہ ان کے علوم بے پناہ کی ضیاپاشیوں سے مستفیض ہو رہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ کشور باجی نے سمندر کی تہوں سے لاتعداد ذخائر نکال کر آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں کو چیر کر تحقیق و انکشافات کے نت نئے پرچم لہرائے ہیں ۔ کشور جہاں زیدی نے اس ذخیرے کو نہایت دیدہ ریزی اور جگر کاوی کے ساتھ اکھٹا کرنے کا ناقابلِ فراموش کارنامہ انجام دیا ہے ۔کشور باجی کی ادبی خدمات پر گفتگو کرنے سے پہلےقارئین کو ان کی شخصیت اور سیرت سے متعارف کروانا ضروری ہے ۔

کشور باجی سے ہماری ملاقات آٹھ برس پہلے ایم جی ایم پی جی کالج سنبھل میں ایک سیمینار کے دوران ہوئی تھی ۔کالج کے آ ڈیٹوریم میں ادبی ستاروں کی کہکشاں سجی ہوئی تھی ۔وہ (کشور باجی ) سامنے مسند پر (اسٹیج)بیٹھی، سفید سنگ مرمر سے تراشی ہوئی کسی سنگ تراش کا جیتا جاگتا مجسمہ محسوس ہو رہی تھیں۔ گلابی ساڑی ان کے چہرے کی رنگت سے مشابہ ، رمیانہ قد ، متناسب جسم ،چوڑی پیشانی ، قدرے چوڑی ناک ، آنکھوں میں غور و فکر کی روشن قندیلیں، چہرے پر سنجیدگی اور خود اعتمادی کی آمیزش آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی ۔پروگرام کے اختتام کے بعد کالج کے پرنسپل ڈاکٹر عابد حسین حیدری کے آفس میں ہم سب مقالہ نگاران ، مہمانانِ خصوصی ، اور دیگر پروفیسرز کی چائے کی محفل جمی۔ ہم اور کشور باجی دونوں ایک سائیڈ میں برابر برابر کرسیوں پر بیٹھے تھے ۔ تب ہی عابد صاحب نے کشور باجی سے متعارف کروایا کہ آپ آزاد ڈگری کالج کی لیکچرار ڈاکٹر کشور جہاں زیدی ہیں ۔گفتگو کا سلسلہ جاری شروع ہوا تو جس طرح پہلی نظر میں ہی آپ کی جاذب شخصیت نے اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔ اسی طرح آپ کے شیریں لب و لہجہ اور بہترین انداز گفتگو نے اپنا گرویدہ کر لیا ، پہلی ملاقات کی مختصر سی گفتگو نے آپ کی سوچ و فکر ، تعمیری ذہن اور تخلیقی صلاحیتوں کے روشن پہلوئوں سے آشنا کر دیا ۔اس کے بعد ملاقاتوں کےمواقع تو کم ہی میسر ہوئے البتہ فون پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا ۔کشور باجی سے جب بھی گفتگو ہوتی ان کی نیک سیرتی، خوش اخلاقی ،خیال و افکار کے خوبصورت گوہر ،قلب و ذہن کے کینوس پر اپنے رنگ چھوڑ جاتے ۔زندگی جب مصائب و مشکلات سے دو چار ہوتی ہے تو اکثر لوگ مایوس ، ناامید ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے دل مردہ ہو کر ترقی کے دروازے بند کر دیتے ہیں تاہم وہ زندگی بے حس و حرکت گزار کر گمنامی کے اندھیرے میں کھو جاتے ہیں، لیکن کشور باجی نے اپنی ازدواجی زندگی سے شکست کھانے کے بعد بھی یہ بات ثابت کر دی کہ عزم ،حوصلہ ،ہمت صبر و استقلال اور قوت برداشت کا نام کامیابی ہے ۔ ان نامساعدحالات کو شکست دے کر فتح کے پرچم لہرانے والی کشور باجی خواتین کے لیے ایک آئیڈیل خاتون ہیں۔

ڈاکٹر کشور جہاں زیدی کا خاندانی ماحول علمی و ادبی ہے آپ ضلع سنبھل میں 30 اگست 1953 کو پیدا ہوئیں ۔اپ کے والد سید فرزند علی زیدی سنبھل کے معزز ،باشعور اور با وقار شخصیات میں شمار کئے جاتے تھے اور درس تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ تھے ۔لیکن اس کے باوجود آپ قدیم روایتوں کے پاسبان اور حامی تھے ۔ وہ جدید تہذیب اور لڑکیوں کوا علی تعلیم دلانے کے حق میں نہیں تھے۔ آپ کے خیال میں لڑکیاں آٹھویں ، دسویں تک پڑھ لکھ کر اس لائق ہو جائیں جو خط و کتابت کر سکیں باقی گھریلو کام کاج میں مہارت حاصل کریں. والد کے اسی خیال کے زیر اثر کشور باجی کو ہائی اسکول سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر روک لگا دی گئی۔ لیکن کشور باجی کے حوصلے کو سلام کہ آپ نے جدو جہد جاری رکھی ۔اور تاریخ شاہد ہے کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ۔آخر کار آگے کی تعلیم پرائیویٹ طور سے جاری رکھنے کے لیے والد کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گئیں ۔انٹر میڈئیٹ امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔1974 میں بی اے اور 1976 میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے پاس کیا ۔ 1978 میں بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور 1997 میں اُنہوں "سر سید سرسوی کی ادبی خدمات ” پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔

ادبی خدمات :
1981 میں سلیم ضیاء رامپوری کے ایک مؤثر ناول "ٹکراؤ” کا ہندی میں ترجمہ کیا ۔اس ناول میں مشرقی اور مغربی خیالات اور جذباتی بے راہ روی کا ٹکراؤ دکھایا گیا ہے ۔ اس ناول کا ڈاکٹر کشور جہاں زیدی نے نہایت کامیابی کے ساتھ ترجمہ کیا ہے ۔ترجمہ میں سادہ اور عام فہم زبان کا استعمال ہے ۔تاکہ کم پڑھے لکھے قاری کی بھی سمجھ میں آسانی سے آ سکے ۔آپ کا پہلا افسانہ "پالنا ” 1983 میں "خاتون مشرق” میں شائع ہؤا اس۔ کے علاؤہ۔ ماہ نامہ "شمع” میں چند افسانے اور شائع ہوئے ۔اپنے اپنے انداز سے ادب کی خدمت سارے ہی قلم کار کرتے ہیں لیکن کشور جہاں زیدی اپنے قلم سے نہ صرف ادب کی خدمت کر رہی ہیں بلکہ اپنے وطن کی سرزمین سے گوہر نایاب چن کر انہیں زیور طباعت سے آراستہ کر کے دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہیں ۔ دیگر تواریخ کی طرح اردو ادب کی تاریخ بھی تعصب تنگ نظری اور بے اعتنائی سے مبرّا نہیں رہی۔ "علی جوہر سرسوی علمی و ادبی پس منظر” میں ڈاکٹر کشور جہاں زیدی لکھتی ہیں ” بہت سے بے نشانوں کو نام و نشان اور صاحب عظمت بنا کر پیش کیا گیا اور نہ جانے کتنی قابل قدر شخصیات کو نظر انداز کر دیا گیا ، خصوصاً چھوٹی بستیوں اور دیہات میں بسنے والے ادباء اور شعراء کو تاریخ میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ” ڈاکٹر کشور جہاں زیدی نے ایسے ادباء اور شعراء کی تلاش و جستجو کے بعد ان کا کلام دستیاب کیا اور ان میں سے چند کا تعارف مختلف اخبارات اور رسائل کے ذریعے منظر عام پر لائیں 2004 میں "محمد سرسوی حیات اور شاعری” کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی 2004 میں ہی جوہر سرسوی کے غیر مطبوعہ کلام سے غزلیات منتخب کر کے "آئینہ جوہر ” کے عنوان سے شائع کروائیں۔کشور جہاںزیدی کا عظیم کارنامہ "تذکرہ حسینی ” کا فارسی سے اُردو ترجمہ ہے ۔یہ میر حسین دوست سنبھلی کی فارسی تخلیق ہے اس کا شمار بارہویں صدی ہجری کے فارسی کے اہم تزکروں میں ہوتا ہے اس تذکرے میں 554 شعراء کا ذکر ہے ۔کشور جہاں نے اس فارسی تذکرے کا اردو میں ترجمہ ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی تحریک پر کیا تذکرہ حسینی کا کوئی مطبوعہ یا قلمی نسخہ سنبھل تک میں موجود نہیں تھا کشور باجی نے کئی کتب خانوں کی خاک چھان کر آخرکار مولانا آزاد لائبریری علی گڑھ سے اس کا نسخہ حاصل کیا اور2008 میں اردو ترجمہ کر کے شائع کروایا۔سنبھل کے شعراء کے تذکرے پہلے بھی شائع ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک جامع اور مستند تذکرے کی ضرورت تھی ۔ڈاکٹر کشور جہاں نے اس ضرورت کو 2016 میں” میری زمین کے چاند ستارے ” مرتب کر کے پورا کیا۔ یہ کشور باجی کا ادب پر احسان ہے کہ انہوں نے اس تذکرے میں سنبھل کے حال اور ماضی کے تمام شعراء کو یکجا کر کے ان کی ادبی خدمات کا ایک خوبصورت گلدستہ تیار کر دیا جس کی مہک نے سنبھل کے ادبی گلشن کی خوشبو کو ایک نئی مہک سے معطر کر دیا ۔”میری زمین کے چاند ستارے ” کا مطالعہ کرتے وقت راقم کی آنکھ بھی نم ہوئےبنا نہ رہ سکی کیونکہ اس میں اجداد اور خاندان کے کچھ ایسے شعراء کا بھی ذکر ہے جن کے بارے میں ہم نے امی سے سنا تو تھا لیکن مکمل معلومات اور ادبی خدمات کی جانکاری سے محروم تھے۔

سنبھل کی سرزمین پر سید خانوادے کے چشم و چراغ ڈاکٹر طارق قمر کی ادبی و شعری خدمات کے اعتراف میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ گنگا جمنا کے ساحلوں پر ۔طارق قمر کے عنوان سے مرتب کیا جو 2017 میں منظر عام پر آیا436 صفحات کی اس کتاب میں ڈاکٹر کشور کے علاوہ 51 معروف اور غیر معروف قلم کاروں کے مضامین شامل ہیں ۔کتاب کے آخر میں ڈاکٹر طارق کے لافانی کلام کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔کتاب کے پہلے مضمون” اردو کے ساحلوں پر سیپیاں دعاؤں کی” میں ڈاکٹر کشور جہاں رقم طراز ہیں "مجسمے تو پہلے ہی پتھروں میں قید ہوتے ہیں سنگ تراش صرف اعتراف کے فاضل پتھر ہٹا دیا کرتا ہے اور وہ مجسمے از خود باہر آ جاتے ہیں ۔طارق قمر کی شاعری اور ان کے ادبی سفر پر مبنی کتاب کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔اس کتاب کی تخلیق بالک ایسے ہی کسی مجسمے اور کہرے سے نکلی ہوئی اس پرچھائیں کی طرح ہے جو روشنی بڑھنے کے ساتھ ساتھ نمایاں اور صاف نظر آنے لگتی ہے ۔کبھی مسلسل تیشہ کاری اور تخلیقی کوششوں کے باوجود کسی مجسمے کی تجسیم و تشکیل نہ ہو پانے کا عمل خدا کے ہونے پر دال ہوتا ہے کیونکہ ارادوں اور منصوبوں کی ناکامی بھی خدا کے ہونے کی دلیل ہے ۔ساتھ ہی کبھی کبھی اہم اور بڑے کاموں کا غیر ارادی طور پر مکمل ہو جانا بھی اسی سمت اشارہ کرتا ہے کہ خدا موجود ہے ۔”گنگا جمنا کے ساحلوں پر ۔طارق قمر” ایک ایسا ہی ادبی اور تہذیبی نقش ہے، جو لاشعوری طور پر اچانک ذہن کی بساط پر ابھرتا ہے اور پھر لوح دل پر اس طرح نقش ہو جاتا ہے کہ اس کو مٹانے اور کھرچنے میں انگلیاں فگار ہونے کے اندیشے اور خدشے پیدا ہونے لگتے ہیں” (گنگا جمنا کے ساحلوں پر صفحہ 13) غزل کے ساتھ ساتھ علی ہادی جوہر سید سرسوی نے مرثیہ نگاری اور قصیدہ نگاری میں جو افکار و اظہار کے جوہر دکھائے وہ اس طور پر اہل و علم اور دانش کے سامنے نہیں آ سکے جس طرح جوہر شناسی کا تقاضہ تھا ۔ڈاکٹر کشور جہاں جوہر سرسوی کے منتخب قصائد پر مشتمل مجموعہ 2017 میں منظر عام پر لائیں ۔ڈاکٹر کشور کا یہ قابل ستائش کارنامہ تفہیم قصیدہ اور تفہیم عقیدہ دونوں کا پرتو ہے ع:
شکر خالق کا ہے ایک یہ کام بھی پورا ہوا
کاوشیں ہیں یہ سبھی کشور جہاں کی باخدا
شاعری کے نادر و نایاب جوہر دیکھ لیں
یہ ادیبوں سے کہو افکار جوہر دیکھ لیں
اس کے علاوہ قصیدہ نگاران روہیل کھنڈ اور "میری زمین کے چاند ستارے” جلد دوم زیر ترتیب ہیں ۔
اردو کے فروغ کے لئے ڈاکٹر کشور جہاں زیدی مسلسل کوشاں ہیں ۔ اسی غرض سے آپ نے 2015 میں "کنزہ فروغ اردو سوسائٹی” قائم کی یہ سوسائٹی اردو کے چراغ روشن رکھنے کے لیے مختلف قسم کے پروگرام جیسے سیمینار، سمپوزیم، وغیرہ کے ساتھ ہی مضمون نگاری ،مقالہ نگاری ، بیت بازی وغیرہ کے پروگرام منعقد کراتی ہے ۔کشور باجی نے عمر بھر تدریسی فرائض انجام دیے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ جہاں تک کشور جہاں زیدی کی ادبی خدمات کے اعتراف اور اعزازات کا تعلق ہے اس کی ایک طویل فہرست ہے۔ جسے اگر ترتیب دیا جائے تو کئ صفحات درکار ہیں۔ آپ کی کتابوں کو درجنوں ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ اتر پردیش اردو اکیڈمی آپ کو کئی کتابوں پر اعزاز دے چکی ہے۔ سرسی سوسائٹی نے ابھی حال ہی میں "حسن زہرا ” ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے ،اللہ کریم سے دست دعا گو ہیں کہ اللہ کریم آپ کو صحت والی لمبی عمر عطاء فرمائے ۔اپ کا قلم اسی طرح رواں دواں رہے ۔امین ثم آمین یا رب العالمین

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button